Loading
جوڈیشل کمیشن آج کارروائی کا آغاز ہوا تو ڈاکٹر سمعیہ کا بیان ریکارڈ کیا گیا، جسٹس عمر سیال نے کمیشن کو ملنے والے میسجز اور ای میلز سے آگاہ کیا۔
ڈاکٹر سمعیہ نے بیان دینا شروع کیا گیا، میر رضا کیس میں کمیشن نے سوالات کیے۔ جسٹس عمرسیال نے کمیشن کو ملنے والے میسجز اور ای میلز کا بتایا۔
میر رضا کیس جوڈیشل کمیشن نے پوچھا کہ آپ کب سے پولیس سرجن کے عہدے پر کام کررہی ہیں، انہوں نے جواب دیا کہ 10 جون 2022 سے بطور پولیس سرجن کراچی کام کررہی ہوں۔
سوال کیا گیا کہ کتنے پوسٹ مارٹم کیے ہیں، ڈاکٹر سمیعہ نے جواب دیا کہ 99 قبر کشائی کرچکی ہوں، کراچی اور ٹھٹہ میں، پی آئی اے ٹیسررسٹ اٹیک کیس میں ایک دن میں 11 قبر کشائی کی تھیں، ڈاؤ میڈیکل سے 1996 سے ایم بی بی ایس کیا ہے۔
کمشین نے ریمارکس دیے کہ خوشی ہے کہ سندھ حکومت نے ایک قابل افسر کو تعینات کررکھا ہے، کمیشن نے استفسار کیا کہ جب ایک ڈیڈ باڈی اسپتال میں آتی کیا ایس او پی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تین صورتوں میں ڈیڈ باڈی ہمارے پاس آتی ہیں ، رشتے دار لے کر آتے ہیں ، پولیس یا پھر ایمبولینس لے کر آتی ہیں، جو بھی ڈیڈ باڈی آتی ہے میڈیکو لیگل سرٹفکیٹ جاری کرتے ہیں، پولیس اگر وہاں نہیں ہوتی ہے تو ہم پولیس کو مطلع کرتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل