Loading
سانحہ زیارت میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کا دھرنا آج چھٹے روز بھی جاری ہے۔
گزشتہ روز حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور دھرنا شرکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے۔ وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو اور وزیر صحت بخت کاکڑ پر مشتمل حکومتی وفد نے رات گئے تک لواحقین سے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے مطابق وفد نے سانحہ زیارت پر جوڈیشل کمیشن کے قیام سمیت دیگر مطالبات پر ہونے والی پیش رفت سے لواحقین کو آگاہ کیا۔ مذاکراتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان لواحقین اور دھرنا کمیٹی کے تمام جائز مطالبات تسلیم کرنے اور ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب دھرنا شرکا اور آل پارٹیز نے کل 15 جولائی کو صوبے بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ 16 جولائی کو خواتین اور بچے بھی دھرنے میں شرکت کریں گے، جبکہ 17 جولائی کو بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے سانحہ زیارت کے لواحقین اور آل پارٹیز دھرنا کمیٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ دھرنا ختم کرکے 7 شہدا کی تدفین کر دیں، تاہم اس حوالے سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل