Monday, June 22, 2026
 

برطانوی انجینئرز کا سپر فاسٹ خلائی طیارہ پر کر کام جاری

 



برطانوی انجینئرز مستقبل کا ایسا سپر فاسٹ خلائی طیارہ تیار کر رہے ہیں جو دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر کے انداز کو ہمیشہ کے لیے بدل سکتا ہے۔ 'انوِکٹس' نامی یہ ہائپرسونک طیارہ (جس کا مطلب ہے 'ناقابلِ شکست') 3800 میل فی گھنٹہ سے زائد رفتار سے پرواز کرے گا اور آواز کی رفتار سے پانچ گنا تیز سفر کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ اس رفتار کے ساتھ 21 گھنٹے سے زائد کا لندن تا سڈنی سفر محض 3 گھنٹوں میں مکمل ہو سکے گا۔ یورپی خلائی ایجنسی اور برطانیہ کی خلائی ایجنسی اس منصوبے پر کام کر رہی ہیں، جسے کئی ماہرین مشہور کونکورڈ طیارے کی جدید اور زیادہ طاقتور واپسی قرار دے رہے ہیں۔ انوِکٹس زمین کے ماحول کی بیرونی حدود کے قریب تقریباً 80 ہزار فٹ بلندی تک پہنچ سکے گا۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ کسی راکٹ کی طرح عمودی لانچ نہیں ہوگا بلکہ عام مسافر طیاروں کی طرح ہوائی اڈے کے رن وے سے اڑان بھرے گا۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا تو مستقبل میں خلائی سفر بھی اتنا ہی آسان ہو سکتا ہے جتنا آج ایک بین الاقوامی فلائٹ پکڑنا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل