Loading
لاہور سے تعلق رکھنے والے عبدالمعید ایک نایاب جینیاتی بیماری کے باعث جسم کا بیشتر حصہ حرکت دینے سے قاصر ہیں لیکن جسمانی مشکلات ان کے کاروباری سفر کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ وہ آج صرف ایک انگلی کی مدد سے لاکھوں روپے کا ڈیجیٹل کاروبار چلا رہے ہیں۔
عبدالمعید کو محض 7 سال کی عمر میں ڈوشین مسکیولر ڈسٹروفی نامی بیماری کی تشخیص ہوئی جس کے باعث وقت کے ساتھ پٹھے مسلسل کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ 10 سال کی عمر تک وہ ویل چیئر کے محتاج ہو گئے۔
عبدالمعید کے مطابق ڈاکٹروں نے ان کے اہلِ خانہ کو بتایا تھا کہ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں اور ممکن ہے کہ وہ 20 سال کی عمر تک ہی زندہ رہ سکیں۔ بعدازاں 2010 میں بیماری نے ان کے پھیپھڑوں کو بھی متاثر کیا اور انہیں سانس لینے کیلئے وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑنے لگی۔
View this post on Instagram
آج عبدالمعید کی عمر 30 سال سے زائد ہے۔ بیماری کے باعث ان کے جسم کی حرکت انتہائی محدود ہو چکی ہے، تاہم وہ اپنے ہاتھ کی ایک انگلی حرکت دے سکتے ہیں اور اسی کے ذریعے کمپیوٹر اور دیگر ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔
عبدالمعید اپنی کمپنی امیزنگ گیمنگ کے چیئرمین ہیں اور ایک انگلی سے ٹائپ کر کے نہ صرف اپنی ٹیم سے رابطے میں رہتے ہیں بلکہ کاروباری اہداف اور دیگر معاملات بھی دیکھتے ہیں۔
ان کی کہانی سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد صارفین کی بڑی تعداد نے ان کے حوصلے، عزم اور مشکلات کے باوجود خود کو معاشی طور پر فعال رکھنے کی کوشش کو سراہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل