Wednesday, September 09, 2026
 

تشدد کرنے والوں کو معاف نہیں کروں گا، انہیں سبق ملنا ضروری ہے، پروفیسر عارف ساقی

 



جامعہ کراچی شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئر پرسن ڈاکٹر عارف ساقی نے کہا ہے کہ تشدد کرنے والے بااثر شخص کے والد نے رابطہ کر کے معافی مانگی تاہم میں نے جواب میں کہا کہ مار پیٹ بدمعاشی اور غنڈہ گردی ہے۔ ایکسپریس نیوز نے گزشتہ روز صفورا چورنگی کے قریب وی آئی پی کلچر کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بننے والے جامعہ کراچی کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر عارف خان ساقی نے کہا ہے کہ میں 21 گریڈ کے اسکیل پر ضرور ہوں مگر ایمانداری کے ساتھ ملازمت کرتا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ میں آج بھی کرایے کے گھر میں رہتا جبکہ کوئی گاڑی نہیں ہے مگر علم ہی میری دولت ہے۔ پروفیسر عارف ساقی نے کہا کہ  موٹرسائیکل پر حادثے کی وجہ سے گاڑی میں سفر کرنا شروع کیا ہے۔ پروفیسر عارف ساقی نے بتایا کہ تشدد کرنے والے ملزم کے والد نے گزشتہ روز رابطہ کر کے کہا کہ بیٹے سے غلطی ہوگئی ہے معاف کردیں جس پر میں نے جواب دیا کہ آپ اپنے الفاظ کو درست کریں کیونکہ گاڑی لگنا غلطی تھی، اُس کے بعد جو تشدد، زدو کوب، حبس بے جا میں رکھا گیا وہ دہشت گردی، غنڈہ گردی اور بدمعاشی ہے۔ شعبہ اسلامک لرننگ کے پروفیسر نے واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ہم رم جھم سے آگے بڑھے تو سڑک پر ایک گارڈ آیا جس نے گاڑی رکوائی اور پھر ایک ڈالہ تیزی سے آکر ہماری گاڑی سے لگا جس کی وجہ سے بونٹ کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ شخص جانے لگا تو میں نے جاکر استدعا کی کہ یہ بچہ آن لائن گاڑی چلاتا ہے آپ اس کے نقصان کا ازالہ کردیں تو گارڈز نے تشدد کا نشانہ بنایا اور یہ سلسلہ ڈیڑھ گھنٹے تک چلتا رہا، پھر جب وہاں لوگ جمع ہوئے تو انہوں نے فائرنگ کی اور ملزمان سندھ ریسٹورنٹ میں لے گئے۔ پروفیسر عارف ساقی کے مطابق میں نے اُس لڑکے کو اپنا تعارف کروایا اور کہا کہ تم بھی میرے بچوں کی طرح ہو تو اُس نے ایک نہ سنی پھر تھوڑی دیر بعد پولیس آئی اور میری اپیل پر انہوں نے حفاظتی تحویل میں لے کر تھانے پہنچایا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اب یہ معاملہ عدالت میں چلا گیا ہے اور اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے تاکہ معاشرے میں انسانیت بحال ہوسکے اور کم از کم ایسے لوگوں سبق ملنا چاہیے۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل