Loading
برسات کا موسم جہاں شدید گرمی سے نجات، خوشگوار فضا اور ہریالی کی نوید لاتا ہے، وہیں گھریلو سطح پر کئی نئے مسائل بھی جنم دیتا ہے۔ مسلسل بارشوں کے باعث گھروں میں پانی جمع ہونے، نمی بڑھنے، چھتوں سے رساؤ، لکڑی کے فرنیچر کو نقصان، بجلی کے مسائل اور کیڑوں مکوڑوں کی افزائش جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مون سون سے پہلے مناسب تیاری کر لی جائے تو ان مشکلات سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بارشوں میں سب سے عام مسئلہ چھت یا دیواروں سے پانی کا رسنا ہے۔ اگر دیواروں یا چھت میں معمولی دراڑیں بھی موجود ہوں تو بارش کا پانی اندر داخل ہو کر نمی پیدا کرتا ہے، جس سے نہ صرف دیواریں خراب ہوتی ہیں بلکہ گھر میں بدبو بھی پھیلنے لگتی ہے۔ اس کے علاوہ دیواروں سے لگے فرنیچر، سجاوٹی اشیا اور پینٹنگز بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے مون سون سے قبل چھت اور دیواروں کی واٹر پروفنگ اور دراڑوں کی بروقت مرمت کرانا مفید ثابت ہوتا ہے۔
گھر کی چھتوں اور پانی نکالنے والی نالیوں کی صفائی بھی برسات سے پہلے ضروری قرار دی جاتی ہے تاکہ بارش کا پانی آسانی سے خارج ہو سکے اور گھر کے اندر داخل نہ ہو۔ اسی طرح اگر چھت پر کوئی سامان رکھا ہو تو اسے محفوظ جگہ منتقل کرنا چاہیے تاکہ بارش سے نقصان نہ پہنچے۔
ماہرین نے لکڑی کے فرنیچر کی خصوصی حفاظت پر بھی زور دیا ہے۔ ان کے مطابق نمی کے باعث لکڑی کی رنگت اور ساخت متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے بارشوں کے موسم میں فرنیچر کی باقاعدگی سے صفائی اور ویکیوم کلینر کا استعمال مفید رہتا ہے۔ مزید تحفظ کے لیے مون سون سے پہلے فرنیچر پر وارنش یا حفاظتی کوٹنگ بھی کی جا سکتی ہے، جو نمی کے اثرات کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
برسات کے دنوں میں صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ نمی کی وجہ سے فرش، قالین اور دیگر اشیا جلد گندی ہو جاتی ہیں اور اگر انہیں بروقت صاف نہ کیا جائے تو گھر میں ناگوار بو پیدا ہو سکتی ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ قالین، فرش اور دیگر سطحوں کی باقاعدگی سے صفائی اور ویکیومنگ کی جائے تاکہ نمی، گرد اور گندگی جمع نہ ہونے پائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چند سادہ احتیاطی اقدامات اختیار کر کے نہ صرف گھر کو مون سون کے نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے بلکہ بارشوں کے حسین موسم سے زیادہ اطمینان اور سکون کے ساتھ لطف بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل