Loading
آج دنیا بھر میں خودکشی سے بچاؤ کا عالمی دن منایا جارہا ہے، جس کا مقصد خودکشی کے بڑھتے مسئلے پر توجہ دلانے کے ساتھ یہ پیغام دینا ہے کہ بروقت مدد اور مناسب اقدامات سے قیمتی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہر سال سات لاکھ بیس ہزار سے زائد افراد خودکشی کے باعث جان گنواتے ہیں، جبکہ اس سے کہیں زیادہ لوگ خودکشی کی کوشش کرتے ہیں۔
خودکشی کے پیچھے عموماً کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی، بلکہ مختلف نفسیاتی، سماجی اور حالات سے متعلق عوامل مل کر خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ ڈپریشن اور دیگر ذہنی مسائل، شدید جذباتی دباؤ، تنہائی، رشتوں کے تنازعات، مالی مشکلات، کسی قریبی شخص کا نقصان، دائمی بیماری یا تکلیف، تشدد، بدسلوکی اور سماجی امتیاز جیسے عوامل اس میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ بعض اوقات انسان شدید بحران کے لمحے میں بھی انتہائی قدم اٹھانے کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق خودکشی کے خیالات یا زندگی سے مایوسی کا اظہار کرنے والے شخص کو نظر انداز کرنے کے بجائے اس کی بات سننا اور اسے تنہا نہ چھوڑنا ضروری ہے۔ کسی فرد کا اچانک لوگوں سے دور ہونا، شدید مزاجی تبدیلی، بے مقصد یا ناامیدی کی باتیں کرنا، زندگی ختم کرنے کے خیالات یا منصوبے کا اظہار کرنا اور اپنی قیمتی چیزیں دوسروں کو دینا خطرے کی علامات ہوسکتی ہیں۔
خودکشی کی روک تھام میں سب سے اہم قدم خاموشی توڑنا اور گفتگو شروع کرنا ہے۔ کسی پریشان شخص سے براہِ راست اور ہمدردی سے پوچھنا کہ وہ کیسا محسوس کررہا ہے، اسے مدد لینے کی ترغیب دینا اور ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر، ماہرِ نفسیات یا کونسلر سے رابطہ کرانا مؤثر اقدامات ہیں۔ عالمی ادارہ صحت بھی بروقت شناخت، مناسب علاج اور مسلسل فالو اَپ کو اہم قرار دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق خطرناک ذرائع تک رسائی محدود کرنا، نوجوانوں میں جذباتی اور سماجی مہارتیں پیدا کرنا، ذہنی صحت سے متعلق آگاہی بڑھانا اور خودکشی کے واقعات کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ بھی روک تھام کی اہم حکمتِ عملیوں میں شامل ہیں۔ سب سے بڑھ کر معاشرے میں ذہنی صحت اور خودکشی کے موضوع سے جڑا stigma ختم کرنا ہوگا تاکہ مشکل میں مبتلا شخص مدد مانگنے سے نہ گھبرائے۔
اس سال عالمی یومِ انسدادِ خودکشی کا پیغام ہے، ’’روایت بدلیں، گفتگو شروع کریں‘‘۔ یعنی کسی کی خاموشی کو نظر انداز نہ کریں، اس کی بات سنیں، اسے تنہا نہ چھوڑیں اور بروقت مدد تک پہنچائیں، کیونکہ بروقت توجہ ایک زندگی بچا سکتی ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل