Monday, August 03, 2026
 

جگر 80 فیصد تک متاثر ہونے پر بھی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، ماہرین نے خبردار کردیا

 



متحدہ عرب امارات کے ماہرینِ امراضِ جگر نے خبردار کیا ہے کہ جگر کی بیماریاں برسوں تک خاموشی سے بڑھتی رہتی ہیں اور کئی افراد کو اس وقت تک اپنی بیماری کا علم نہیں ہوتا جب تک جگر شدید متاثر نہ ہوجائے۔  ماہرین کے مطابق جگر میں درد محسوس کرنے والے اعصابی ریشے موجود نہیں ہوتے، جبکہ یہ عضو اپنی حیرت انگیز صلاحیت کے باعث 70 سے 80 فیصد تک متاثر ہونے کے باوجود بھی معمول کے مطابق کام کرتا رہتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ فیٹی لیور اور جگر کی دیگر بیماریاں 10 سے 30 سال تک بغیر کسی واضح علامت کے خاموشی سے بڑھ سکتی ہیں، جس کے باعث بروقت تشخیص نہ ہونے پر مریض جگر کے ناکارہ ہونے، سروسس (Cirrhosis) اور حتیٰ کہ جگر کی پیوندکاری تک کی نوبت تک پہنچ سکتا ہے۔ فیٹی لیور کے مریض تیزی سے بڑھ رہے ہیں اندازوں کے مطابق متحدہ عرب امارات کے 30 سے 40 فیصد بالغ افراد فیٹی لیور کا شکار ہیں۔ اس بیماری کو اب میٹابولک ڈِس فنکشن ایسوسی ایٹڈ اسٹیٹیوٹک لیور ڈیزیز (MASLD) کہا جاتا ہے، کیونکہ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ جسمانی میٹابولزم میں خرابی ہے۔ اگر اس بیماری کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ جگر کی سوزش، فائبروسس، سروسس اور جگر کے مکمل ناکارہ ہونے کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ آج کل جگر کی پیوندکاری کی ایک بڑی وجہ بھی یہی بیماری بنتی جارہی ہے۔ صرف معمر افراد ہی نہیں، نوجوان بھی خطرے میں ڈاکٹرز کے مطابق اب یہ بیماری صرف عمر رسیدہ افراد تک محدود نہیں رہی بلکہ موٹاپے، زیادہ وزن، ذیابیطس اور میٹابولک سنڈروم کے باعث نوجوانوں میں بھی جگر کے امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس میں اضافے کے ساتھ فیٹی لیور کے کیسز بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مستقبل میں سروسس اور جگر کی پیچیدہ بیماریوں کے مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ علامات کیوں سامنے نہیں آتیں؟ ماہرین کے مطابق جگر کی خاموشی کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ جگر میں درد محسوس کرنے والے اعصاب موجود نہیں ہوتے، جبکہ دوسری یہ کہ جگر کا بڑا حصہ خراب ہونے کے باوجود باقی حصہ جسم کی ضروریات پوری کرتا رہتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں اگر علامات ظاہر بھی ہوں تو وہ بہت معمولی ہوتی ہیں، جیسے مستقل تھکن، جسم میں کمزوری، توانائی میں کمی یا پیٹ کے اوپری حصے میں ہلکی سی بے آرامی، جنہیں اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کن افراد کو زیادہ خطرہ لاحق ہے؟ ماہرین کے مطابق ٹائپ ٹو ذیابیطس، موٹاپا، بلند کولیسٹرول، میٹابولک سنڈروم، الکحل کا زیادہ استعمال اور غیر متحرک طرزِ زندگی رکھنے والے افراد میں فیٹی لیور کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیقات کے مطابق ٹائپ ٹو ذیابیطس کے تقریباً 60 فیصد مریض فیٹی لیور کا بھی شکار ہوتے ہیں۔ البتہ ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ نارمل وزن رکھنے والے افراد بھی اس بیماری میں مبتلا ہوسکتے ہیں، خصوصاً اگر خاندان میں جگر کی بیماریوں کی تاریخ موجود ہو، غذا غیر متوازن ہو یا جسمانی سرگرمی کم ہو۔ جِم جانے والے نوجوان بھی محتاط رہیں ڈاکٹرز کے مطابق آج کل ایسے افراد بھی بڑی تعداد میں سامنے آ رہے ہیں جو نہ شراب نوشی کرتے ہیں، نہ موٹاپے کا شکار ہیں اور نہ ہی خود کو بیمار سمجھتے ہیں، لیکن ان کے جگر میں چربی جمع ہو چکی ہوتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ ضرورت سے زیادہ چینی والی غذائیں، غیر معیاری سپلیمنٹس، خاص طور پر مسلز بنانے کے لیے استعمال ہونے والے جِم سپلیمنٹس، نیند کی کمی، ذہنی دباؤ اور طویل وقت تک بیٹھے رہنے کی عادت بھی جگر کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ضروری ادویات اور جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ غیر معیاری سپلیمنٹس کا بے جا استعمال بھی جگر پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔ کن علامات پر فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں؟ اگرچہ جگر کی ابتدائی بیماریاں خاموش رہتی ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق درج ذیل علامات کو ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے: مسلسل تھکن یا کمزوری بغیر وجہ وزن میں کمی بھوک کم لگنا پیٹ میں درد یا سوجن مسلسل متلی جبکہ درج ذیل علامات خطرے کی گھنٹی سمجھی جاتی ہیں: جلد یا آنکھوں کا زرد ہونا پیشاب کا گہرا رنگ پاخانے کا غیر معمولی ہلکا رنگ ٹانگوں یا پیٹ میں سوجن معمولی چوٹ پر بھی جلد نیل پڑ جانا ذہنی الجھن یا شعور میں تبدیلی خون کی قے یا پاخانے میں خون آنا بچاؤ ممکن ہے، شرط صرف بروقت تشخیص ماہرین کا کہنا ہے کہ جگر کی بیشتر بیماریاں اگر ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جائیں تو ان کی رفتار کو سست کیا جا سکتا ہے، بلکہ بعض صورتوں میں نقصان کو جزوی طور پر واپس بھی لایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق وزن میں کمی، ذیابیطس اور کولیسٹرول پر قابو، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانا جگر کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہر سال جگر کا معائنہ کرائیں ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ خطرے سے دوچار افراد سال میں کم از کم ایک مرتبہ جگر کے فنکشن ٹیسٹ، بلڈ شوگر، کولیسٹرول پروفائل اور الٹراساؤنڈ یا فائبرو اسکین (FibroScan) ضرور کروائیں۔ ماہرین کے مطابق فائبرو اسکین ایک آسان اور چند منٹ میں مکمل ہونے والا ٹیسٹ ہے، جس کے ذریعے جگر میں چربی اور فائبروسس کا بروقت اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جگر خود کبھی خبردار نہیں کرتا، اس لیے اپنی صحت کا خیال رکھنے کے لیے باقاعدہ اسکریننگ ہی سب سے مؤثر حکمت عملی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل