Loading
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے کے بعد ایرانی تیل کی برآمدات میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے جب ایرانی خام تیل لے جانے والے 3 بڑے آئل ٹینکر کو امریکی بحری ناکہ بندی کے دائرے سے نکلنے دیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا انکشاف آئل ٹینکروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ٹینکر ٹریکرز نے کیا۔
ان کے بقول دو سپر ٹینکروں میں مجموعی طور پر تقریباً 38 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل جبکہ تیسرے ٹینکر میں 10 لاکھ بیرل خام تیل موجود تھا۔
یہ تینوں جہاز امریکی بحریہ کی سخت نگرانی اور کری ناکہ بندی والے سمندری راستے سے گزرنے کے بعد اپنی منزل کی جانب روانہ ہوچکے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت ایران کو خام تیل اور دیگر ایندھن کی برآمدات فوری طور پر دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران پر عائد بعض اقتصادی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کی جائے گی، جس سے بینکاری، شپنگ، ٹرانسپورٹ اور انشورنس کے شعبوں کو بھی ریلیف ملے گا۔
اس معاہدے پر دستخط جمعے کے روز 19 جون کو سوئٹزرلینڈ کے ایک سیاحتی علاقے میں واقع پہاڑی پر بنے ریزروٹ میں ہوگئی۔
تاہم اس سے قبل ہی ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے اور امریکا کی ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی میں بھی نرمی پیدا ہوئی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل