Loading
سیاست کے پُرخار راستے میں کئی چھبتے ہوئے سوالات ہوتے ہیں جن میں سے بعض کا جواب نہ دینا وقت کا تقاضا بھی ہوتا ہے اور حکومتی مصلحت کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لارووف ایک منجھے ہوئے سیاست دان اور سلجھے ہوئے وزیر خارجہ ہیں جنھیں بین الاقوامی میڈیا کا سامنا بھی کرنا آتا ہے اور وہ خوبصورتی سے ٹالنے کا فن بھی جانتے ہیں۔
اپنے اس فن کا بخوبی استعمال انھوں نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں کیا جب آسیان ریجنل فورم کے موقع پر خاتون صحافی نے ایک ہی سانس میں اُن سے یکے بعد دیگرے کئی سخت سوالات پوچھ ڈالے۔
خاتون صحافی نے استفسار کیا کہ کیا روس امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے میں ایران کی مدد کر رہا ہے؟ اور کیا ماسکو یوکرین کے ساتھ جنگ بندی اور امن مذاکرات پر آمادہ ہے؟
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کسی بھی سوال کا براہِ راست جواب نہیں دیا۔ وہ خاموشی سے ایلیویٹر کی جانب بڑھتے رہے پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ صحافی کی طرف دیکھا اور صرف ایک جملہ کہا ’’آپ کا ہیئر اسٹائل بہت اچھا ہے‘‘۔
یہ کہہ کر روسی وزیرِ خارجہ ایلیویٹر میں داخل ہوگئے جبکہ صحافی کے تمام سوالات جواب کے منتظر ہی رہ گئے۔ یہ مختصر مگر غیرمتوقع ردِعمل کیمرے میں محفوظ ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اسے مشکل سوالات سے بچنے کا سفارتی انداز قرار دیا جبکہ کئی افراد نے اسے مزاحیہ اور غیر روایتی ردِعمل قرار دیتے ہوئے دلچسپ تبصرے کیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل