Loading
ہم آئین کے راستے سے کیوں کتراتے ہیں؟ اگر ہم واقعی کتراتے ہیں تو کیوں؟ یقینا ہمیں آئین ایسا کرنے سے روکتا ہے اور اگر آئین ہمیں روکتا ہے تو کیوں؟ وہ اس لیے کہ ا س آئین کے سامنے سانحہ مشرقی پاکستان ہے، وہ کیا حقائق تھے کہ پاکستان کو چھبیس سال بعد آئین ملا۔
سانحہ مشرقی پاکستان کی وجوہات کیا تھیں؟ سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ پاکستان بننے کے بعد پاکستان کو کوئی آئین نہ مل سکا اور اس کے برعکس ہم نے ملک میں ون یونٹ نافذ کیا۔ ون یونٹ ایک ایسی اسمبلی نے دیا جس کی میعاد ختم ہو چکی تھی مگر وہ اپنی میعاد میں توسیع کر ر ہی تھی۔
ہم نے Independance Act,1947 کی روح کوتوڑا۔ 1940 میں مسلم لیگ کا ہونے والا تاریخی اجلاس جہاں یادگار کے طور پر ہم نے مینار پاکستان بنایا، اس اجلاس کی رو ح کو توڑا۔ اس ملک میں دو طاقتور وزیر اعظم بنے، ایک لیا قت علی خان اور دوسرے ذو الفقار علی بھٹو۔ ہم نے دونوں کو تاریک راہوں پر مرتے دیکھا۔
یہ ملک سردجنگ کے زمانے میں بنا۔ سردجنگ تو ختم ہوئی مگر اس کی باقیات زندہ رہیں، پھر ایک نئی سردجنگ کا آغاز ہوا امریکا اور چین کے مابین۔ اس نئی جنگ میں ہم نہ ہی کسی کے اتحادی ہیں اور نہ کسی کے خلاف۔ امریکا کا افغانستان سے انخلاء اور پھر C-130 جہاز کا کریش ہونا۔ جب جنرل ضیاء الحق اپنا کام کر چکے تو وہ چل بسے۔ جب وہ افغانستا ن سے نکلے تو اپنے دوست واحباب وہیں چھوڑ کر نکلے، وہ جہاز کے پروں سے لٹکے اور رن وے پر بھاگے۔ ایسے مناظر دنیا نے پہلی بار دیکھے۔
افغانستان کی سرزمین سے غیرملکی لشکر گزرتے رہے، کبھی شمالی ہندوستان پر حملہ کرنے کے لیے ،کبھی کابل ، ہرات و قندھار ، بغداد سے گزر کر مصر تک حملہ آور ہوتے رہے۔ شمالی ہند کی طرف جو لشکر آتے ، وہ مقامی قبائل کے سرداروں کو گاجر اور ڈنڈے کی پالیسی کے ذریعے اپنا ایجنٹ بناتے، پھر پشاوریا ڈیرہ اسماعیل خان سے دریائے سندھ عبور کرکے پنجاب کے ذریعے لشکر پانی پت کے میدانوں میں اترتے تھے۔
ان جغرافیائی زاویوں میں سندھ، سیستان، بلوچستان اور قندھار سے جڑا تھا۔ قندھار ،خراساں کا پایہ تخت تھا اور خراسان ایرا ن کا صوبہ تھا۔ دوسری طرف سندھ راجستھان اور بحیرہ عرب سے جڑا تھا۔ اس وقت تک تجارت کے لیے سمندری راستے نہیں کھلے تھے۔
اس کے علاوہ، سینٹرل ایشیا، روس کے زار کے زیرتسلط تھا۔ سوویت یونین کو بھی سردجنگ میں شکست ہوئی۔ کابل سے پسپا ہوا۔ دوسری جنگ عظیم میں انگلستان کو شکست تو نہیں ہوئی لیکن وہ اتنا کمزور ہوا کہ بین الاقوامی سامراجیت کا تاج امریکا کو پہنا دیا۔
برصغیر تقسیم ہو گیا۔ آزادی کے بعد ہم نے سیٹو اور سینٹو کو ترجیح دی ۔ خطہ پھوٹھوہار دہلی کی ہر حکومت کا فوجی ہیڈ کوارٹر رہا ہے، انگریز وں کے ادوار میں دفاع کی یہ حکمت عملی رہی ہے کیونکہ ہندوستان کو خطرہ انھیں شمال مغربی سرحدوں سے تھا جو ہزار سالوں سے رہا۔
اس بات کو غنیمت جانیے کہ اس ملک کے پاس ایک آئین ہے۔ ایک مصدقہ دستاویز جس کو Consensus Document کہا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ ہم اتفاق رائے سے بنی ہوئی، اس دستاویز پر عمل نہیں کرتے۔ وہ اس لیے کہ ہمارے پاس دنیا کا بہترین آئین تو ہے مگر ہمارا سیاسی نظام مفلوج ہے۔
اس آئین کی ارتقاء بہتر انداز میں اس لیے نہ ہو سکی کہ جب بھی یہاں کوئی حکومت کمزور ہوئی تو شب خون مارا گیا۔ پھر درباریوں نے جس طرح انگریزوں کی چاپلوسی کی، اپنے نمبر بنائے، اسی طرح سے انھوں نے آمروں کی چاکری کی۔ جب آمریت ناکام ہوئی تو انتخابات کروائے گئے۔ معذور جمہوریت بحال ہوئی۔
جب انھوں نے کارکردگی نہ دکھائی تو عزیز ہم وطنوں کا عروج ہوا۔ ان کے لوگ ابلاغ عامہ سے لے کر ہر پلیٹ فارم پر قابض تھے، لہٰذا جمہوریت کمزور سے کمزور ہوتی چلی گئی۔ اس پردے کے پیچھے بھی آمریت کے سائے تھے۔
درباریوں کی بھی اسٹاک ایکسچینج ہوتی ہے، ان کو پتا ہوتا ہے کہ اقتدار میں کیسے داخل ہونا ہے۔ سب لگ جاتے ہیں کہ ’’نظام بیٹھ گیا، بیٹھ جائے گا‘‘ جلدی کرو، ملک کو بچاؤ اور پھر دوبارہ عزیز ہم وطنوں۔ 1960 کا یہ ایشین ٹائیگر جو معیشت میں سنگاپور سے بھی آگے تھا، آج کہاں کھڑا ہے۔
پاکستان میں پچاس فیصد لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں اس طبقے کی تعداد اسی فیصد ہے اور سندھ میں ستر فیصد۔ یہاں تین سے چار کروڑ بچے اسکول میں داخلہ لینے سے قاصر ہیں۔ سندھ میں ایسے بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔
اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ یہ نظام اگر چل نہیں رہا تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟ ان میں سے ایک پراجیکٹ عمران خان کی حکومت بھی تھی جس نے نظام کو تباہ کر دیا۔ سیاسی جماعتیں، سیاسی خاندانوں کے ہتھے چڑھ گئیں۔ کبھی شریف خاندان تو کبھی بھٹو خاندان۔ عمران خان نے جس طرح سے نظام کو چلایا، ہم سب اس سے واقف ہیں ، اب ان کی پارٹی بھی خاندان کی خواتین کے ہاتھ میں ہے۔
اب قصہ شروع ہوا ہے محسن نقوی صاحب کا، کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا۔
ایسا ہونا اچانک نہیں تھا، ایسے حالات میں ایسے ہی واقعات جنم لیتے ہیں۔کسی کو پتا نہیں کہ کیبنٹ میں کون ہے۔ حکومت محسن نقوی کے بیان کو تسلیم نہیں کرتی اور بلاول بھٹو کو چپ لگ گئی ہے۔
ایک یوٹیوبر یہ کہتا ہے کہ اس کی ایک انتہائی سینئر بندے سے بات ہوئی ہے کہ چھ مہینے پارلیمنٹ کو دیتے ہیں کہ اٹھائیسویں ترمیم لائے ورنہ فائلیں تیار ہیں۔ فواد چوہدری کہتے ہیں کہ اگر بات سیدھے طریقے سے نہیں مانی گئی تو انگلی ٹیڑھی کرنی پڑے گی۔ یہ سب کیا ہورہا ہے۔ جن کی کوئی عوامی ساکھ نہیں ہے، وہ نظام بیٹھ جانے کی باتیں کررہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی مرضی کی حکومت قائم کی جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل