Saturday, August 08, 2026
 

ٹرمپ نے اپنے سابق وکیل ٹوڈ بلانش کو امریکا کا اٹارنی جنرل بنا دیا

 



امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق ذاتی وکیل ٹوڈ بلانش کی بطور اٹارنی جنرل نامزدگی کی منظوری صرف ایک ووٹ کے فرق سے دیدی جب کہ حکمراں جماعت کے دو سینیٹرز نے بھی ان کے خلاف ووٹ دیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 52 سالہ ٹوڈ بلانش کو امریکا کا اٹارنی جنرل بنانے کے لیے سینیٹ کے 50 ارکان نے حق اور مخالفت میں 49 سینیٹرز نے ووٹ دیئے۔ حیران کن طور پر ٹرمپ کی اپنی جماعت کے سینیٹرز سوزن کولنز اور لیزا مرکووسکی نے اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر مخالفت میں ووٹ دیا۔ بلانش کی نامزدگی کو سینیٹ میں ابتدا ہی سے مکمل حمایت حاصل نہیں تھی۔ بعض ری پبلکن سینیٹرز نے محکمہ انصاف کے سیاسی استعمال، ’اینٹی ویپنائزیشن‘ فنڈ اور صدر ٹرمپ سے متعلق ٹیکس معافی کے معاہدے پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔ ری پبلکن سینیٹر بل کیسیڈی نے بھی تحفظات کے باوجود آخرکار بلانش کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا جس سے ان کی منظوری کی راہ ہموار ہوگئی۔ دوسری جانب سینیٹر لیزا مرکووسکی نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو ایسا اٹارنی جنرل درکار ہے جو موجودہ انتظامیہ کے ’بدترین رجحانات‘ کو روک سکے اور انہوں نے بلانش کی جانب سے ایسا کرنے پر اعتماد کا اظہار نہیں کیا۔ بلانش کی بطور اٹارنی جنرل تقرری اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ وہ اس سے قبل صدر ٹرمپ کے ذاتی وکیل رہ چکے ہیں اور ان کے خلاف مختلف فوجداری مقدمات میں دفاعی ٹیم کا اہم حصہ تھے۔ اب وہ اسی حکومت کے محکمۂ انصاف کی سربراہی کریں گے جس پر ٹرمپ انتظامیہ کے ناقدین سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ بلانش نے 2023 میں صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس وقت سابق صدر کو متعدد فوجداری مقدمات کا سامنا تھا۔ اس سے قبل وہ نیویارک کی معروف قانونی فرم میں شراکت دار تھے لیکن ٹرمپ کا دفاع کرنے کے لیے انہوں نے نجی شعبے کی یہ ملازمت چھوڑ دی تھی۔ وہ ٹرمپ کے خلاف نیویارک کے ’ہش منی‘ مقدمے سمیت اہم قانونی کارروائیوں میں ان کے قریبی مشیر رہے۔ اگرچہ ٹرمپ کو اس مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا لیکن بلانش کی قانونی حکمت عملی کے نتیجے میں سزا سنانے کا عمل صدارتی انتخابات کے بعد تک مؤخر رہا۔ وفاقی مقدمات میں بھی بلانش اور ٹرمپ کی قانونی ٹیم کو اہم کامیابیاں ملیں۔ ٹرمپ کے خلاف انتخابی مداخلت کے مقدمے میں امریکی سپریم کورٹ نے صدارتی استثنیٰ کے دائرہ کار کو وسیع کیا، جبکہ خفیہ دستاویزات سے متعلق ایک وفاقی مقدمہ بھی خارج ہوگیا۔ ٹرمپ کے دوسری مرتبہ صدر بننے کے بعد بلانش نے محکمہ انصاف میں نائب اٹارنی جنرل کی حیثیت سے اہم کردار ادا کیا اور وقت کے ساتھ محکمے کے روزمرہ انتظام میں ان کا اثر و رسوخ بڑھتا گیا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ بعض ایسے اجلاسوں کی بھی سربراہی کرتے رہے جن کی نگرانی باضابطہ طور پر اٹارنی جنرل کی ذمہ داری تھی۔ بعد ازاں وہ قائم مقام اٹارنی جنرل بنے اور اب سینیٹ سے منظوری کے بعد مستقل طور پر اس عہدے پر فائز ہوگئے ہیں۔  بلانش کے قائم مقام اٹارنی جنرل بننے کے عرصے میں محکمہ انصاف نے متعدد اہم اقدامات کیے جنہیں ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیحات سے جوڑا گیا۔ محکمے نے سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی سمیت بعض سیاسی شخصیات کے خلاف مقدمات آگے بڑھائے، صحافیوں کے ذرائع سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے عدالتی احکامات اور سب پیناز جاری کیے اور حکومت کے بعض پروگراموں میں مبینہ فراڈ کے خلاف کارروائیوں کو ترجیح دی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے محکمہ انصاف کے اندر مبینہ ’سیاسی ہتھیار سازی‘ کے خلاف ایک فنڈ بھی قائم کیا تھا، تاہم بلانش کی نامزدگی کی سینیٹ میں مخالفت کے دوران اس معاملے پر شدید اعتراضات سامنے آئے اور بالآخر یہ منصوبہ ختم کردیا گیا۔ ایپسٹین فائلز تنازع میں بھی نمایاں کردار بلانش کا کردار جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلوں کے تنازع میں بھی خاصا نمایاں رہا۔ سابق اٹارنی جنرل پام بونڈی کی جانب سے ایپسٹین معاملے پر میڈیا میں مسلسل مشکلات کے بعد بلانش نے اس معاملے کی حکمت عملی سنبھالی اور بحران سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بلانش کی موجودگی اس وقت مزید اہم ہوگئی جب ٹرمپ انتظامیہ اور محکمہ انصاف پر ایپسٹین سے متعلق دستاویزات کے معاملے میں شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھے۔ بلانش کی تقرری پر سب سے بڑا سوال محکمہ انصاف کی آزادی سے متعلق اٹھایا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے سابق ذاتی وکیل کو ملک کے سب سے بڑے قانون نافذ کرنے والے ادارے کی سربراہی سونپنے سے مفادات کے ٹکراؤ اور سیاسی اثر و رسوخ کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ دوسری جانب ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بلانش ایک تجربہ کار وکیل اور سابق وفاقی پراسیکیوٹر ہیں اور وہ محکمہ انصاف کو انتظامی طور پر مؤثر انداز میں چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل