Loading
امریکی ریاست جنوبی ڈکوٹا میں 457 میٹر (1500 فٹ) اونچے کمیونکیشن ٹاور پر صرف بلب تبدیل کرنے کیلئے بار بار چڑھنا بظاہر ایک خطرناک کام لگتا ہے لیکن کچھ لوگ پیسوں کیلئے یہ بھی کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کررہی ہے جس میں ایک شخص کو ٹاور پر چڑھتے دکھایا گیا۔ لیکن لوگوں کی توجہ ویڈیو کے کیپشن کے اُس حصے پر گئی جہاں لکھا تھا کہ ایک دفعہ ٹاور پر چڑھنے اور کام مکمل کرنے کے 20 ہزار ڈالر ملتے ہیں۔ مطلب اگر آپ ٹاور پر دو بار چڑھتے ہیں تو 40 ہزار ڈالر تو آپ کے یونہی بن گئے۔
اگرچہ 20,000 ڈالر فی چڑھائی کا دعویٰ سوشل میڈیا پر بہت مشہور ہے لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔
https://x.com/adrenaIinIendnz/status/2072727000846848477
ٹاور پر چڑھنے والے ٹیکنیشیئن صرف بلب تبدیل نہیں کرتے بلکہ اینٹینا، وائرنگ، سگنل آلات، حفاظتی معائنہ اور دیگر تکنیکی کام بھی انجام دیتے ہیں۔ اس ٹاور کا مقصد طیاروں کو فضائی سطح سے متعلق وارننگ جاری کرنا ہوتا ہے۔
امریکا میں ایسے ٹاور ٹیکنیشنز کی عام تنخواہ عموماً 24 سے 30 ڈالر فی گھنٹہ ہوتی ہے اور سالانہ تقریباً 65,000 ڈالر کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ تاہم انتہائی بلند اور خطرناک ٹاورز پر خصوصی کام کے لیے اضافی معاوضہ مل سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل