Wednesday, June 24, 2026
 

اسپیس ایکس کے شیئرز میں گراوٹ، ایلون مسک کو صرف سات دن میں 350 ارب ڈالر کا نقصان 

 



واشنگٹن: دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو صرف ایک ہفتے کے دوران تقریباً 350 ارب ڈالر کے بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد ان کی مجموعی دولت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ امریکی مالیاتی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کی دولت میں یہ غیر معمولی کمی بنیادی طور پر ان کی کمپنی اسپیس ایکس کے حصص کی قیمت میں تقریباً 30 فیصد گراوٹ کے باعث ہوئی۔ چند روز قبل اسپیس ایکس کی شاندار مارکیٹ کارکردگی اور حصص کی فروخت کے بعد سرمایہ کاروں میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا تھا، تاہم بعد ازاں کمپنی کے مصنوعی ذہانت سے متعلق منصوبوں کے لیے درکار نئی سرمایہ کاری اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے خدشات نے مارکیٹ کے اعتماد کو متاثر کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس گراوٹ کے نتیجے میں ایلون مسک کی مجموعی دولت تقریباً 1.45 ٹریلین ڈالر سے کم ہو کر 1.1 ٹریلین ڈالر کے قریب رہ گئی ہے۔ اگرچہ وہ اب بھی دنیا کے امیر ترین افراد میں سرفہرست شمار ہوتے ہیں، لیکن ایک ہفتے کے دوران ہونے والا یہ نقصان حالیہ برسوں کے بڑے مالی نقصانات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس کے حصص میں کمی کا اثر صرف کمپنی تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کی منڈیوں پر بھی دباؤ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کار اب مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کے اخراجات، منافع اور مستقبل کی مالی حکمت عملی کا مزید باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ رواں ماہ ایلون مسک نے اسپیس ایکس کے حصص فروخت کے لیے پیش کیے تھے، جس کے بعد ان کی مجموعی دولت ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی اور وہ دنیا کے پہلے "ٹریلینئر" کے طور پر خبروں کی زینت بنے تھے۔ تاہم حالیہ گراوٹ نے ان کی دولت میں نمایاں کمی کر دی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل