Wednesday, July 22, 2026
 

دنیا کے بہترین شہروں سے کراچی تک

 



دنیا بھرمیں شہریوں کو اچھی سہولیات فراہم کر نے والے شہروں میں زیورخ (سوئٹزرلینڈ)، جنیوا (سوئٹزرلینڈ)، کوپن ہیگن (ڈنمارک) انٹر نیشنل رینکنگ میں ٹاپ 10 میں آتے ہیں جب کہ اسٹاک ہوم (سویڈن)، ٹوکیو (جاپان) اور ٹو رنٹو (کینیڈا) عموماً ٹاپ 10 سے 20 کے درمیان آتے ہیں۔ان شہروں میں اچھی زندگی کی ایک بڑی وجہ صرف زیادہ بجٹ نہیں بلکہ طاقتور بلدیاتی حکومت، مو ثر منصوبہ بندی اور جوابدہ ادارے ہیں ۔ ہر ملک میں کچھ فرق ہے، لیکن مجموعی طور پر شہریوں کو درج ذیل سہولیات حاصل ہیں۔ سوئٹزرلینڈ (مثلاً زیورخ، جنیوا) میں24 گھنٹے صاف پینے کا پانی دستیاب ہوتا ہے، جدید سیوریج اور نکاسی آب موجود ہے۔ وقت کی پابند بس، ٹرام اور ٹرین بھی دستیاب، صاف ستھرے پارکس اور کھیل کے میدان کے علاوہ محفوظ سائیکل ٹریک بھی دستیاب، اعلیٰ معیار کے سرکاری اسکول، موٹر پولیس، فائر بریگیڈ اور ایمبولینس، کچرے کی باقاعدہ اور سائنسی طریقے سے تلفی، آن لائن بلدیاتی خدمات اور ٹیکس کی بھی سہولیات شہریوں کے لیے دستیاب ہے۔ جرمنی میں جدید سڑکیں اور فٹ پاتھ، بہترین پبلک ٹرانسپورٹ (بس، ٹرام، میٹرو، ٹرین)، ہر محلے میں پارک اور کمیونٹی مراکز، ری سائیکلنگ کا مضبوط نظام، معذور افراد کے لیے قابلِ رسائی عمارتیں اور ٹرانسپورٹ، صاف پانی، گیس، بجلی اور انٹرنیٹ کی قابل اعتماد فراہمی، بلدیاتی دفاتر سے زیادہ تر خدمات آن لائن کی سہولت بھی شہروںکے لیے موجود۔سویڈن (مثلاً اسٹاک ہوم) میں اعلیٰ معیار کے سرکاری اسکول اور پری اسکول، مقامی سطح پر صحت اور بزرگوں کی دیکھ بھال کی خدمات، صاف اور محفوظ عوامی مقامات، ماحول دوست ٹرانسپورٹ، بچوں کے کھیل کے میدان تقریباً ہر رہائشی علاقے میں، تیز رفتار انٹرنیٹ کی وسیع دستیابی اور اس کے علاوہ برفباری کے موسم میں بھی سڑکوں کی فوری صفائی۔ ڈنمارک (مثلاً کوپن ہیگن)میں دنیا کے بہترین سائیکل ٹریکس، محفوظ پیدل راستے، صاف ستھرا ماحول اور کم آلودگی، بچوں اور خاندانوں کے لیے معیاری عوامی سہولیات، جدید لائبریریاں، اسپورٹس سینٹرز اور ثقافتی مراکز اور ڈیجیٹل بلدیاتی خدمات، جن سے اکثر کام گھر بیٹھے ہو جاتے ہیں۔ کینیڈا (مثلاً ٹورنٹو) میں صاف پانی اور موثر سیوریج، عوامی لائبریریوں کا وسیع نیٹ ورک، بڑے پارکس، جھیلوں کے کنارے تفریحی مقامات، بس، سب وے اور ٹرام کا مربوط نظام، برف ہٹانے کی بلدیاتی خدمات، کمیونٹی سینٹر، سوئمنگ پول اور کھیلوں کی سہولیات۔  جاپان (مثلاً ٹوکیو) میں انتہائی وقت کی پابند ٹرین اور میٹرو، صاف ستھری سڑکیں اور محفوظ محلے، زلزلوں اور آفات سے نمٹنے کا مضبوط نظام، جدید کچرا جمع کرنے اور ری سائیکلنگ کا نظام، ہر علاقے میں طبی مراکز اور عوامی سہولیات، اچھی روشنی والی سڑکیں اور پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ راستے بھی دستیاب۔شہریوں کو یہ سہولیات یوں ہی حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے شہری حکومتوں کو با اختیار بنانے کو فیصلہ ہے۔  اس ضمن میں ترقی یافتہ ممالک کا جائزہ لیں تو یہ صورتحال سامنے آتی ہے۔سوئٹزرلینڈ میں مقامی حکومت کو ٹیکس وصول کرنے کا بھی اختیار حاصل ہے۔جرمنی میں ہر شہر کی منتخب کونسل اور میئر ہوتے ہیں۔ یہاں اسکول، ٹرانسپورٹ، پانی، صفائی، شہری منصوبہ بندی اور بہت سے مالی فیصلے مقامی سطح پر کیے جاتے ہیں۔ کینیڈا میں شہروں کو ’’شہری حکومت‘‘کے ذریعے وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ پولیس، فائر سروس، پبلک ٹرانزٹ، مقامی ترقی اور بجٹ ان کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اگرچہ اختیارات صوبے کے قانون سے ملتے ہیں۔برطانیہ میں مقامی کونسلیں تعلیم، سماجی خدمات، کچرا اٹھانے، مقامی سڑکوں، لائبریریوں، ہاؤسنگ اور پلاننگ جیسے معاملات چلاتی ہیں۔جاپان میں میئر اور سٹی اسمبلی براہِ راست عوام منتخب کرتے ہیں۔ تعلیم، صحت، شہری منصوبہ بندی، مقامی انفرا اسٹرکچر اور بجٹ میں انھیں نمایاں اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں مقامی کونسلیں سڑکوں، پارکوں، لائبریریوں، تعمیراتی اجازت ناموں، ویسٹ مینجمنٹ اور مقامی ترقی کے بیشتر معاملات سنبھالتی ہیں۔  امریکا میں نظام ہر ریاست اور شہر میں یکساں نہیں، لیکن بہت سے شہروں میں مقامی حکومت یا اس کے مقرر کردہ سٹی مینیجر کو پولیس چیف کی تقرری اور اس کی کارکردگی کی نگرانی میں مرکزی کردار حاصل ہوتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ شہریوں کی منتخب قیادت اپنے شہر کی امن و امان کی ضروریات کے مطابق جواب دہ رہے، اگر کسی شہر میں برفانی طوفان، سیلاب، مقامی ہنگامی صورتحال یا محدود پیمانے پر امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو تو ابتدائی ردِعمل بھی مقامی حکومت ہی منظم کرتی ہے، اگرچہ بڑے بحران میں ریاستی حکومت بھی اپنی آئینی ذمے داریاں ادا کرتی ہے۔  دوسری طرف ہم ہر مسئلے کا حل اسلام آباد یا صوبائی دارالحکومتوں سے تلاش کرتے ہیں، جب کہ دنیا کے کامیاب ممالک نے روزمرہ شہری زندگی کے زیادہ تر اختیارات شہروں کے حوالے کر رکھے ہیں۔ کراچی کی آبادی تین کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، مگر شہر کے بہت سے بنیادی اختیارات مختلف صوبائی اداروں میں تقسیم ہیں۔ پولیس صوبائی حکومت کے ماتحت ہے، زمین کے معاملات مختلف اداروں کے پاس ہیں، پانی کا نظام الگ ادارہ چلاتا ہے، سالڈ ویسٹ کسی اور کے پاس ہے، ترقیاتی منصوبوں پر کئی ادارے اختیار رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ شہری کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کسی مسئلے کا ذمے دار آخر کون ہے؟ اس کے برعکس امریکا، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، جاپان، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک میں مقامی حکومتیں شہری خدمات کی اصل ذمے دار ہوتی ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں تو کئی مقامات پر لوگ براہ راست مقامی فیصلوں میں حصہ لیتے ہیں۔ جرمنی میں شہر اپنی ترقیاتی منصوبہ بندی، بنیادی سہولتوں اور مقامی خدمات کا بڑا حصہ خود سنبھالتے ہیں۔ کینیڈا اور جاپان میں بھی منتخب بلدیاتی ادارے شہری زندگی کے بیشتر معاملات کے ذمے دار ہیں۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ دنیا کی جدید تاریخ اور دور میں ہمارا شہر کراچی کسی قدیم شہر کی تصویر بن چکا ہے۔کراچی شہر میں صرف ٹرانسپورٹ، تعلیمی سہولیات، صحت،واٹر سیوریج اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے گمبھیر مسائل ہی نہیں ہیں بلکہ اسٹریٹ کرائم کے حوالے سے بھی سنگین مسائل موجود ہیں۔ تعلیم کے حوالے سے دیکھیں تو صرف اسکول اور کالجز بھی تباہ حال نہیں ہوئے کہ جہاں کوئی جانا پسند ہی نہیں کرتا بلکہ سرکاری جامعات بھی مسائل کا اس قدر شکار ہیں کہ اب یہاں بھی طلبہ کی تعداد کم سے کم ہو رہی ہے، اگر گاڑی ڈرائیو کریں تو ہر دو چار منٹ بعد ٹوٹی پھوٹی سڑک آپ کو ڈرائیو کرنے نہیں دیتی، گھر کا بجلی کا بل ہو یا پانی کا یا پھر سوئی گیس کا، سب کے سب پابندی سے آتے ہیں لیکن ان کی سہولیات شہریوں کو 24 گھنٹوں میں 16 گھنٹے بھی مشکل سے ملتی ہے جب کہ پانی تو ایک ایک ہفتے بعد آتا ہے اور بعض جگہوں پر تو صورتحال اس سے بھی بری ہے۔شہری اپنی صحت کے لیے خود منرل واٹر استعمال کرتے ہیں اور فلٹربھی استعمال کرتے ہیں، اسی طرح سے شہری بجلی کے متبادل طریقے استعمال کر کے انرجی حاصل کرتے ہیں اور گیس سلنڈر بھی اٹھائے پھرتے ہیں۔مزید یہ کہ اپنے تحفظ کے لیے گلیوں میں بیریئر لگائے بیٹھے ہیں اور سیکیورٹی گارڈکو اپنی حفاظت کے لیے رکھ رہے ہیں کیونکہ وہی شہریوں کی حفاظت کر سکتے ہیں پولیس نہیں، چلتے پھرتے شہری اپنے موبائل فونز سے محروم ہو رہے ہیں۔اس ضمن میں یہ سوال بھی بڑا اہم ہے کہ شہری حکومت کو اختیار تو ملنا چاہیے لیکن پولیس بھی تو مقامی ہونی چاہیے۔غرض کراچی شہر میں جتنے بھی مسائل ہیں ان کا حل وہی ہے، جو راقم نے اوپر مختلف ممالک کے شہری حکومت کو دیے جانے والے اختیارات کے حوالے سے بیان کیا ہے اب اہمیں ان کے تجربات سے سیکھنا ہوگا۔  شہر کی حالت زار اب اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ ہر نوجوان ملک سے باہر جانے کی خواہش رکھتا ہے اور ہر خاندان موقع ملتے ہی یہ ملک چھوڑنے کی سوچتا ہے۔ یہ خطرناک صورتحال ہے جس پر صرف صوبائی حکومت کو نہیں وفاقی حکومت کو بھی اور ہمارے منتخب نمائندوں کو بھی توجہ دینا پڑے گی کہ پانی اب حد سے گزر چکا ہے۔ اب عوام کا صبر جواب دے چکا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل