Loading
لندن: ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ برینٹ کروڈ ایک ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 1.2 فیصد اضافے کے بعد 94.25 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو رواں سال جون کے اوائل کے بعد بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ دوبارہ شدت اختیار کر چکی ہے اور امریکا کی جانب سے ایران پر مسلسل گیارہویں رات بھی حملے کیے گئے۔
ایران نے ان حملوں کے جواب میں خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے علاوہ تہران نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو ایسے آئل ٹینکروں کو روک دیا جو اس کے بقول مقررہ ہدایات پر عمل نہیں کر رہے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے بڑا خطرہ بن رہی ہے، کیونکہ دنیا کی سمندری راستے سے ہونے والی خام تیل کی تجارت کا بڑا حصہ اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی یا کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کے اثرات ایندھن، نقل و حمل، مہنگائی اور عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔
سرمایہ کار اس وقت ایران امریکا تنازع، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی صورتحال اور ممکنہ سفارتی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ آئندہ دنوں میں یہی عوامل عالمی تیل کی قیمتوں کا رخ متعین کریں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل