Tuesday, September 22, 2026
 

دس روپے کی تصویر

 



’میچ ختم ہو گا تو پلیئرزآپ سب سے ملاقات کریں گے، ابھی سائیڈ میں کھڑے رہ کر انتظار کریں‘ سیکیورٹی پر تعینات شخص نے جب گرجدار آواز میں یہ کہا تو بختیاری یوتھ سینٹر کراچی میں کھلاڑی جہاں بیٹھے تھے وہاں موجود تمام شائقین تھوڑی دور چلے گئے، میں بھی ان میں شامل تھا۔ یہ 1992 کے بعد کی بات ہے، پاکستان ٹیم کے ورلڈکپ جیتنے کی وجہ سے ملک میں کرکٹ کا بخار عروج پر پہنچا ہوا تھا، کرکٹرز نام نہاد نہیں واقعی سپراسٹارز تھے، مجھے اور ہمارے کلب کے دیگر ساتھیوں کو جب پتا چلتا کہ کوئی پاکستانی ٹیم کا پلیئر کے سی سی اے اسٹیڈیم یا کسی اور قریبی گراؤنڈ پر آرہا ہے تو ہم فورا وہاں پہنچ جاتے، اس دن یوتھ سینٹر پر جب میچ ختم ہوا تو الائیڈ بینک کی ٹیم میں شامل عاقب جاوید اور عامر سہیل اپنے مداحوں سے ملاقات کیلیے آئے، وہاں موجود ایک پٹھان بھائی سب سے کہہ رہا تھا ’تصویر بنوانی ہے تو ام دس روپے لے گا، ایک ہفتے بعد یہیں سے آ کر لے جانا‘ میں نے اس سے کہا کہ عاقب اور عامر سہیل کے ساتھ میری تصویر کھینچ لینا، یہ دونوں تصاویر اب بھی میرے پاس موجود ہیں، میں ہر روز انھیں دیکھ کر اپنا ماضی یاد کرتا ہوں۔ اس وقت جتنے لوگ ڈومیسٹک مقابلہ دیکھنے آتے تھے اب ٹیسٹ میچ میں بھی موجود نہیں ہوتے، ماضی میں پاکستان ٹیم کے 11 کے 11 کرکٹرز اسٹارز ہوتے، اب بابر اعظم کے سوا کسی کو کوئی اور دکھائی نہیں دیتا، ان کی اپنی کارکردگی کا بھی یہ عالم ہے کہ چار سال سے کوئی سنچری نہیں بنائی لیکن بابر نہیں تو اور کون سب یہی سوچتے ہیں، کہاں ہم ون ڈے و ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپس اور چیمپئنز ٹرافی کے فاتح رہ چکے اور اب یہ عالم ہے کہ امریکا جیسی ٹیم سے بھی ہار جاتے ہیں، وہ بنگلادیش جس کا ہم مذاق اڑاتے تھے وہ ہمیں ہمارے گھر پر ہرانے کے بعد اپنے ملک میں مدعو کر کے بھی زیر کر لیتا ہے، اس کا نقصان یہ ہوا کہ ملک میں کرکٹ کے مداح تیزی سے کم ہو گئے، اب آپ 10 افراد کو الگ الگ روک کر پوچھیں کہ پاکستان ٹیم کس کیخلاف میچ کھیل رہی ہے تو شاید 1 یا 2 ہی کچھ بتا سکیں۔ ہم ہاکی کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ کپتان کا نام بھی کوئی نہیں جانتا اب آپ کسی سے پوچھ لیں کہ کرکٹ ٹیم کے 11 کھلاڑیوں کا نام بتاؤ صحیح جواب دینے والے کو آئی فون ملے گا تب بھی شاید ہی کوئی 5 یا 6 سے زائد نام بتا سکے۔ ملک میں کرکٹ کی تباہی کا ذمہ دار صرف موجودہ بورڈ کو قرار نہیں دیا جا سکتا اس کی بنیاد کافی پہلے رکھ دی گئی تھی، سب سے بڑا نقصان فرسٹ کلاس کرکٹ سے دوری سے ہوا، آج کل ہیڈ لائنز میں ہے کہ ’بابر اعظم 7 سال بعد ڈومیسٹک میچ کھیلیں گے‘ او بھائی وہ کوئی احسان کر رہے ہیں کیا، ان کا کام ہی کھیلنا ہے، جب آپ خود کو طرم خان سمجھتے ہوئے اپنی بنیاد کو چھوڑیں تو یہی ہوتا ہے جو ہمارے کھلاڑیوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ سال میں ہماری ٹیم 4 ، 5 یا چند زیادہ ہی ٹیسٹ کھیلتی ہو گی بیشتر پلیئرز ٹی ٹوئنٹی میں کارکردگی کی بنیاد پر ٹیسٹ میں آ جاتے ہیں پھر انھیں گیند نظر نہیں آتی اور بولنگ کرتے ہوئے چار اوورز بعد ہی ہانپتے ہوئے ’پانی پانی‘ کہتے ہوئے ایسے فریادی بن کر آوازیں لگاتے ہیں جیسے سخت گرمی کے عالم میں صحرا میں بھٹک گئے ہوں۔ اب پی سی بی کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو چکا، حکام نے سختی شروع کر دی ہے، ڈومیسٹک میچ نہیں کھیلا تو سینٹرل کنٹریکٹ ملے گا نہ نیشنل سلیکشن ہو گی، ماضی میں تھوڑی پرفارمنس تھی تو کھلاڑی بورڈ کو بلیک میل کر کے من پسند معاوضے بھی حاصل کر لیا کرتے تھے، اب وہ اس پوزیشن میں ہی نہیں ہیں کہ اپنے لیے بھی آواز اٹھا سکیں، اسی لیے آپ کو ڈومیسٹک میچ میں بڑے بڑے نام ایکشن میں نظر آ رہے ہیں لیکن پھر بھی انھیں دیکھنے کوئی گراؤنڈ نہیں جا رہا، کیوں ان سے ملاقات کے لیے لائنز نہیں لگ رہیں؟ کیوں کوئی سیلفی یا آٹوگراف کیلیے آگے نہیں آ رہا؟ اگر کرکٹرز اپنے گریبان میں جھانکیں تو آسانی سے جواب مل جائے گا۔ بابر اعظم کی ایک جھلک دیکھنے کیلیے لوگ گھنٹوں انتظار کرتے تھے اب وہ انگلینڈ سے آئے تو ایئرپورٹ پر کوئی ملاقات تک کیلیے نہیں گیا اور وہ خاموشی سے کار میں بیٹھ کر گھر چلے گئے، سوشل میڈیا پر اس کی ویڈیو بھی موجود ہے، کرکٹرز کو اپنی عزت دوبارہ کمانا پڑے گی، اس کیلیے سوشل میڈیا پر پیسے خرچ کرنے کی ضرورت نہیں، سادہ سا حل میدان میں پرفارمنس ہے، آپ ٹیم کو میچز جتوائیں یہی لوگ پھر آگے پیچھے ہوں گے، چند مقابلوں میں ناقص کارکردگی کی بات سمجھ آتی ہے مگر اب یہ سلسلہ برسوں تک محیط ہو چکا، شائقین کو بھی لگتا ہے کہ یہ ٹیم جیتے گی تو نہیں پھر اس کے پیچھے کیوں اپنا وقت ضائع کریں۔ کرکٹ کا کھیل پوری پاکستانی قوم کو یکجاکرتا ہے، دنیا میں ہمارا مثبت امیج بنانے میں اس کا بھی کردار ہے، اب غیر ملکی رشک کے بجائے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، کیا آپ کو بوڑھا ہونے کے بعد اپنے پوتے پوتیوں کو یہ کہانی سنانی ہے کہ ’پتر یہ تصویر دیکھو ہم نے یہ ٹائٹل حاصل کیا تھا‘ جس پر وہ حیران ہو کر کہے کہ ’یہ تو اے آئی پکچر ہو گی یا اچھا ہماری کرکٹ ٹیم کبھی ورلڈکپ بھی جیت چکی ہے کمال ہے‘ ٹھیک اسی طرح جیسے آج کے دور میں جب بتاؤ کہ پاکستانی ہاکی ٹیم نے سب سے زیادہ چار مرتبہ ورلڈکپ ٹرافی اپنے نام کی ہے تو  بچے سمجھتے ہیں شاید ان سے مذاق کیا جا رہا ہے۔ ابھی ہماری داستان ختم نہیں ہوئی ہم کرکٹ میں دوبارہ عروج پا سکتے ہیں، صرف بورڈ کو برا بھلا کہنے سے کچھ نہیں ہوگا، پی سی بی، موجودہ کھلاڑی، سابق کرکٹرز، آفیشلز، میڈیا سب اپنا مثبت کردار ادا کریں، کرکٹ ہم سب کے لیے ’بریڈ اینڈ بٹر‘ ہے، اسے تباہ نہیں ہونے دینا، زوال غلطیوں کی وجہ سے آیا اب ایسا کردار ادا کریں کہ عروج دوبارہ واپس پالیں، ورنہ ہماری داستان بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل