Loading
وفاقی پولیس نے اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز کی نرسری میں 14 بچوں کے جاں بحق ہونے والے سانحے کی انکوائری رپورٹ مکمل کر کے آئی جی اسلام آباد کو ارسال کردی اور وزارت داخلہ کو بھیج دی جائے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ سانحہ پمز پر وفاقی پولیس کی انکوائری رپورٹ وفاقی وزارت داخلہ کو ارسال کی جائے گی، رپورٹ میں نامزد افسران کے تحریری بیانات اور ان کی لوکیشن بھی شامل کی گئی ہے۔
انکوائری کے حوالے سے بتایا گیا کہ پمز اسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور سیف سٹی کی فوٹیج بھی رپورٹ کا حصہ ہیں، پولیس نے سابق ای ڈی پمز عمران سکندر اور پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ سے بھی تحری بیانات لے لیے ہیں، اسی طرح ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر مطاہر، چوہدری وارث علی رضا، ڈاکٹر نوشیلا امجد، ڈاکٹر محمد عثمان اور ڈاکٹر عبدالرحمان کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پولیس کی جانب سے بچہ بچانے والی نرس رضیہ کا بیان بھی لیا گیا ہے اور تمام کارروائی 174 کی رپورٹ کے تحت کی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے حتمی اجازت کے بعد مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل