Loading
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا یمن کے حوثی گروپ کے ساتھ براہِ راست بات چیت کر رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات نائب صدر جے ڈی وینس نے کینساس سٹی میں انتخابی ریلی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
نائب صدر نے مزید بتایا کہ امریکی حکومت اس وقت حوثیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہے تاہم انھوں نے اس رابطے کی نوعیت، مقام یا مذاکرات میں شامل افراد کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
جے ڈی وینس نے یہ بھی بتایا کہ امریکا متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور خطے سے متاثر ہونے والے دیگر ممالک کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہے۔
امریکی نائب صدر نے خاص طور پر میون جزیرے پر حوثیوں کے قبضے پر تشویش کا اظہار کیا جو باب المندب کے عین قریب واقع ہے اور بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والے سمندری راستے کی نگرانی کے لیے انتہائی اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔
خیال رہے کہ یمن میں حوثی جنگجوؤں نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے موخا اور باب المندب کے اطراف اہم علاقوں اور جزائر پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔
قبل ازیں امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی ولی عہد نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور حوثیوں پر براہِ راست فضائی حملوں کی درخواست کی تھی۔
تاہم امریکی صدر نے حوثیوں کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی شروع کرنے سے گریز کرتے ہوئے سعودی عرب کو صرف انٹیلی جنس اور اہداف کی نشاندہی میں مدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
اس گفتگو کے بعد ہی امریکی فوجی کمانڈ سینٹاکام کے سربراہ فوری دورے پر سعودی عرب پہنچے اور ولی عہد محمد بن سلمان سے خصوصی ملاقات کی جس میں حوثیوں کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تاحال حوثیوں کی جانب سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس دعوے کی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل