Saturday, August 08, 2026
 

ایف آئی اے کی کراچی ایئرپورٹ پر کارروائیاں، خاتون سمیت 3 مسافر آف لوڈ

 



وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) امیگریشن کراچی نے ایئرپورٹ پر دومختلف کارروائیوں کے دوران ملائیشیا جانے والے دو مسافروں کو مبینہ جعلی میڈیکل دستاویزات اور باکو جانے والی خاتون کو ممکنہ جنسی استحصال اور اسمگلنگ کے معاملے میں انسداد انسانی اسمگلنگ کے حوالےکر دیا گیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ایف آئی اے امیگریشن کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر تعینات عملے نے دو مختلف کارروائیوں کے دوران ملائیشیا جانے والے دو مسافروں کو مبینہ جعلی میڈیکل دستاویزات کے ذریعے اصل سفری مقصد چھپانے پر جبکہ باکو جانے والی خاتون کو مشکوک سفری مقصد اور ممکنہ جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے شبہے میں مزید قانونی کارروائی کے لیے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل کراچی کے حوالے کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملائیشیا جانے والے مسافر نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا کہ وہ ریڑھ کی ہڈی کے علاج کے لیے ملائیشیا جا رہا ہے جبکہ دوسرا مسافر  اس کا اٹینڈنٹ ہے، تاہم تفصیلی پوچھ گچھ کے دوران دونوں نے اعتراف کیا کہ ان کا اصل مقصد ملائیشیا میں ملازمت حاصل کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ مبینہ سہولت کاروں نے دونوں مسافروں کے وزٹ ویزوں اور ایئر ٹکٹس کا انتظام کیا جبکہ اصل سفری مقصد چھپانے کے لیے گرفتار شہری کے نام سے جعلی ایم آئی آر رپورٹ بھی تیار کی گئی۔ ترجمان نے بتایا کہ مسافروں کے مطابق انہیں ایئرپورٹ پر طبی علاج کے لیے سفر کرنے کا بیان دینے کی ہدایت بھی کی گئی تھی، دونوں مسافروں کو پرواز سے آف لوڈ کر کے  سہولت کاروں سمیت مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے اے ایچ ٹی کراچی کے حوالے کر دیا گیا۔ ایف آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ دوسری کارروائی میں خاتون کو آذربائیجان کے شہر باکو جاتے ہوئے مشکوک سفری مقصد کی بنیاد پر مزید پوچھ گچھ کے لیے روکا گیا اور دوران تفتیش انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ ایک ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے رابطے میں آنے والے ایک شخص سے ملاقات کے لیے باکو جا رہی تھی، جس کے عوض اسے مبینہ طور پر 3 لاکھ روپے ملنے تھے۔ ترجمان کے مطابق خاتون نے بتایا کہ سفر اور رہائش کے اخراجات بھی مذکورہ شخص کی جانب سے برداشت کیے جانے تھے، مسافر خاتون کے موبائل فون کی رضاکارانہ جانچ کے دوران متعدد مشتبہ چیٹس اور ایسے رابطوں کا انکشاف ہوا جن میں رقم کے عوض جنسی ملاقاتوں سے متعلق گفتگو موجود تھی۔ ایف آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ خاتون نے ماضی میں اپنے جنسی استحصال اور جسمانی تشدد سے متعلق بھی اہم معلومات فراہم کیں اور کراچی میں ایک مبینہ نیٹ ورک کے ذریعے اسے دیگر خواتین کے ساتھ رکھنے اور استحصال کیے جانے کے دعوے بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات کی روشنی میں خاتون کے معاملے میں جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے پہلوؤں سمیت تمام حقائق کی جامع تحقیقات کی جا رہی ہیں، خاتون کو متاثرہ فرد کے طور پر بھی مزید قانونی و حفاظتی پہلوؤں سے جانچا جا رہا ہے اور تینوں معاملات میں تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ سہولت کاروں، ایجنٹس اور دیگر ملوث عناصر کی شناخت اور گرفتاری عمل میں لائی جا سکے۔ ترجمان نے بتایا کہ ایف آئی اے جعلی سفری دستاویزات، امیگریشن فراڈ، انسانی اسمگلنگ، جنسی استحصال اور بیرون ملک ملازمت کے نام پر شہریوں کو گمراہ کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل