Wednesday, September 09, 2026
 

سفاک باپ نے ویڈیو وائرل ہونے پر 22 سالہ بیٹی کو قتل کرکے روڈ ایکسیڈنٹ کا رنگ دیدیا

 



بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں 22 سالہ لڑکی کو قتل کرکے واردات کو سڑک حادثے کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق صوفیہ نامی 22 سالہ لڑکی ایک اسپتال میں ریسپشنسٹ کے طور پر کام کرتی تھی۔ واقعہ تقریباً ایک ماہ قبل 12 اگست کی رات پیش آیا جب صوفیہ اپنے والد فاروق اور 38 سالہ بھائی محمد حبیب کے ساتھ موٹر سائیکل پر نکلی۔ پولیس کو تفتیش کے دوران پتا چلا کہ  حبیب نے گھیل جی پورہ گاؤں کے قریب موٹر سائیکل ایک سنسان کچے راستے کی طرف موڑی اور وہاں ہتھوڑے سے اپنی بہن کے سر پر تین وار کیے جس سے وہ شدید زخمی ہوگئی۔ اس کے بعد باپ اور بیٹے نے مبینہ طور پر صوفیہ کو مرکزی سڑک پر منتقل کیا اور موٹر سائیکل کو بھی اس انداز میں نقصان پہنچایا کہ واقعہ تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے ہونے والا سڑک حادثہ محسوس ہو۔ حادثے کا ڈراما کیسے بے نقاب ہوا؟ سب سے پہلے لڑکی کے بھائی حبیب نے پولیس کو اطلاع دی کہ گھیل جی پورہ چوراہے کے قریب ایک تیز رفتار گاڑی نے ان کی موٹر سائیکل کو پیچھے سے ٹکر ماری جس کے نتیجے میں صوفیہ کے سر پر شدید چوٹیں آئیں جبکہ میں بھی معمولی زخمی ہوا تھا۔ بھائی حبیب نے پولیس کو مزید بتایا کہ صوفیہ کو فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ اگلے روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ تحقیقات آگے بڑھیں تو پولیس کو حادثے کی کہانی میں شکوک پیدا ہوئے اور معاملہ قتل تک جا پہنچا۔ ویڈیو وائرل ہونا مبینہ طور پر قتل کی وجہ بنا پولیس کے بقول تقریباً تین ماہ قبل صوفیہ کی ایک شخص کے ساتھ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ تفتیش میں سامنے آیا کہ اس ویڈیو کے بعد اس کے والد اور بھائی مبینہ طور پر شدید ناراض تھے اور انہیں خاندان کی سماجی بدنامی کا خدشہ تھا۔ پولیس کا الزام ہے کہ اسی غصے اور ’عزت‘ کے نام پر دونوں نے صوفیہ کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ تفتیش کاروں کے مطابق حبیب نے گھر سے نکلتے وقت لوہے کا ہتھوڑا اپنی شلوار میں چھپا رکھا تھا، جس کے بعد مبینہ طور پر سنسان مقام پر صوفیہ کو نشانہ بنایا گیا۔ پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے اور ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش جاری ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل