Loading
اسلام آباد ہائی کورٹ میں موٹر وے پر ٹول ٹیکس میں 50 فیصد اضافے اور کم بیلنس والی گاڑیوں کے معاملے پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جوڈیشل ایکٹیویزم پینل کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل محفوظ بخاری عدالت میں پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ یہ حکومت کا پالیسی میٹر ہے، اس میں ہم کیا کر سکتے ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کم بیلنس والی گاڑیوں پر ٹول ٹیکس کی شرح میں 50 فیصد اضافہ من مانی پر مبنی اور حد سے زیادہ ہے۔ عدالت نے وزارت مواصلات اور دیگر فریقین کو جواب کے لیے نوٹس جاری کر دیے، جبکہ کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
جوڈیشل ایکٹیویزم پینل نے ٹول ٹیکس میں اضافے سے متعلق 3 جون 2025 کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کر رکھا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل