Loading
اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس خودکش حملے کے متاثرین کو معاوضہ کی عدم ادائیگی کے کیس میں ڈپٹی کمشنر آفس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو شہداء کو معاوضہ ادائیگی کے لیے الگ بجٹ مختص نہ ہونے سے متعلق آگاہ کر دیا۔
عدالت نے جوائنٹ سیکریٹری ایڈمن آئی سی ٹی کو تمام متعلقہ ریکارڈ سمیت 15 ستمبر کو طلب کر لیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس خودکش حملے کے متاثرین کو معاوضہ ادائیگی کے لیے محمد آصف گجر ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔
ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ شہداء کی فیملیز کو معاوضہ ادائیگی کے لیے رقم مختص نہیں کی گئی۔ ترلائی امام بارگاہ دھماکے میں جاں بحق اور زخمی افراد کے خاندانوں میں معاوضے کے چیکس تقسیم کیے گئے تھے۔ چیف کمشنز آفس کو خط لکھ کر فنڈز مختص کرنے کا کہا گیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا دوبارہ جواب آیا کہ فنڈز نہیں ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل تصدق حنیف نے کہا ان کے پاس بگھی پر بیٹھنے کے پیسے ہیں لیکن شہیدوں کو دینے کے لیے نہیں ہیں۔
اسٹیٹ کونسل نے بتایا کہ ترلائی امام بارگاہ دھماکے کے متاثرین کو معاوضہ وزارت داخلہ سے فنڈز ملنے کے بعد دیا گیا۔ عدالت نے کہا ہم سیکرٹری داخلہ کو بلا رہے تھے، لیکن ابھی جوائنٹ سیکرٹری ایڈمن آئی سی ٹی کو بلا لیتے ہیں جس کے بعد کیس کی سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل