Loading
ٹالسٹائی جنگ کو وسعت میں دیکھتے ہیں، ہیمنگ وے اسے اختصار میں۔ ٹالسٹائی کے ہاں جنگ سمندر ہے، ہیمنگ وے کے ہاں زخم۔ ٹالسٹائی تاریخ کے فلسفی ہیں، ہیمنگ وے شکستہ تجربے کے کاتب۔ ان کا اسلوب بھی جنگ زدہ ہے۔ چھوٹے جملے، کم بولتے کردار، ضبط شدہ جذبات اور وہ خاموشی جو چیخ سے زیادہ سنائی دیتی ہے۔ ہیمنگ وے کے کردار بہت کم فلسفہ بگھارتے ہیں، مگر ان کی خاموشی فلسفے سے بھری ہوتی ہے۔
’’وداعِ جنگ‘‘ میں جنگ کسی عظیم مقصد کی حامل نظر نہیں آتی۔ وہاں حب الوطنی کے نعروں کے پیچھے تھکے ہوئے جسم ہیں، بارش ہے، کیچڑ ہے، اسپتال ہیں، پسپائی ہے اور ایک محبت ہے جو جنگ سے پناہ چاہتی ہے مگر تقدیر سے نہیں بچ پاتی۔ ٹالسٹائی کے ہاں جنگ انسان کو کائناتی اخلاقیات تک لے جاتی ہے، ہیمنگ وے کے ہاں جنگ انسان کو نجی صداقت تک محدود کر دیتی ہے۔ ٹالسٹائی پوچھتے ہیں ’’ تاریخ کیا ہے؟‘‘ ہیمنگ وے پوچھتے ہیں ’’ جب تاریخ ہمیں کچل دے تو انسان کس سے محبت کرے؟‘‘ ٹالسٹائی کا جواب ہے’’ رحم، ایمان، سادگی۔ ‘‘ہیمنگ وے کا جواب ہے: محبت، خاموشی، وقار۔ مگر دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ انسان کو ہیرو نہیں بناتی، پہلے اسے برہنہ کرتی ہے، پھر اگر وہ بچ جائے تو شاید انسان بناتی ہے۔
یہیں سے آصف فرخی کا ذکر آتا ہے۔ آصف فرخی نے جنگ کو براہ راست ٹالسٹائی یا ہیمنگ وے کی طرح ناول کے وسیع کینوس پر نہیں برتا، لیکن انھوں نے اردو ادب میں جنگ، دہشت، فلسطین، افغانستان اور عراق کو ایک ادبی، اخلاقی اور تہذیبی مسئلے کے طور پر مرتب کیا۔ وہ ’’دنیا زاد‘‘کے مدیر تھے۔ اس کتابی سلسلے کے تحت انھوں نے عاشق من الفلسطین، ’’دنیا دنیا دہشت ہے‘‘ اور ’’میں بغداد ہوں‘‘ جیسے ضخیم خصوصی شمارے مرتب کیے، جنھیں ادبی اور سیاسی دستاویزات کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔‘‘آصف فرخی کا اصل کارنامہ یہ تھا کہ انھوں نے جنگ کو صرف’’خبر ‘‘کے درجے پر رہنے نہیں دیا۔ فلسطین اگر صرف سیاست ہے تو وہ اخبار کا موضوع ہے، مگر فلسطین جب محمود درویش کی نظم، غسان کنفانی کی کہانی، ادوارد سعید کی جلاوطنی، یا اردو ادیب کے دل کا زخم بن جاتا ہے تو وہ ادب کی سرحد میں داخل ہوتا ہے۔
عراق اگر صرف میزائلوں، پابندیوں اور حملوں کا نام ہے تو وہ بین الاقوامی تعلقات کا مسئلہ ہے، مگر جب ’’میں بغداد ہوں‘‘کہا جاتا ہے تو شہر ایک جغرافیہ نہیں رہتا، ایک وجود بن جاتا ہے۔ یہی ادب کی کیمیا ہے،وہ شہر کو ضمیر، لاش کو سوال اور خبر کو استعارہ بنا دیتا ہے۔یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا ہر جنگی تصویر، ہر خون آلود منظر، ہر سیاسی سانحہ ادب بن جاتا ہے؟ جواب نفی میں ہے۔ موضوع کبھی ادب کی ضمانت نہیں ہوتا۔ جنگ پر لکھنا اور جنگ کو ادب بنا دینا دو الگ کام ہیں۔ ادبیت وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں واقعہ اپنی خام صورت سے بلند ہو کر انسانی معنویت اختیار کرے۔ محض لاش دکھانا ادب نہیں؛ لاش کے سامنے انسان کے ضمیر کی کیفیت دکھانا ادب ہے۔ محض میزائل کی تصویر ادب نہیں، میزائل کے سائے میں بچے کی نیند، ماں کی خاموشی، شہر کی یادداشت اور تاریخ کی شرمندگی کو محسوس کرانا ادب ہے۔
ٹالسٹائی، ہیمنگ وے اور آصف فرخی تینوں ہمیں یہی سکھاتے ہیں کہ جنگ کا ادبی مصرف جنگی سنسنی نہیں، انسانی بیداری ہے۔ ادب کا سب سے بڑا اعجاز یہی ہے کہ وہ غیر ادبی کو ادبی بنا سکتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ اس میں تخلیقی فاصلہ، اخلاقی بصیرت، جمالیاتی ضبط اور انسانی مرکزیت موجود ہو۔ جنگ اگر نعرہ بنے تو پروپیگنڈا ہے، اگر تماشا بنے تو سفاکی ہے، اگر آنسو بنے تو جذباتیت ہے، مگر اگر جنگ انسان کی تقدیر، ضمیر، خوف، محبت، شکست اور امید کے پیچیدہ رشتے کو روشن کرے تو وہ ادب ہے۔
یوں ٹالسٹائی کے آسمان، ہیمنگ وے کی بارش اور آصف فرخی کے بغداد و فلسطین کو ایک ہی فکری لکیر جوڑتی ہے۔ جنگ کی اصل معنویت فتح میں نہیں، انسان کی بازیافت میں ہے۔ ادب جنگ کو ختم نہیں کر سکتا، مگر وہ جنگ کو بے نقاب کر سکتا ہے۔ وہ مرنے والوں کو زندہ نہیں کرتا، مگر ان کی موت کو بے معنی نہیں رہنے دیتا۔ شاید یہی ادب کا سب سے بڑا اخلاقی فریضہ ہے: جہاں طاقت انسان کو عدد بناتی ہے، وہاں ادب اسے نام، چہرہ، آواز اور روح واپس دیتا ہے،لیکن اگر ادب جنگ کے مقتولوں کو نام واپس دیتا ہے تو کیا ہماری موجودہ ڈیجیٹل تہذیب انسان کو دوبارہ عدد میں تبدیل نہیں کر رہی؟
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل