Wednesday, June 17, 2026
 

پی سی بی کے نئے سینٹرل کنٹریکٹس کا مسودہ تیار، کھلاڑیوں کے معاوضوں میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز

 



پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2026-27 کے سینٹرل کنٹریکٹس کے لیے نئے معاوضوں اور کیٹیگریز پر مشتمل مسودہ تیار کر لیا ہے جس میں کھلاڑیوں کو مختلف فارمیٹس کی بنیاد پر چار ٹریکس میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے نظام کے تحت سینٹرل کنٹریکٹس اے، بی، سی اور ڈی ٹریک کے تحت دیے جائیں گے جبکہ کھلاڑیوں کی ماہانہ تنخواہوں اور میچ فیس میں بھی نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔ نئے مجوزہ ڈھانچے کے مطابق ٹریک اے میں ریڈ بال یا ٹیسٹ اسپیشلسٹ کرکٹرز شامل ہوں گے، جنہیں ماہانہ 40 لاکھ روپے تک معاوضہ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ ٹریک اے بی میں وہ کھلاڑی شامل ہوں گے جو ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں فارمیٹس میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کھلاڑیوں کو ماہانہ 48 سے 50 لاکھ روپے تک دیے جا سکتے ہیں جبکہ سالانہ آمدن 5 کروڑ روپے سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ ٹریک بی سی میں وائٹ بال کرکٹرز کو شامل کیا جائے گا جنہیں ماہانہ 18 لاکھ روپے تک سینٹرل کنٹریکٹ معاوضہ ملنے کا امکان ہے۔ اسی طرح ٹریک سی میں ٹی ٹوئنٹی اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی تجویز ہے جنہیں ماہانہ 12 سے 15 لاکھ روپے تک دیے جا سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ٹریک ڈی میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) اور ڈویلپمنٹ پروگرام سے وابستہ ابھرتے ہوئے کرکٹرز شامل ہوں گے جن کے لیے ماہانہ 10 لاکھ روپے تک معاوضے کی تجویز زیر غور ہے۔ مجوزہ پالیسی کے تحت سینٹرل کنٹریکٹ کی رقم کے علاوہ کھلاڑیوں کو الگ سے میچ فیس بھی دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق فی ٹیسٹ میچ فیس 15 لاکھ روپے، ون ڈے میچ فیس ساڑھے 7 لاکھ روپے اور ٹی ٹوئنٹی میچ فیس 5 لاکھ روپے تک مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ پی سی بی نے کارکردگی کی بنیاد پر خصوصی بونس کی تجویز بھی تیار کی ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر پاکستان کسی آئی سی سی ایونٹ کا ٹائٹل جیتتا ہے تو کھلاڑیوں کو میچ فیس کا 500 فیصد اضافی بونس دیا جائے گا، جبکہ اے سی سی ایونٹ جیتنے کی صورت میں 300 فیصد بونس مل سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹس کے باوجود کھلاڑی مختلف لیگز میں شرکت کرکے اضافی آمدن حاصل کر سکیں گے، تاہم لیگ کرکٹ کھیلنے کی اجازت ہر کھلاڑی کے ٹریک اور کیٹیگری کے مطابق دی جائے گی۔ پی سی بی کی جانب سے نئے سینٹرل کنٹریکٹس کا حتمی اعلان جلد متوقع ہے، جس کے بعد قومی کرکٹرز کی نئی کیٹیگریز اور مراعات باضابطہ طور پر سامنے آئیں گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل