Loading
خاکسار نے پچھلے دنوں اپنی بزمِ زباں فہمی میں احباب سے پوچھا کہ آیا آپ نے یہ کہاوت یا مَثَل سُنی ہے ، ’’میں بھی رانی، تُو بھی رانی۔ کون بھرے سرکار کا پانی؟‘‘ تو پتا چلا کہ اس کہاوت کے کئی رُوپ [versions] ہیں اور یہ فرق غالباً علاقائی بنیاد پر ہے۔
لغات میں یہ تمام رُوپ موجود نہیں، اس لیے تلاش و جستجو کا عمل مزید اہم ہوگیا۔ احباب سے گفتگو میں یہ ضرور پوچھتا گیا کہ آپ کا آبائی تعلق کہاں سے ہے ۔ متعددکا تعلق دِلّی اور یوپی کے دیگر شہروں سے تھا، کچھ کا بِہار سے تو کچھ کا کہیں اور سے۔
اب یہ فہرست اراکین ِ بز م زباں فہمی کی آراء اور بعض دیگر ذرایع سے مرتب کرکے بات آگے بڑھاتا ہوں:
۱)۔ میں بھی رانی، تُو بھی رانی۔ کون بھرے سرکارکا پانی؟
ب)۔ میں بھی رانی، تُو بھی رانی۔ کون بھرے سرکاری پانی؟
میرے خیال میں ممکن ہے کہ اصل کہاوت ’’سرکار کا پانی‘‘ سے جُڑی ہوئی ہو یعنی ’سرکار‘ بمعنیٰ شوہر۔یا۔حاکم ِ وقت بشمول کوئی نواب، اور یہ دو کنیزوں یا بیویوں کے بیچ ہونے والا مکالمہ ہو جسے کہاوت کی طرح شہر ت مل گئی۔ اسی کی بگڑی ہوئی شکل میں ’’سرکاری پانی‘‘ شامل ہے۔(س ا ص)
ج)۔ تو بھی رانی میں بھی رانی، کون بھرے پنگھٹ کا پانی
د)۔ تُو بھی رانی مَیں بھی رانی، کَون بَھرے پَن گَھٹ پانی
معمولی فرق سے یہ ایک ہی رُوپ ہے جس کی توجیہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ قدیم دور میں گھر گھر نلکے تونہیں تھے، پانی بھرنے کے لیے پن گھٹ (ملاکر لکھنے سے ابہام ہوتا ہے، اس لیے الگ لکھنا بہتر ہے) پرجانا پڑتا تھا۔ (س ا ص)
ہ)۔ مَیں بھی رانی تُو بھی رانی، کَون سَر پَر ڈالے پانی
و)۔ میں بھی رانی تو بھی رانی، کون ڈالے سر پر پانی
ّّ ممتاز شاعرہ آمنہ عالم صاحبہ کا قیاس ہے کہ اس کہاوت کا یہ رُوپ ’’میں بھی رانی، تو بھی رانی، کون ڈالے سر پر پانی‘‘ کا اطلاق یوں صحیح ہوسکتا ہے کہ بقول اُن کے ’’یہ بھی ہو سکتا ہے(کہ) طبقہ اشرافیہ میں خواتین کا سر دُھلانے کے لیے نائن ملازم ہوتی تھی (جو) پہلے چوکی پر بٹھا کر سر دُھلاتی تھی۔ پھر غسل کے لیے حمام خانے میں جاتے تھے۔ والدہ بتاتی تھیں کہ شادی سے پہلے اُن کے گھر میں یہی دستور رہا، ہمیشہ نائن نے سر دُھلایا ۔ اس صورت حال میں سر پہ پانی ڈالنے والا محاورہ بھی درست (لگتا) ہے‘‘۔
{یہاں خاکسار سہیل نئے قارئین خصوصاً نئی نسل کے نمایندوں کی اطلاع کے لیے عرض کرتا ہے کہ پچھلے ادوار ۔یا۔پرانے وقتوں میں بعض پیشوں سے خاندانی طور پر جُڑے ہوئے لوگ بعض کام اضافی کرتے اور حسبِ موقع انعام واِکرام پاتے تھے۔ نائی یعنی حجّام اور اُس کی بیوی نیز کبھی (حسبِ ضرورت و تقاضا) دیگر اہلِ خانہ کسی بھی گھر میں، شادی بیاہ۔ یا۔ کسی دوسرے موقع پر، ایسے اضافی کام کردیا کرتے تھے جن کے لیے آج ہم الگ الگ ملازم رکھتے ہیں۔ نائی ایک جگہ سے دوسری جگہ ، ایک گھر سے دوسرے گھر پیغام رسانی کی خدمت بھی انجام دیا کرتے تھے۔
لغت میں نائی اور نائن کی تعریف کچھ اِس طرح ملتی ہے:
نائی: ہندی، اسم مذکر۔حجّام، مُو تَراش(فارسی: س ا ص)، خلیفہ;قصبات کی زبان ہے(جُہَلاء نے خلیفہ بمعنیٰ نائب یا حکمراں کی بجائے حجّام ہی کو یہ نام دے دیا اور نوبت بہ ایں جا رسید کہ آج بھی گاؤں دیہات میں نائی کو خلیفہ ہی کہا جاتا ہے، بلکہ شہروں میں بھی گاؤں سے آئے ہوئے لوگ یہی لفظ استعمال کرتے ہیں: س اص)، نائی کی برات میں سبھی ٹھاکر ۔مثل ۔وہاں بولتے ہیں جہاں سب ’امتیازی‘ ہوں اور کام کرنے والا کوئی نہ ہو۔اپنی قوم میں ہرکوئی ذی عزت ہے۔ اپنے گھر میں سب عزت دار ہوتے ہیں ۔نائی نائی بال کِتنے، ججمان جی ! آگے آتے ہیں۔مثل ۔ جب کوئی فوراً ہی سامنے ظاہر ہونے والی بات کی نسبت پوچھے ، وہاں بولتے ہیں۔نائی کو گنوار لوگ ناؤ بَروزنِ خالُو بھی کہا کرتے تھے، اسی طرح اُس کی بیوی کو نائن کی بجائے ناوَن کہہ کر مخاطب کیا جاتا تھا۔ بقول مولوی نیّر، یہ گاؤں یا قصبے کی بولی ٹھولی تھی(نوراللغات جلد دُوُم)۔یہاں مؤخرالذکر مَثَل یا کہاوت کا متن دیگر مقامات سے مختلف ہے، خصوصاً بول چال کی زبان سے( س ا ص)۔اس اہم لغت کے فاضل مؤلف یہ بتانا بھول گئے کہ نائی ختنہ بھی کیا کرتا ہے اور شادی بیاہ یا کسی اہم موقع پر پکوان ازقسمے چاول وغیرہ پکانے کی ذمے داری بھی اُسے ہی سونپی جاتی تھی۔
لگے ہاتھوں نامور طنز ومزاح گو جناب اکبر ؔ الہ آبادی کا ایک شعر بھی دیکھ لیجے:
جو وَقتِ ختنہ مَیں چیخا تو نائی نے کہا ہنس کر
مُسَلمانی میں طاقت ، خون ہی بہنے سے آتی ہے
دل چسپ بات یہ ہے کہ جُہَلاء کے یہاں ختنے کو ’مسلمانی ہونا‘ کہا جاتا ہے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو شاعر نے ’مسلمانی‘ کا بہت بامعنیٰ استعمال کیا ۔
نائنیں رشتے طے کروانے میں وہ کردار اَدا کرتی تھیں جو آج کل ’رشتہ آنٹیاں‘ بامعاوضہ کرتی ہیں یعنی کہیں کوئی لڑکی دیکھی تو اُس کے اہل خانہ یا کسی لڑکے کے اہل خانہ کی فرمائش اور تقاضے کے مطابق، دوسرے گھر میں اُس کا ذکر کردیا، پھر رشتہ طے ہونے کی صورت میں دولھا ، دلھن کے گھر والے اپنی خوشی سے کچھ رقم یا انعام دے دیا کرتے تھے۔
اس مقام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک اہم نگارش کا اقتباس بھی نقل کروں:
’’پشتون قبیلوی سیٹ اَپ میں ’نائی‘کی اہمیت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً وہ ایک کسب گر ہوکر پورے ٹل کے افراد کی خدمت ایمانداری سے کرتا تھا، جس کا معاوضہ اُس کو غلّے اور بعض موقعوں پر نقدی کی شکل میں ملتا تھا۔ خاص کر شادی بیاہ یا غم کے دوران میں اس کا موجود ہونا اور فرائضِ منصبی بطریقِ احسن نبھانا ایک اہم معاشرتی فریضہ تھا۔ مزید برآں لشکر جمع کرنے، اُشر کا اعلان کرنے، جنگ کی تیاری کرنے اور عوام الناس کو کسی مسئلے کی اہم خبر پہنچانے کے لیے وہ نقارہ (ڈمامہ) بجاتا تھا۔ نیز وہ گھوڑے یا خچر کا مہار پکڑکر نائیک کی زنانی کو میکے سے صحیح سالم گھر پہنچاتا تھا اور خیرات، شادی اور ختنہ وغیرہ میں چاول پکاتا تھا۔ بعض موقعوں پر تو اس کے وارے نیارے ہوجاتے تھے۔ مثلاً وہ خوشخبری (زیرے) بچوں کے سر کے بال لینے (سنڈے)، دھونی دینے (لوگے کول) اور معاوضہ مہار لینے (جلب) کا رقم ضرور لیتا تھا۔ ایسے موقعوں پر وہ کنجوسوں کی خوب خبر لیتا تھا لیکن بعد میں شکوہ بہت کم کرتا تھا۔ البتہ سخی لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے نہیں تھکتا تھا۔
کہتے ہیں کہ باتونی ہونا، نائی اور کوچوان کی گٹھی میں شامل ہے۔ کیوں کہ دونوں انتظار کروانے کے لیے لوگوں کو باتوں میں اُلجھاتے ہیں، لیکن یہ ان کی کاروباری مجبوری ہے جو رفتہ رفتہ ان کی فطرتِ ثانیہ بن گئی ہے اور ہر پیشہ جب نسلوں تک جاری رہے، تو کاروباری نفسیات کے نتیجے میں بننے والی عادات واطوار انسان کو دائمی خول میں بند کرتی ہیں، جس میں انسان خود اپنی حیثیت کا غلام بن جاتا ہے‘‘۔ مضمون ’’نائی کا پیشہ سماجی حیثیت کے تناظر میں‘‘، تحریرساجد ابو تلتان، باخبر سُوات ڈاٹ کام }۔
آئیے اب کہاوت کے باقی رُوپ بھی دیکھ لیں:
ز)۔ مَیں بھی رانی تُو بھی رانی، کَون بھرے نَدّی سے پانی
یہاں تو واضح طور پر یہ کہاوت دیہی پس منظر سے منسلک معلوم ہوتی ہے۔ (س ا ص)
ح)۔ میں بھی رانی، تُو بھی رانی، کون کھینچے کوئیں کا پانی
ط)۔ میں بھی رانی تو بھی رانی، کھینچے کون کوئیں کا پانی
یہ رُوپ بھی شہری نہیں، دیہی معلوم ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کہاوت گھُوم پھِر کر دیہات تک پہنچی ہوتو وہاں کسی نے یوں تبدیل کردیا ہو۔ (سا ص)
ی)۔ مَیں بھی رانی تُو بھی رانی، کَون بَھرے گا پانی
یہ بالکل غیر واضح رُوپ ہے کہ کس نے کس کا پانی بھرنے کی بات کی۔(س ا ص)
ک)۔میں بھی رانی تو بھی رانی، کون بھرے گا گھر کا پانی
یہاں لگتا ہے کہ پرانی کہاوت کا نیا رُوپ اختیار کرلیا گیا جیسے ہمارے لوگ باگ ’عوامی‘ یا ’تحتی‘ یا ذیلی یا بازاری (Slang) گفتگو میں کرلیتے ہیں۔ (س ا ص)
جب ہم اسی کہاوت کے اصل متن کی تحقیق کرتے ہوئے،لغات سے رجوع کریں تو ہمیں یہ معلومات میسر آتی ہیں:
1۔ میں بھی رانی تو بھی رانی، کون ڈالے سر پر پانی۔ مثل (عو)۔ احدیوں اور کاہلوں کی نسبت بولتی ہیں جو بہانے ہی کرتے ہیں (نوراللغات)۔یہ لفظ ’احدی‘ بہت سے لوگوں کے لیے نامانوس اور متروک ہوگا۔ اس کا مطلب بھی سُست اور کاہل ہی ہے۔ یہ پرانی زنانہ بولی میں شامل تھا جو ہم نے اپنے بچپن میں اپنی عظیم ’زباں فہم‘ والدہ مرحومہ سے سُنا۔ البتہ قابل ِ ذکر اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس کا مصدر ۔یا۔ماخذ نہیں ملتا۔( س ا ص)
2۔ میں بھی رانی تو بھی رانی، کون ڈالے سر پر پانی۔ کہاوت: کاہلوں اور حِیلہ حوالہ کرنے والوں کی نسبت بولتے ہیں۔ کام چور بہانہ ڈھونڈتا ہے۔ (فرہنگِ آصفیہ) (یہ حِیلہ حوالہ بھی اب متروک ہے : س اص)
3۔ میں بھی رانی، تو بھی رانی، کون سرپر ڈالے پانی: جب سب ہی امیر زادیاں ہوں تو کام نہیں چل سکتا (محاوراتِ نسواں از محترمہ وزیربیگم ضیاءؔ، ادیب فاضل، جامعہ پنجاب، لاہور: طبع دُوُم۔1944)
4۔ میں بھی رانی، تو بھی رانی، کون ڈالے سر پر پانی۔نیز۔کون بھرے پنگھٹ پہ پانی: اردو۔مثل :کاہلوں کی نسبت کہتے ہیں (علمی اردو لغت از وارث سرہندی)
5۔ میں بھی رانی تو بھی رانی، کون ڈالے سر پر پانی۔ نیز کون بھرے پنگھٹ پہ پانی: اردو۔مثل۔کاہلوں کی نسبت کہتے ہیں جو کام کرنے سے جی چُراتے ہیں۔ (فیروزاللغات جامع ۔نیا ایڈیشن)
6۔تُو بھی رانی، میں بھی رانی، کون بھرے پن گھٹ پر پانی: کہاوت۔یعنی جب ادنیٰ و اعلیٰ کو برابری کا دعویٰ ہو تو کام کس سے لیا جائے۔(لغات النساء از مولوی سید احمد دہلوی، مؤلف ِ فرہنگ آصفیہ۔1917)۔ انتہائی تعجب خیز نکتہ ہے کہ ایک ہی مؤلف یا مدیر کی دو مختلف لغات میں ایک کہاوت دو مختلف انداز میں درج کی گئی۔
7۔ا)۔ میں بھی رانی ، تُو بھی رانی، کون بھرے (گا) ندّی سے پانی
ب)۔ میں بھی رانی ، تُو بھی رانی، کون سر پر ڈالے پانی
ج)۔ میں بھی رانی ، تُو بھی رانی، کھینچے کون کُوئیں کا پانی
ا)۔ کہاوت: کاہلوں کی نسبت کہتے ہیں، جب دونوں کاہل ہوں اور کام سے جی چُرائیں تو کہتے ہیں۔
ب)۔ سب ہی امیرزادیاں ہوں تو کام نہیں چل سکتا۔
(اردو لغت۔ تاریخی اصول پر ، جلد 19، اردو لغت بورڈ)
وحیدہ نسیم صاحبہ کی مرتب کی ہوئی لغت،’لغات النساء‘ میں یہ اہم کہاوت یا مثل شامل نہیں، جبکہ حیرت سی حیرت ہے کہ ’دِلّی کی بیگماتی زبان‘ از محی الدین حسن ، مطبوعہ جامعہ نگر، نئی دہلی ، ستمبر 1976ء اور ’’اردو بول چال (زنانہ) عُرف لغات الخواتین مؤلفہ مولوی امجدعلی اشہری (مطبوعہ 1925ء) جیسی اہم کتب میں بھی اس کا کوئی اندراج نہیں، نیز فرہنگ ِ اردو محاورات اَز پروفیسر محمد حسن ، اصل مطبوعہ ہندوستان ،چربہ اشاعت لاہور (1996) اور رُوہیل کھنڈ اُردو لغت مؤلفہ رئیس رامپوری ، مطبوعہ لاہور (مارچ 1999) میں اس کا ذکر نہیں;دیگر کتب میں بھی تلاش بے سُود ثابت ہوئی۔
خاکسار کے حلقہ احباب اور واٹس ایپ حلقے ’بزم زباں فہمی‘ کے اراکین نے اپنے اپنے گھر میں رائج اسی کہاوت کے رُوپ اس طرح بیان کیے:
ا)۔ آمنہ عالم، شاعرہ۔کراچی( آبائی وطن : سہارن پور، یوپی ): میں بھی رانی تو بھی رانی، کون بھرے گا گھر کا پانی
ب)۔ تسنیم کوثر، شاعرہ، ادیبہ۔لاہور (آبائی وطن: دہلی): ۔ایضاً۔
ج)۔ ماہ جبیں آصف، ادیبہ۔ کراچی (آبائی وطن: لکھنؤ) میں بھی رانی تو بھی رانی، کون بھرے گھر کا پانی
د)۔ زاہد حسین جوہری، شاعر، نقاد، بینکار، معلّم، نشریات کار (آبائی وطن : جے پور): مَیں بھی رانی تُو بھی رانی، کَون بَھرے گا پانی
ہ)۔ مہ جبین زاہد (بیگم زاہد جوہری)، نشریات کار (آبائی وطن: بِہار):۔ ایضاً۔
و)۔ ربیعہ اکرم، نشریات کار [Broadcaster]، معلّم۔کراچی(ددھیال: دِلّی، ننھیال: بلند شہر): میں بھی رانی تو بھی رانی، کون بھرے پنگھٹ پہ پانی۔
اِک ذرا سی بات کا فسانہ ۔یا۔ پر کا کوّا بنانا اسے کہتے ہیں۔ یہ اہل زبان ہی کا کام ہے، ہر کَس وناکَس کے بس کی بات نہیں! n
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل