Loading
اڈیالہ جیل کی لیڈی سائیکالوجسٹ کو سابق قیدی کی جانب سے ہراسانی کا سامنا ہے۔
سینٹرل جیل اڈیالہ (راولپنڈی) میں خدمات انجام دینے والی ایک لیڈی سائیکالوجسٹ نے سابق قیدی کی جانب سے ہراسانی اور دھمکیوں کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔
پولیس کے مطابق تھانہ سول لائن میں مقدمہ درج کرکے واقعے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
مدعیہ نے مقدمے میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ سینٹرل جیل اڈیالہ راولپنڈی میں سائیکالوجسٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ قیدی محمد اسرار، جو جیل سے رہائی پا چکا ہے، رہائی کے بعد مسلسل کالیں کرکے اور پیغامات بھجوا کر انہیں پریشان اور ہراساں کر رہا ہے۔
مدعیہ کے مطابق چند روز قبل محمد اسرار ان کے گھر آیا، جہاں وہ ان کے والد کو 4 پینا فلیکس دے کر چلا گیا۔ ان پینا فلیکس پر مدعیہ کا نام اور تصاویر موجود تھیں، جبکہ ان کے ساتھ ایک چٹ بھی دی گئی تھی۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ شخص پہلے اقدام قتل اور اغوا کے مقدمے میں جیل میں قید رہ چکا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ سابق قیدی کا مجرمانہ رویہ، ہراسانی کی نیت سے ان کے گھر داخل ہونا اور اس کا طرز عمل دھمکیوں کے زمرے میں آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں مذکورہ شخص سے اپنی جان کا سخت خطرہ ہے، لہٰذا انہیں تحفظ فراہم کرتے ہوئے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ پولیس کے مطابق مقدمہ درج کرکے واقعے کی تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل