Loading
ریاض: سعودی عرب کے جنوبی علاقے میں متعدد توانائی تنصیبات اور مراکز پر حملوں کے نتیجے میں کئی مقامات پر آگ لگ گئی جبکہ بعض آپریشنز عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں۔
سعودی وزارت توانائی کے مطابق حملوں کے بعد متعدد افراد زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ متعلقہ ادارے متاثرہ تنصیبات کو محفوظ بنانے، آگ پر قابو پانے اور نقصانات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔
سعودی حکام کے مطابق حملوں میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 73 افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
#بيان | تعرب وزارة الخارجية عن إدانة واستنكار المملكة العربية السعودية بأشد العبارات استهدافات ميليشيا الحوثي الإرهابية أعيان مدنية واقتصادية في (أبها، وخميس مشيط، وجازان، ونجران) نتج عنها إصابة ثلاثة وسبعين مدنيًا من بينهم نساء وأطفال، إلى جانب استمرار الميليشيا في استهداف السفن… pic.twitter.com/HIxMQIDESQ
— وزارة الخارجية ???????? (@KSAMOFA) September 8, 2026
سعودی وزارت خارجہ نے حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائی قرار دیا ہے۔ سعودی حکام نے مزید کہا کہ حملوں کے اثرات کا جائزہ لیا جارہا ہے اور تنصیبات اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔
#بيان | استهداف عدد من منشآت ومرافق قطاع الطاقة في المنطقة الجنوبية من المملكة. pic.twitter.com/xmDe6pg4NQ
— وزارة الطاقة (@MoEnergy_Saudi) September 8, 2026
حالیہ حملوں نے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات کے تحفظ اور خطے میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔ جازان میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو بھی حالیہ دنوں میں حملوں کا سامنا رہا ہے، تاہم تازہ نقصانات کا مکمل تخمینہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل