Loading
جنوبی امریکی ملک چلی شدید بارشوں اور طوفانی موسم کی لپیٹ میں ہے جہاں قدرتی آفت کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک، 7 لاپتا اور متعدد زخمی جبکہ ہزاروں خاندان متاثر ہوئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چلی میں 15 جولائی سے جاری موسلا دھار بارشوں اور طوفانی ہواؤں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ اب تک 2 ہزار 800 سے زائد مکانات تباہ ہوچکے ہیں۔
شدید بارشوں کے باعث کئی دریاؤں میں طغیانی آ گئی جس سے سڑکیں اور پل بہہ گئے۔ مختلف علاقوں میں 60 ہزار سے زائد افراد اب بھی محصور ہیں۔ امدادی ٹیمیں ان تک رسائی کی کوشش کر رہی ہیں۔
چلی کے صدر خوسے انتونیو کاسٹ نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو فوری امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔
سرکاری اداروں کے مطابق ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، بجلی اور پانی کی بحالی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔
حکام نے بتایا کہ طوفان کے بعد سے لاپتا ہونے والے سات افراد کی تلاش کے لیے ہیلی کاپٹروں، کشتیوں اور زمینی امدادی ٹیموں کی مدد سے سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں مزید بارشوں کا امکان موجود ہے جس کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل