Wednesday, September 09, 2026
 

گندم سستی، آٹا کیوں مہنگا؟

 



ہمارے ہاں جب بھی معاشی ترقی یا زرعی اصلاحات کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، تو مجھے اس دھرتی کے اس بے زبان کسان کی بستی یاد آتی ہے جو سال کے بارہ مہینے مٹی سے مٹی ہو کر اس ملک کے چودہ کروڑ انسانوں کا پیٹ بھرتا ہے، مگر بدلے میں اسے صرف ذلت، قرض اور فاقے ملتے ہیں۔ ہم ایک ایسے معاشی نظام کی لپیٹ میں ہیں جہاں محنت کش کا استحصال محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم حکمتِ عملی بن چکا ہے۔ اس ستم ظریفی کی سب سے واضح اور تازہ ترین مثال ہماری سب سے بنیادی اور حیاتیاتی ضرورت یعنی گندم کی فصل اور اس کے گرد بُنا گیا ذخیرہ اندوزی کا گھناؤنا جال ہے۔ کچھ ماہ قبل کی بات ہے، جب ہمارے کسانوں نے خون پسینہ بہا کر گندم کی فصل تیار کی تھی۔ تیل کی آسمان کو چھوتی قیمتیں، کھاد کے بلیک میں ملنے والے تھیلے، زہریلی ادویات کے کمر توڑ اخراجات اور بجلی کے بھاری بلوں کے باوجود کسان نے جیسے تیسے کرکے گندم کی بمپر فصل کاشت کی۔ لیکن جب فصل کٹائی کے مراحل میں پہنچی اور کسان اپنی چھ ماہ کی محنت کا پھل سمیٹنے کے لیے منڈیوں میں آیا، تو ایک سوچا سمجھا ڈرامہ رچایا گیا۔ حکومت نے اپنے محکمہ خوراک جیسے اداروں کے ذریعے خریداری کا روایتی ہدف کم کرکے پورا میدان نجی خریداروں، آڑھتیوں اور درمیانے تاجروں کے لیے کھلا چھوڑ دیا۔ وہ سرکاری محکمے جو ماضی میں گندم خرید کر ایک اضطراری ذخیرہ بناتے تھے تاکہ منڈی میں قیمتیں قابو میں رہیں، انہوں نے کسان کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ کسان، جس کے سر پر آڑھتیوں کے قرضے، بینکوں کی قسطیں اور بچوں کی روٹی کا بوجھ تھا، وہ اپنی فصل کو سنبھالنے کی طاقت نہ رکھتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اسے مجبور کرکے اس کی گندم 3100 سے 3400 روپے فی من کے انتہائی سستے اور تذلیل آمیز ریٹ پر بیچنے پر مجبور کیا گیا۔ اس وقت طاقتور ایوانوں اور میڈیا کے پردوں پر بڑے فخر سے یہ بیانیہ پیش کیا گیا کہ ’’گندم کی وافر مقدار موجود ہے اور ملک میں آٹا سستا ہوگا۔‘‘ مگر کسان کا گندم بیچنا تھا کہ دھرتی کا یہ سونا اس کے کچے کوٹھے سے نکل کر سرمایہ داروں اور درمیانے تاجروں کے ایئر کنڈیشنڈ گوداموں میں منتقل ہو گیا۔ اور جیسے ہی گندم کی آخری بوری کسان کے ہاتھ سے نکل گئی، اچانک منڈی کا نقشہ ہی بدل دیا گیا۔ جس گندم کو کل تک سستا کہہ کر ٹھکرایا جا رہا تھا، وہی گندم آج نایاب کر دی گئی ہے۔ جو گندم کسان سے 3100 روپے میں خریدی گئی تھی، آج وہی گندم ہول سیل منڈیوں میں 4200 سے 4700 روپے فی من کے حساب سے بلیک میں بک رہی ہے۔ یہ محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ ایک جیتا جاگتا معاشی جبر ہے۔ اب ذرا عام شہری اور خود اس غریب کسان کی حالتِ زار پر نظر ڈالیں جو آج اپنے بچوں کے لیے روٹی کا ایک نوالہ ڈھونڈ رہا ہے۔ اس وقت مارکیٹ میں فائن فلور ملز کے 20 کلو آٹے کا تھیلا 2800 روپے سے لے کر 3150 روپے تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ شہروں اور دیہاتوں کی چکیوں پر یہی آٹا 150 سے 170 روپے فی کلو کی بلند ترین سطح کو چھو رہا ہے۔ یعنی 20 کلو چکی کا آٹا غریب کو 3000 سے 3250 روپے میں مل رہا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ کون سا معاشی فارمولا ہے؟ جب کسان نے گندم 3100 روپے فی من کے حساب سے یعنی تقریباً 77 روپے فی کلو بیچی تھی، تو وہی آٹا پسنے کے بعد عوام کی تھالی تک پہنچتے پہنچتے ڈبل قیمت کا کیسے ہوگیا؟ گندم سے آٹا بننے کے درمیان کا یہ منافع کس کی جیب میں جا رہا ہے؟ سیدھی سی بات ہے کہ اس پورے ڈرامے کا واحد فائدے مند وہ درمیانہ تاجر ہے جو بغیر کسی مشقت کے صرف گوداموں میں گندم چھپا کر فی من پر 1000 سے 1300 روپے کا حرام منافع کما رہا ہے۔ اس کی بدترین ضرب اب آنے والی فصل پر پڑنے والی ہے۔ جب کسان کو اپنی لگاتار مشقت کے بعد بھی لاگت نہ ملی، تو وہ اب گندم کا رقبہ کم کرنے پر مجبور ہورہا ہے۔ کل کو جب ہمارے اپنے کھیت ویران ہوں گے، تو یہی حکمران کشکول اٹھا کر بیرونِ ملک سے مہنگے ڈالروں میں گندم منگوائیں گے اور قوم کو مزید مقروض کریں گے۔ ہمارے حکمران اور پالیسی ساز اکثر غذائی تحفظ کی کانفرنسوں میں لمبے چوڑے خطابات فرماتے ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ جب تک ریاست اپنے کاشتکار کو تحفظ نہیں دے گی اور اس چنگیزی اجارہ داری کو ختم نہیں کرے گی، تب تک کوئی زرعی یا معاشی انقلاب ممکن نہیں۔ اگر کسان کو اس کی فصل کا پورا معاوضہ نہ ملا، تو آنے والے سالوں میں کوئی شخص زمین میں بیج بوئے گا اور نہ ہی اس ملک کا عام شہری پیٹ بھر کر روٹی کھا سکے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ ریاست محض رسمی چھاپوں اور بیانات سے باہر نکلے۔ گوداموں میں پڑی ہوئی اس ذخیرہ شدہ گندم کو سرکاری تحویل میں لیا جائے، منافع خوروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے، اور کسان کو اس کا جائز حق دیا جائے۔ اگر آج بھی ہم نے اس مظلوم کسان کی آہ اور عام شہری کی بھوک پر کان نہ دھرے، تو تاریخ کا یہ جبر کسی کو معاف نہیں کرے گا! نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل