Thursday, August 13, 2026
 

ٹرمپ کو ترکیہ سے خفیہ طیارے میں منتقل کرنے کی اصل وجہ سامنے آگئی

 



واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گزشتہ ماہ ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران ممکنہ میزائل حملے کے خطرے کے باعث انتہائی خفیہ انداز میں ایک چھوٹے سرکاری طیارے میں منتقل کیا گیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی خفیہ ادارے سیکریٹ سروس کو یہ قابلِ اعتبار اطلاع ملی تھی کہ صدر ٹرمپ کو لے جانے والے ایئر فورس ون طیارے کو کندھے سے چلائے جانے والے میزائل سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ خطرہ ٹرمپ کے ترکیہ کے دورے کے آخری روز سامنے آیا۔ اس وقت ایران کے ساتھ امریکا کی کشیدگی عروج پر تھی۔ سیکریٹ سروس نے خطرے کو فوری اور قابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے صدر کی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنے کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے۔ اطلاعات کے مطابق حکام کے پاس منصوبہ بندی کے لیے زیادہ وقت نہیں تھا، اس لیے آخری وقت میں ٹرمپ کو ایک چھوٹے سرکاری طیارے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ میزائل حملے سے متعلق خفیہ معلومات امریکی حکام کو کہاں سے حاصل ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک دوسرے ذریعے نے بتایا کہ ٹرمپ کے خلاف حملے کی کوئی واضح عملی منصوبہ بندی سامنے نہیں آئی تھی، بلکہ صرف حملے کی نیت کے بارے میں معلومات موجود تھیں۔ اسی وجہ سے حکام نے اضافی حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے طیاروں کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ترکیہ میں نیٹو اجلاس میں شرکت کے بعد واپسی کے دوران اچانک نئے قطری طیارے کے بجائے پرانے ایئر فورس ون کے استعمال کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت وائٹ ہاؤس کی جانب سے طیارہ تبدیل کرنے کی اصل وجہ سامنے نہیں لائی گئی تھی۔ بعد میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کو انقرہ کے ہوائی اڈے پر بظاہر ایئر فورس ون میں سوار ہوتے دکھایا گیا، لیکن بعد میں انہیں انتہائی خفیہ انداز میں ایک چھوٹے فوجی طیارے میں منتقل کر دیا گیا۔ اس کارروائی کا مقصد صدر کی اصل نقل و حرکت کو چھپانا اور ممکنہ حملہ آوروں کو گمراہ کرنا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ کی بیرون ملک نقل و حرکت اور صدارتی طیارے کی سکیورٹی سے متعلق کئی سوالات سامنے آئے ہیں۔ امریکی حکام نے اس واقعے کے حوالے سے تمام تفصیلات منظر عام پر نہیں لائیں، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر کی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنے کا فیصلہ ممکنہ میزائل خطرے سے نمٹنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل