Monday, August 17, 2026
 

پی ایس ایل اونرز کے گلے شکوے

 



یہ اپارٹمنٹ تو بہت اچھا ہے، تمام سہولتیں بھی موجود ہیں لیکن کرایہ بہت زیادہ ہے، پھر جتنے عرصے بھی رہ لیں کرایہ کار ہی کہلائیں گے مالکانہ حقوق تو نہیں مل سکتے، ہاں آپ اسے مختلف سرگرمیوں میں استعمال کر کے کچھ رقم کما سکتے ہیں،البتہ اس سے کرائے والی رقم بھی پوری نہیں ہو گی، بلڈنگ میں بڑے بڑے لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے، ان سے ملاقاتیں ہوں گی، آپ مشہور بھی ہو جائیں گے، اگر اچھی حکمت عملی بنائی تو شاید مستقبل میں آمدنی بھی ہونے لگے لیکن فوری طور پر تو کروڑوں کا نقصان ہی اٹھانا پڑے گا۔ اگر کسی بزنس مین کو کوئی پہلے ہی یہ تصویر دکھا دے تو کیا وہ ایسے پروجیکٹ پر سرمایہ کاری کرے گا؟ شاید بیشتر انکار ہی کر دیں لیکن جانتے بوجھتے ہوئے کوئی اس میں شامل ہو اور صبر کیے بغیر  منافع نہ ہونے کا شکوہ کرنے لگے تو قصوروار وہی کہلائے گا۔ پی ایس ایل میں بھی ایسا ہی ہے، علی ترین چلاتے رہے کہ مجھے نقصان ہو رہا ہے اور پھر سخت باتوں کی وجہ سے ملتان سلطانز فرنچائز ہاتھ سے نکل گئی، ان سے پہلے والے اونرز بھی نقصان کا رونا رو کر چلے گئے تھے، ترینز نے ان سے سبق نہ لیا اور مزید زیادہ قیمت پر فرنچائز خرید لی، چونکہ اپنا کوئی فنانشل ماڈل نہ تھا لہذا جب تک عالمگیر صاحب حیات تھے سب چلتا رہا جیسے ہی ان کا انتقال ہوا اور علی اونر بنے تو انہیں اکائونٹس دیکھ کر اندازہ ہو گیا کہ یہ تو بہت گھاٹے کا سودا ہے۔ جب وہ بھی چلے گئے اور 2 سابقہ مثالیں موجود تھیں اس کے باوجود گوہر شاہ نے  مزید زیادہ رقم دے کر ایک ٹیم خرید لی اور اسے ملتان سلطانز کا ہی نام دے دیا، اب چند ماہ بعد ہی وہ بھی میڈیا میں نقصانات کی بات کر رہے ہیں، ایسا ہو گا یہ ایک بچہ بھی جانتا تھا لیکن چونکہ پہلے چمک زیادہ تھی لہذا آنکھیں بند ہو گئیں، اب کھلیں تو معاملات کا اندازہ ہو رہا ہے۔ پی ایس ایل کی رونق سال میں 2 ماہ ہی رہتی ہے، اونرز سیلیبریٹیز بن جاتے ہیں، میچ میں ٹی وی کیمرہ بھی ان پر ہوتا ہے، میڈیا میں خوب انٹرویوز چل رہے ہوتے ہیں، بڑے بڑے کرکٹرز و دیگر اہم شخصیات ساتھ ہوتی ہیں لیکن باقی کے دس ماہ تو پی سی بی بھی نہیں پوچھتا۔ او جیز (پرانے مالکان) کو تو ان معاملات کا اندازہ ہے دیگر کو اب ہوا ہو گا، اگر وہ پریشان ہیں تو اس میں غلطی انہی کی ہے کہ جوش میں آکر کیوں ایسی بڈ کی، جب خود جانتے بوجھتے ہوئے ٹیم خریدی تو انتظار کریں، کوئی پودا لگائیں تو وہ چند ماہ میں ہی پھل نہیں دیتا ہے اس میں وقت لگتا ہے،گوہر شاہ کو جب شروع میں ٹیم نہیں ملی تو ان کے آنسو سب نے دیکھے، بعد میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا مالک بننے کی بھی کوشش ہوئی، پھر قسمت نے انہیں موقع دیا کہ ایک پارٹی مالی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکی تو اس کی جگہ ٹیم مل گئی، جب خواب پورا ہو گیا اور آنکھ کھلی تو میڈیا میں آکر باتیں کرنا مناسب  نہیں۔ سب کو پی ایس ایل کے فنانشل ماڈل کا علم ہے، کسی کی فیس چاہے ایک لاکھ ہو یا ایک کروڑ بورڈ سینٹرل پول کی رقم یکساں تقسیم کرتا ہے، نئی مہنگی ٹیمیں بھی سب جانتی تھیں لہذا اب انتظار کریں، فواد سرور کو تو کوئی فرق نہیں پڑنا، ان کے پاس بہت پیسہ ہے، ان کی اگرناراضی ہوئی بھی تو آمدنی پر نہیں بلکہ کرکٹنگ یا اہمیت نہ دینے جیسے معاملات پر ہوگی۔ حیدرآباد کنگزمین بڑی پارٹی ہے لیکن دیگر کو مسائل ہونے لگے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ کم قیمت والی پرانی فرنچائز بھی یہی کہتی ہیں کہ نقصان میں ہیں تو نئی کی کیا بات کریں، اس کے باوجود اگر آپ کل مزید ٹیموں کی نیلامی کریں تو کئی نئے لوگ اربوں روپے میں انہیں خرید لیں گے لیکن پھر آپ کو تگڑی پارٹیز لانا ہوں گی۔ پی ایس ایل سے اور بھی تو کئی فوائد ہیں، آپ اپنے دیگر بزنسز کو بڑھا سکتے ہیں، ٹیکس معاملات میں بھی ” فوائد“ ملتے ہوں گے، دراصل کاغذ پر لیگ نفع میں ہے لیکن اصل  فائدہ بورڈ کا ہی ہے، تمام فرنچائز بھاری فیس ادا کرتی ہیں، بغیر کسی اپنی سرمایہ کاری کے بڑا ٹورنامنٹ ہو جاتا ہے، دو سال سے بعض اسٹیک ہولڈرز کبھی جنگ تو کبھی کوئی اور بہانہ بنا کر ادائیگی نہیں کر رہے جس سے فرنچائزز کو پیسہ نہیں مل رہا اور وہ پریشان ہیں۔ چیئرمین محسن نقوی نے پی ایس ایل کے معاملات الگ کرتے ہوئے دیگر آفیشلز کو فری ہینڈ دیا لیکن وہ لوگ ڈیلور نہیں کر سکے، زیادہ کھل کر بات نہیں کروں گا لیکن بڑے سنگین مسائل ہیں جنہیں جلد حل کرنا پڑے گا، بعض پی ایس ایل آفیشلز نے ذاتی تشہیر کو ترجیح دی، اپنا پروفائل بہتر بنایا، سوشل میڈیا پر ہیرو بنے، وہ خود کو سیلیبریٹی سمجھنے لگے اور اب انڈور سمینٹ تک کی ویڈیوز بھی بناتے ہیں، کاش یہ لوگ چیئرمین کی جانب سے دی گئی پاور کا درست استعمال کر لیتے۔ گزشتہ سال جو مسئلہ سامنے آیا وہی اب بھی درپیش ہے، پہلے اسے حل کریں اور پھر اگلے سال کیا ہو گا اس کا سوچیں، پی ایس ایل اب بھی ہمارے ملک کی سب سے بڑی برانڈ ہے، اسے کامیاب بنانے  کیلیے اقدامات کریں، اس سے اچھا ماحول کب ملے گا جب میڈیا نہ ہی سابق کرکٹرز کچھ کہتے ہیں، اب تو ڈیلیور کریں، اونرز کو بھی چاہیے کہ اگر آپ نقصانات برداشت نہیں کر پا رہے تو پی سی بی کو بتائیں اور ٹیم چھوڑ دیں بہت سے لوگ اب بھی لائن میں لگے ہیں، غیرملکی میڈیا میں آکر لیگ کو بدنام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، کسی کو زبردستی فرنچائز نہیں دی گئی سب نے اپنی مرضی سے بھاری رقوم دے کر انہیں خریدا، ایک طرف “ کرکٹ سے محبت کے دعوے“ ساتھ ”سفر کو جاری نہ رکھ پانے اور دیوالیہ ہونے کے خدشات“، یہ باتیں سمجھ نہیں آ رہیں۔ آپ اب  اس وقت کا انتظار کریں جب خوب منافع ہو یا پھر اپنے برانڈ کو اتنا مضبوط بنائیں کہ وہ اسپانسر شپ و دیگر سرگرمیوں سے ہی پروفٹ میں چلی جائے، محض گلے شکوے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل