Loading
کراچی کے قدیم علاقے کھارادر، میٹھادر اور نشتر روڈ کی تنگ گلیوں میں آج بھی ایسی داستانیں محفوظ ہیں جو شہر کی جدید عمارتوں اور مصروف شاہراہوں کے شور میں کہیں دب سی گئی ہیں۔
انہی گلیوں میں واقع بارہ امام اور سفینہ نجف کی تاریخی امام بارگاہیں ایک ایسا سوال سامنے لاتی ہیں جو شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں: کراچی میں پہلی بار جلوس میں اصلی میں ذوالجناح کہاں سے برآمد ہوا؟
محرم الحرام میں جب ہزاروں عزادار ان گلیوں کا رخ کرتے ہیں تو انہیں صرف ایک جلوس یا مجلس نظر نہیں آتی بلکہ دو صدیوں پر محیط ایک تاریخ دکھائی دیتی ہے، جو برصغیر، نوآبادیاتی دور، بندرگاہی کراچی اور کربلا کی یادوں سے جڑی ہوئی ہے۔
دو سو سال پرانی گلیاں، جہاں عزاداری کی تاریخ سانس لیتی ہے
نشتر روڈ کے قریب واقع بارہ امام اور اس کے اطراف موجودسفینہ نجف، جھولا کربلا، قدیمی امام بارگاہ اور دیگر امام بارگاہوں کی تاریخ 19ویں صدی تک پھیلی ہوئی ہے۔ بعض عمارتوں پر 1803، 1836 اور 1901 کی تاریخیں آج بھی درج ہیں۔
سفینہ نجف اور قدیمی امام بارگاہ کے اردگرد تقریباً ایک درجن امام بارگاہیں موجود تھیں جو اب تقریبا 9 رہ گئی ہیں، اس مقام کا نام 12 امام کے ناموں سے منسوب ہے ۔
یہ وہ زمانہ تھا جب کراچی ایک چھوٹا سا بندرگاہی شہر تھا اور کھارادر سے سولجر بازار تک کے علاقے شہر کا مرکزی آباد حصہ سمجھے جاتے تھے۔
"پاکستان بننے سے پہلے بھی یہاں جلوس نکلتے تھے"
امام بارگاہ سفینہ نجف کے سابق چیئرمین شہید قمر اللہ دتہ کے صاحبزادے جواد حسین اللہ دتہ نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا خاندان تین سے چار نسلوں سے اس امام بارگاہ کی خدمت کر رہا ہے۔
ان کے مطابق "یہ مرکزی امام بارگاہ ہے۔ اس کے اردگرد نو سے بارہ امام بارگاہیں موجود ہیں۔ اسی وجہ سے اس علاقے کو بارہ امام کہا جاتا ہے۔ یہاں جلوسوں کی تاریخ پاکستان بننے سے بھی پہلے کی ہے۔"
وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں یہاں لکڑی کے ذوالجناح برآمد ہوتے تھے اور بعد ازاں 1971 میں پہلی مرتبہ اسی امام بارگاہ کو زندہ ذوالجناح نکالنے کی اجازت ملی۔
"پہلے ہمیں زندہ ذوالجناح کا پرمٹ ملا، پھر لاؤڈ اسپیکر کی اجازت ملی اور پھر دیگر جلوسوں کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔"
ان کے مطابق آٹھ محرم، نو محرم، عاشورہ، چہلم اور 21 رمضان سمیت مختلف جلوس آج بھی اسی علاقے سے وابستہ ہیں اور اطراف کی تمام امام بارگاہیں ان میں شریک ہوتی ہیں۔
جواد اللہ دتہ کے مطابق کراچی میں لکڑی کے ذوالجناح کی روایت بہت پرانی تھی، تاہم زندہ ذوالجناح کے لیے پہلی باقاعدہ اجازت اسی امام بارگاہ کو ملی۔
وہ کہتے ہیں:"1971 میں ہمیں زندہ ذوالجناح کا پرمٹ ملا اور 1972 کے بعد زندہ ذوالجناح باقاعدگی سے برآمد ہونا شروع ہوا۔"
مقامی روایات کے مطابق اس سے قبل کھارادر اور دیگر علاقوں میں لکڑی کے ذوالجناح نکالے جاتے تھے، جن میں سے بعض روایات آج بھی برقرار ہیں۔ 4 محرم الحرام کو کھارادر کے بعض علاقوں میں اب بھی لکڑی کے ذوالجناح برآمد کیے جاتے ہیں جن کی تاریخ ڈیڑھ سے دو سو سال پرانی بتائی جاتی ہے۔
آج کے نوجوانوں کے لیے یہ بات حیران کن ہو سکتی ہے کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب عراق، ایران اور شام کی زیارات کے لیے جانے والے پاکستانی زائرین پہلے اسی جگہ آ کر قیام کرتے تھے۔
ہوائی سفر عام ہونے سے قبل زائرین بحری جہازوں کے ذریعے سفر کرتے تھے اور چونکہ کراچی بندرگاہ اس علاقے کے قریب واقع تھی، اس لیے ملک بھر سے آنے والے زائرین پہلے بارہ امام اور سفینہ نجف میں حاضری دیتے، دعائیں کرتے اور پھر بندرگاہ سے اپنے سفر کا آغاز کرتے تھے۔
جواد اللہ دتہ نے بتایا کہ "1960 اور 1970 کی دہائی میں کراچی میں اس نوعیت کا کوئی اور مرکز نہیں تھا۔ یہ زائرین کا مقام تھا۔ پورے پاکستان سے لوگ یہاں آتے تھے۔"
بارہ امام کی ایک اور انفرادیت آٹھ محرم کا تاریخی جلوس ہے۔ یہ جلوس صرف مذہبی اجتماع نہیں بلکہ برصغیر کے شہر امروہہ کی ثقافتی روایات کا بھی عکاس ہے۔ اس جلوس میں لکڑی کے قدیم علم، مخصوص طرز کے پھولوں سے سجے علم اور روایتی عزاداری آج بھی برقرار ہے۔
مرکزی جلوس یہاں مغرب کے وقت پہنچتا ہے، نماز ادا کی جاتی ہے اور پھر ماتم و عزاداری کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
جواد اللہ دتہ کے مطابق ’’8 محرم کو امروہہ برادری کا تاریخی جلوس یہاں آتا ہے۔ نو محرم کا جلوس بھی انتہائی قدیم ہے اور تمام امام بارگاہیں مل کر اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔‘‘
بارہ امام کے قریب واقع 1803 میں قائم امام بارگاہ جھولا کربلا میں ایک ایسا علم (جھنڈا) بھی محفوظ ہے جسے مقامی لوگ "بشارتی علم" کہتے ہیں۔
جھولا کربلا کے منتظم پروفیسر جاوید نے بتایا کہ "یہ علم تقریباً دو سو سال پہلے افریقہ سے لایا گیا تھا۔ اسے بحری جہاز کے پیچھے باندھ کر کراچی لایا گیا۔ اسی نوعیت کے چند اور علم کھارادر، چھوٹا امام بارگاہ اور دیگر مقامات پر بھی موجود ہیں۔"
ان کے مطابق یہ علم لکڑی سے تیار کیا گیا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کے کمزور حصوں کی مرمت کی گئی، تاہم اس کی اصل ساخت آج بھی محفوظ ہے۔
اُن کے مطابق "یہ تقریباً دو سو سال پرانا تاریخی علم ہے۔ اس میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی گئی، صرف حفاظت کے لیے کچھ حصوں کی مرمت کی گئی ہے۔"
پروفیسر جاوید کے مطابق ان کے پاس برطانوی دور کا وہ تاریخی لائسنس بھی موجود ہے جس کے تحت جلوس نکالنے کی اجازت دی گئی تھی۔
View this post on Instagram
ان کا کہنا ہے کہ "برطانوی دور میں جلوس نکالنے کے لیے باقاعدہ لائسنس جاری کیا گیا تھا۔ ہمارے پاس وہ تاریخی دستاویز آج بھی موجود ہے اور ہر سال اس کی تجدید کی جاتی رہی ہے۔"
ان کے مطابق یہ زمین پہلے سندھ کے میروں کی ملکیت تھی اور بعد ازاں برطانوی دور میں یہاں عزاداری کی سرگرمیوں کو قانونی حیثیت دی گئی۔ "نو محرم کو یہاں نقارہ بجایا جاتا ہے یہ روایت صدیوں پرانی ہے، یہ تالپوروں کی جگہ تھی میر کرم علی تالپور کی حکومت تھی انہوں یہ جگہ ہمیں دی پھر انگریز آگئے تو انہوں نے اجازت دی "
علما، ذاکرین اور فنکاروں کا مرکز
اس علاقے کی شناخت صرف جلوسوں اور امام بارگاہوں تک محدود نہیں رہی۔ بارہ امام، سفینہ نجف اور ان کے اطراف موجود امام بارگاہیں صرف مذہبی مقامات نہیں بلکہ کراچی کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہیں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں کبھی زائرین اپنے بحری سفر سے پہلے رکتے تھے، جہاں دو صدیوں پہلے لکڑی کے ذوالجناح برآمد ہوتے تھے، جہاں کراچی کا پہلا زندہ ذوالجناح نکلا، اور جہاں آج بھی محرم کی راتوں میں ماضی کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل