Loading
افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد کے میئر حبیب الرحمٰن منصور گاڑی میں ہونے والے بم دھماکے میں جاں بحق ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ حبیب الرحمٰن منصور اس وقت دھماکے کا نشانہ بنے جب وہ اپنی گاڑی میں موجود تھے تاہم دھماکے کی نوعیت یا حملہ کرنے والوں کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دھماکا بدخشاں کے شہر فیض آباد کے میونسپل دفتر کے قریب ہوا۔ جب میئر اپنے دفتر سے سرکاری گاڑی میں گارڈز کے ہمراہ نکل رہے تھے۔ گاڑی اچانک ہونے والے دھماکے میں تباہ ہوگئی۔
بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گاڑی کو مقناطیسی دھماکا خیز مواد کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تاہم آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ سرکاری سطح پر کوئی بیان سامنے آیا ہے۔
دوسری جانب تاحال پنجشیر میں حکمرانی قائم رکھنے والی طالبان مخالف مزاحمتی گروپ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ فیض آباد کے میئر کو طالبان انتظامیہ سے وابستگی کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
یاد رہے کہ شمالی اتحاد کے شہید سربراہ اور شیر پنجشیر کہلائے جانے والے احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کی قیادت کر رہے ہیں اور یہ افغانستان میں طالبان کے خلاف سرگرم سب سے اہم مزاحمتی گروپ ہے۔
فیض آباد کے میئر کا قتل ایسے وقت ہوا ہے جب بدخشاں میں طالبان حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
تقریباً دو ہفتے قبل بدخشاں کے اطلاعات و ثقافت کے ڈائریکٹر ذبیح اللہ امیری کو بھی مسلح حملے میں قتل کردیا گیا تھا۔ وہ ایک ضلع سے فیض آباد جاتے ہوئے موٹر سائیکل سوار مسلح افراد کے حملے کا نشانہ بنے تھے۔
تازہ حملہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ طالبان افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کی پانچویں سالگرہ کی تقریبات کی تیاری کر رہے ہیں۔ طالبان نے اگست 2021 میں امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد کابل پر دوبارہ قبضہ کیا تھا۔
بدخشاں طویل عرصے سے طالبان مخالف گروہوں اور داعش خراسان سمیت مختلف مسلح تنظیموں کی سرگرمیوں کے باعث سکیورٹی کے حوالے سے حساس صوبہ رہا ہے۔
2023 میں بھی فیض آباد میں طالبان کے ڈپٹی گورنر نثار احمد احمدی ایک کار بم حملے میں مارے گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کی تھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل