Loading
لاہور سمیت پنجاب کے بڑے شہروں کی مصروف مارکیٹوں، سگنلز اور شاہراہوں پر پھول، پینسل، کھلونے، کتابیں، ٹشو اور دیگر معمولی اشیا فروخت کرنے کی آڑ میں بچوں ،خواتین اوربزرگوں کا بھیک مانگنے کا رحجان بڑھتا نظرآرہا ہے۔ بظاہر یہ افراد محنت کرکے روزی کمانے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن زیادہ تر اشیاء کی فروخت خریدار کی ہمدردی حاصل کرکے رقم لینے کا ذریعہ بن جاتی ہے، جسے ماہرین پردہ پوش گداگری قرار دیتے ہیں۔
لاہور کی لبرٹی مارکیٹ، مین مارکیٹ، انارکلی، اچھرہ، مال روڈ، ہال روڈ اور دیگر تجارتی مراکز میں ایسے افراد بکثرت دیکھے جاسکتے ہیں۔ بعض بچوں کے ہاتھ میں پھول، پنسل یا کھلونے ہوتے ہیں، جبکہ کچھ افراد کتابیں یا دیگر معمولی اشیا پیش کرتے ہیں۔ کئی معاملات میں شے کی قیمت سے زیادہ توجہ اپنی غربت اور مجبوری بیان کرکے خریدار کی ہمدردی حاصل کرنے پر ہوتی ہے۔
یونیسف کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق سڑکوں سے وابستہ بچوں کا مسئلہ پاکستان میں بڑی حد تک غیر دستاویزی ہے، جبکہ لاہور، کراچی، پشاور، راولپنڈی اور ملتان سمیت بڑے شہری مراکز میں ایسے بچے موجود ہیں۔ امریکی محکمہ محنت کی 2024 کی رپورٹ میں بھی بھیک مانگنے، سڑکوں پر اشیا فروخت کرنے اور جبری گداگری کو بچوں کے استحصال سے متعلق خطرات میں شامل کیا گیا ہے۔
جامعہ اوکاڑہ کے محققین کی جانب سے پنجاب کے 15 اضلاع میں 45 بھکاریوں پر کیے گئے مطالعے کے مطابق بچوں کے ذریعے عوامی ہمدردی حاصل کرنا، غربت ظاہر کرنا اور جذباتی اثر ڈالنا گداگری کی اہم حکمت عملیوں میں شامل ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ عمر اور جنس کے لحاظ سے گداگری کے طریقے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کی 2025 کی تحقیق میں بھی بچوں کی گداگری کو وسیع تر معاشی اور انتظامی مسائل سے جوڑا گیا ہے۔ محققین نے ایسے نوعمروں کے انٹرویوز کیے جن سے معلوم ہوا کہ بعض صورتوں میں ان کی کمائی پر ان کا اپنا اختیار نہیں ہوتا اور رقم والدین یا سرپرستوں کے پاس چلی جاتی ہے۔
فاؤنٹین ہاؤس لاہور کی ماہر نفسیات ڈاکٹر عائشہ عمران مرتضیٰ کہتی ہیں دکھ، ہمدردی اور انسانی مشکلات پر مبنی جذباتی اپیلیں لوگوں کے عطیہ دینے کے رجحان کو بڑھا دیتی ہے۔
ان کے مطابق یہی نفسیاتی کیفیت بعض افراد کو اشیاء کی حقیقی قیمت کے بجائے سامنے والے کی کہانی اور حالت سے متاثر ہوکر زیادہ رقم دینے پر آمادہ کرتی ہے۔ سرچ فار جسٹس کے سربراہ اور چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب کے بورڈ رکن افتخار مبارک سمجھتے ہیں ہر سڑک فروش کو بھکاری قرار دینا درست نہیں، تاہم بچوں کو معمولی اشیا تھما کر ہمدردی کے ذریعے رقم حاصل کرنا تشویش کا معاملہ ہے۔
ان کے مطابق بعض منظم گروہ بچوں کو پرہجوم مقامات پر استعمال کرتے ہیں، اس لیے ریاستی اداروں کو یہ جانچنا ہوگا کہ بچہ واقعی روزگار کما رہا ہے یا کسی منظم گداگری کا حصہ ہے۔ سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کے سربراہ سید کوثرکہتے ہیں مسئلہ صرف چند روپے دینے یا نہ دینے کا نہیں بلکہ غربت، بچوں سے مشقت، منظم گداگری اور شہریوں کے جذباتی استحصال کے درمیان فرق واضح کرنے کا ہے۔ ان کے مطابق شہریوں کو انفرادی طور پر جذباتی اپیلوں پر رقم دینے کے بجائے مستند فلاحی اداروں کے ذریعے ضرورت مند افراد کی مدد کرنی چاہیے۔
پنجاب سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال ڈیپارٹمنٹ کے مطابق لاہور میں بھکاریوں کی بحالی کے لیے ویلفیئر ہوم قائم ہے، جہاں ان کی سماجی و معاشی صورتحال کا جائزہ، طبی سہولت اور فنی تربیت فراہم کی جاتی ہے، جبکہ بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو بھیجا جاتا ہے۔
چائلڈپروٹیکشن اینڈویلفیئربیورو کے حکام نے تصدیق کی کہ اب زیادہ تربھکاری براہ راست بھیک مانگنے کی بجائے اشیاء فروخت کرنے یا گاڑیوں کی ونڈسکرین صاف کرنے کے نام پربھیک مانگتے ہیں۔
حکام کے مطابق پنجاب میں بچوں کو گداگری پر مجبور کرنے پر سخت سزاؤں کی قانونی گنجائش موجود ہے۔ رواں سال مئی میں لاہور ہائیکورٹ نے بھی حکومت کو بھکاری مافیا کے خلاف فوری اقدامات اور موجودہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد کی ہدایت کی تھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل