Tuesday, September 08, 2026
 

جماعت اسلامی کا حکومت کو تجاویز پر غور کیلئے 10 ستمبر تک وقت

 



 پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور بھاری پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ رات کی تاریکی میں ایک بار پھر شب خون مارا گیا، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا، حکمران بے حس ہی نہیں بلکہ انہوں نے غیرت وحمیت کا جنازہ نکال دیا ہے، حکومت عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنی غیر ضروری اخراجات اور عیاشیوں میں کمی کرے، جماعت اسلامی کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر عمل درآمد سے اربوں روپے کی بچت ممکن ہے۔ چیئرنگ کراس مال روڈ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اپنی جگہ، لیکن پاکستان میں اصل مسئلہ بھاری لیوی ہے۔ فی لٹر پیٹرول پر تقریباً 130 سے 148 روپے تک اضافی بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے جس کے باعث پیداواری لاگت اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور حکومتی کمیٹی کے درمیان اسلام آباد میں گزشتہ روز اڑھائی گھنٹے تک مذاکرات ہوئے۔ حکومتی کمیٹی میں وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا ثنا اللہ، علی پرویز ملک، بلال اظہر کیانی، ایف بی آر، پلاننگ اور وفاقی سیکرٹریز کے نمائندے شریک تھے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے لیاقت بلوچ، فراست شاہ، نوید علی بیگ اور عنایت اللہ خان سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔ لیاقت بلوچ کے مطابق جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی میں کمی، سرکاری اخراجات گھٹانے اور مختلف شعبوں میں بچت کے لیے متبادل تجاویز پیش کیں، جنہیں حکومتی کمیٹی رد نہیں کرسکی اور دو سے تین روز کا وقت مانگا۔ مذاکرات کا اگلا دور 10 ستمبر کو اسلام آباد میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی نمائندوں نے مذاکرات شروع ہونے کے باعث دھرنا مؤخر کرنے کی درخواست کی، تاہم جماعت اسلامی نے یہ تجویز مسترد کردی۔ حکومت اگر پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا اعلان کردے تو احتجاج ختم کردیا جائے گا، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مرحلہ وار وسیع کیا جائے گا۔ نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مقامی اور درآمدی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا الگ طریقہ کار اختیار کرکے صارفین کو ریلیف دیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق ریفائنریوں کی استعداد کے مکمل استعمال، ٹیوب ویل سبسڈی کے خاتمے، غیر ضروری وفاقی اخراجات میں کمی، مفت بجلی کے خاتمے اور بعض سماجی منصوبوں کو صوبوں کو منتقل کرنے سے بھی وفاقی بجٹ پر بوجھ کم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیوب ویل سبسڈی واپس لینے سے 20 سے 25 ارب روپے، سماجی منصوبوں کو صوبوں کو منتقل کرنے سے 217 ارب روپے اور مفت بجلی کی سہولت ختم کرنے سے 168 ارب روپے تک کی بچت ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو گندم کی سات ارب روپے کی سبسڈی صوبوں کو منتقل کرنی چاہیے جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ختم کرنے کے بجائے اس میں موجود کرپشن کا خاتمہ کیا جائے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت غیر ضروری اخراجات کم کرنے کے بجائے عوام پر مسلسل بوجھ ڈال رہی ہے۔ ایف بی آر پر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود ٹیکس وصولی کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہورہے، اس لیے اداروں کے اخراجات اور کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو جماعت اسلامی ٹرین مارچ، لانگ مارچ اور پہیہ جام سمیت احتجاج کے اگلے مراحل کی طرف جائے گی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مسترد کرتے ہیں اور اسے واپس لیا جانا چاہیے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم کے غیر ملکی دورے اہم ہوسکتے ہیں، تاہم ملک میں بڑھتی مہنگائی اور عوام کو درپیش مشکلات پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ حکومت سنجیدگی سے عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کرے، بصورت دیگر جماعت اسلامی اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل