Loading
لاہور کے علاقے کاہنہ میں گزشتہ شام گھر کی چھت گرنے سے ٹیوشن پڑھنے آئے 14 بچے جاں بحق جبکہ خاتون ٹیچر سمیت 7 زخمی ہوگئے تھے، ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا کہ جس وقت بچے ٹیوشن پڑھ رہے تھے اس وقت چھت پر مرمتی کام جاری تھا۔
اسپتال میں زیر علاج خاتون ٹیچر کا اس حوالے سے ویڈیو بیان سامنے آگیا ہے جس میں انہوں ںے بتایا کہ بارش سے چھت ٹپکتی تھی جس کی وجہ سے چھت پر ٹائلز لگوائی تھیں لیکن مجھے نہیں پتا تھا کہ چھت گر جائے گی، یہ سب اللہ کی طرف سے ہوا ہے۔
خاتون ٹیچر نے بتایا کہ ٹیوشن کے دوران چھت پر کسی قسم کا کوئی کام نہیں ہو رہا تھا بلکہ چھت پکی کروا لی گئی تھی، اس حوالے سے جو کہا جا رہا وہ جھوٹ ہے۔ مالی حالات اتنے اچھے نہیں تھے کہ لینٹر ڈلواتے۔
https://youtu.be/17WcdIkwT6w?si=932oI-XqMewQe-Zo
انہوں نے بتایا کہ مالی حالت اچھے نہ ہونے کی وجہ سے ٹیوشن پڑھاتی ہوں جبکہ میرے شوہر پھل فروخت کرتے ہیں، شوہر گھر کے پاس ریڑھی لگاتے ہیں۔
زخمی خاتون ٹیچر نے بتایا کہ اگر کام ہو رہا ہوتا تو بچوں کو چھٹی دے دیتی، اگر بجلی چلی جائے تب بھی چھٹی دے دیتی ہوں، میں دو سال سے چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھا رہی ہوں اور مجموعی طور پر 30 سے 35 بچے ٹیوشن میں آتے ہیں جبکہ گزشتہ روز 20 سے 22 بچے ٹیوشن آئے تھے۔
خاتون ٹیچر نے کہا کہ میری بیٹی کی حالت بہتر ہے اور وہ اسپتال سے ڈسچارج ہوگئی ہے لیکن میں اس سے ملی نہیں ہوں جبکہ جاں بحق ہونے والے سب بچے اپنے ہی تھے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل