Loading
میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی کارروائی جاری رہی، کمیشن نے سیکریٹری صحت طاہر حسین سانگی، اسپیشل سیکریٹری صحت شہریار میمن اور ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن سمیع اللہ سومرو سے میڈیکل بورڈ کی تبدیلی اور ابتدائی تفتیش سے متعلق مختلف سوالات کیے۔
سیکریٹری صحت طاہر حسین سانگی نے کمیشن کو بتایا کہ انہیں میڈیکو لیگل ایکٹ اور سیکشن 16 کا علم نہیں۔ عدالت کا حکم سیکریٹری ہیلتھ اور پولیس سرجن کو بھیجا گیا تھا، جس میں سینئر میڈیکل ایکسپرٹس پر مشتمل بورڈ بنانے کا کہا گیا تھا۔ انہیں بتایا گیا کہ پولیس سرجن نے جو بورڈ بنایا اس کے پانچوں ارکان محکمہ صحت کے تھے، جس پر انہوں نے کہا کہ ڈی جی ہیلتھ اور پولیس سرجن مل کر بورڈ بنالیں، تاہم پولیس سرجن کی جانب سے بورڈ پہلے ہی بنایا جاچکا تھا۔
طاہر حسین سانگی نے کہا کہ پانچوں ارکان محکمہ صحت کے ہونے کی وجہ سے شفافیت کے لیے بورڈ تبدیل کیا گیا۔ 6 اگست کو ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان سے بات ہوئی تھی لیکن میڈیکل بورڈ کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔ ڈی جی ہیلتھ نے مشورہ دیا تھا کہ کیا پولیس سرجن کے بورڈ میں اپنے ارکان شامل کرلیے جائیں، جس پر انہوں نے کہا تھا کہ ایسا کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اسپیشل سیکریٹری صحت شہریار میمن سے کہا تھا کہ وہ ڈی جی ہیلتھ سے رابطہ کریں اور شفافیت کے لیے بورڈ میں ارکان تبدیل کردیں۔ طاہر سانگی کے مطابق نیا بورڈ بنانا ان کے علم میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس سرجن کی ٹیم میں سرکاری ماہرین شامل تھے، تاہم شفافیت کے لیے آزاد ماہرین کو شامل کرنا بہتر لگا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ کیا آج سے پہلے کبھی ایسا ہوا کہ ایک رات پہلے میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا ہو؟ طاہر سانگی نے جواب دیا کہ اپنے 21 سالہ کیریئر میں انہوں نے کبھی میڈیکل بورڈ قائم نہیں کیا۔
کمیشن نے کہا کہ آپ سیکریٹری ہیں، ذمہ داری آپ پر ہی آئے گی۔ کمیشن نے یہ بھی سوال کیا کہ 6 اگست کو کسی سینئر پولیس افسر سے میڈیکل بورڈ کے حوالے سے گفتگو ہوئی تھی؟ طاہر سانگی نے بتایا کہ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان سے بات ہوئی، تاہم وہ خصوصی طور پر میڈیکل بورڈ کے قیام سے متعلق نہیں تھی۔
کمیشن نے سوال کیا کہ میڈیا پر کیس ہائی لائیٹ ہونے کے بعد مزید ارکان کو شامل کرنے کی اجازت دی گئی؟ طاہر سانگی نے کہا کہ ڈی جی ہیلتھ نے تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ مزید ارکان کو شامل کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے اسپیشل سیکریٹری صحت کو کہا تھا کہ عدالتی احکامات کے مطابق شفافیت برقرار رکھتے ہوئے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی کی جائے۔
کمیشن نے کہا کہ ہر کام میں اسپیشل سیکریٹری شہریار میمن کا نام آرہا ہے۔ طاہر سانگی نے کہا کہ محکمہ صحت میں زیادہ تر کام اسپیشل سیکریٹری کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ارکان کی شمولیت کے لیے ان کی اجازت ضروری نہیں ہوتی، تاہم وہ اس معاملے سے آگاہ تھے اور انہیں آن بورڈ رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی رکن کو ذاتی طور پر نہیں جانتے اور ارکان کی قابلیت کے بارے میں ڈی جی ہیلتھ زیادہ بہتر جانتے ہیں۔
کمیشن نے سوال کیا کہ کراچی کے سارے ماہرین نکال کر حیدرآباد کے ڈاکٹرز شامل کرنے سے انہیں مسئلہ نہیں ہوا؟ کمیشن نے کہا کہ قانون میں مقامی ماہرین کو شامل کرنے کا کہا گیا ہے۔ طاہر سانگی نے بتایا کہ نئے میڈیکل بورڈ میں سینئر پروفیسرز کو شامل کیا گیا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ پروفیسر نسیم یا ڈاکٹر فرح میں کیا خرابی تھی اور نئے شامل کیے گئے ماہرین ان سے کیسے بہتر تھے؟ طاہر سانگی نے کہا کہ وہ کسی بھی رکن کو ذاتی طور پر نہیں جانتے۔ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ حیدرآباد کا لنک شکوک و شبہات پیدا کررہا ہے۔
طاہر سانگی نے بتایا کہ ڈی جی ہیلتھ کو ہدایت دی گئی تھی کہ اگر مزید ارکان کی ضرورت ہو تو شامل کرلیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر معاملہ ہائی لائیٹ ہورہا تھا۔ کمیشن نے سوال کیا کہ آپ ایک قابل افسر ہیں، آپ پر کس کا دباؤ تھا؟ طاہر سانگی نے جواب دیا کہ ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں تھا۔
جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ آپ کسی کو بچانے کی کوشش کیوں کررہے ہیں، یہ سمجھ نہیں آرہا، اور آپ لوگوں کو کیوں ایسا لگ رہا تھا کہ جن افراد کو آپ نے منتخب کیا وہ زیادہ بہتر ہیں؟
بعد ازاں اسپیشل سیکریٹری صحت شہریار میمن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ شہریار میمن نے بتایا کہ قانون میں قریبی میڈیکل کالج کے ماہرین کو شامل کرنے کا کہا گیا ہے۔ کمیشن نے سوال کیا کہ کراچی قریب ہے یا حیدرآباد؟ پولیس سرجن کے بورڈ میں کیا خرابی تھی؟ شہریار میمن نے جواب دیا کہ ان کی کوئی سفارشات نہیں تھیں۔
کمیشن نے کہا کہ آپ مکر رہے ہیں، آپ کو لگا پہلا بورڈ ناکارہ ہے، لہٰذا نیا بورڈ بنا دیا گیا۔ کمیشن نے 6 اگست کو ڈی جی ہیلتھ سے رابطے کے بارے میں سوال کیا تو شہریار میمن نے بتایا کہ شام 5 سے 7 بجے کے درمیان رابطہ ہوا تھا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ میڈیکل بورڈ کی تبدیلی میں انہیں اتنی دلچسپی کیوں تھی؟ شہریار میمن نے بتایا کہ انہوں نے 7 جولائی 2026 کو ہیلتھ ڈپارٹمنٹ جوائن کیا تھا۔ کمیشن نے رات گئے میڈیکل بورڈ تبدیل کرنے کی کوئی ایک مثال دینے کا کہا تو شہریار میمن نے جواب دیا کہ ایسی مثال ان کے علم میں نہیں۔
کمیشن نے کہا کہ ان کے بیان کے بعد ان کی جگہ آپ کو ڈی جی ہیلتھ لگا دیا گیا، آپ کے علاوہ کوئی قابل افسر حکومت کو نہیں ملا؟ شہریار میمن نے جواب دیا کہ بطور سول سرونٹ وہ حکومتی احکامات ماننے کے پابند ہیں۔
اہلخانہ کے وکیل نے شہریار میمن سے سوال کیا کہ کیا وہ گواہ علی شاز میمن اور ان کے بھائی اے ایس پی شاہ زیب کو جانتے ہیں؟ شہریار میمن نے کہا کہ اگر وہ سول سروس میں ہیں تو شاید جانتا ہوں گا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سی ایس ایس کی تیاری کروانے والوں کو پڑھاتے رہے ہیں، انہیں یاد نہیں کہ اے ایس پی شاہ زیب کو کبھی پڑھایا یا نہیں۔
کمیشن نے سوال کیا کہ کیا کسی پولیس افسر کا میڈیکل بورڈ کی تبدیلی سے کوئی تعلق ہے؟ شہریار میمن نے جواب دیا کہ میڈیکل بورڈ میں مزید ارکان شامل کرنے کی اجازت کے لیے انہوں نے کوئی ہدایت نہیں دی۔ ان کے مطابق سیکریٹری آفس سے ڈی جی ہیلتھ کو فون گیا ہوگا، تاہم کس کی ہدایت تھی، اس کا انہیں علم نہیں۔
کمیشن نے کہا کہ 6 اگست کو سندھ حکومت بہت ایکٹیو ہوگئی تھی، اتنی تیزی کبھی سڑکوں کی مرمت اور گٹروں کے لیے بھی دکھائیں، وہاں بھی لوگ مررہے ہوتے ہیں۔ کمیشن نے سوال کیا کہ میڈیکل بورڈ میں مزید ارکان شامل کرنے کی اجازت کا فیصلہ کس کا تھا؟ شہریار میمن نے کہا کہ سیکریٹری آفس سے ڈی جی ہیلتھ کو فون گیا ہوگا، کس کی ہدایت تھی اس کا انہیں علم نہیں۔
کمیشن نے شہریار میمن سے کہا کہ آپ جو کہہ رہے ہیں اس پر آپ کو خود یقین بھی ہے؟ کمیشن نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے آپ اسپیشل سیکریٹری ہیں۔ شہریار میمن نے بتایا کہ انہیں مزید ارکان کی شمولیت کے بارے میں میڈیا سے معلوم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تمام کوششیں نیک نیتی کی بنیاد پر تھیں۔
کمیشن نے لیاقت یونیورسٹی کے معاملے، شہریار میمن اور اے ایس پی شاہ زیب کے وہاں سے گریجویٹ ہونے اور سابق ڈی جی ہیلتھ کو فارغ کیے جانے سے متعلق بھی سوالات کیے۔ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ آپ کو تو اس کا انعام مل گیا ہے، غیر قانونی طور پر میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا اور یہ آپ کے کیریئر میں آپ کا پیچھا کرے گا۔
شہریار میمن نے بتایا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی کی جانب سے سپر میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست موصول ہوئی ہے، درخواست کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق درخواست میڈیکو لیگل ایکٹ 2023 کو بنیاد بنا کر دی گئی ہے۔
بعد ازاں کارروائی وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی اور ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن سمیع اللہ سومرو روسٹرم پر آگئے۔ سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ وہ ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن ہیں، ایس آئی یو ڈی آئی جی سی آئی اے کے ماتحت کام کرتی ہے اور تقریباً کراچی پولیس کا حصہ ہے۔ ان کی بنیادی ذمہ داری بھتے اور بینک روبری کے کیسز پر کام کرنا ہے۔
کمیشن نے پوچھا کہ انہیں میر رضا کیس کی انویسٹی گیشن کب سونپی گئی؟ سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ انہیں 2 اگست کو تفتیش سونپی گئی۔ ان کی ٹیم میں ایس ایس پی ایسٹ انویسٹی گیشن زبیر نظیر اور ایس ایس پی عثمان سدوزئی شامل تھے، جبکہ 3 اگست کو سی پی ایل سی کے رکن کاشف افتخار کو شامل کیا گیا۔
کمیشن نے کہا کہ اس کی تحقیق کے مطابق یکم اگست سے 9 اگست تک عثمان سدوزئی آزاد جموں و کشمیر میں تھے۔ سمیع اللہ سومرو نے اس کی تصدیق کی اور بتایا کہ ان کی طرف سے شبیر لغاری اور ارشد جاوید مدد کررہے تھے۔
جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ آپ نے کسی کا بھی بیان ریکارڈ نہیں کیا تھا اور آپ کو کیوں لگا کہ معاملہ خودکشی کا ہوسکتا ہے؟ سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ والد نے پہلے جملے میں کہا تھا کہ خودکشی کے علاوہ کیا لگتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ کسی سے ان لوگوں کی دشمنی تو نہیں تھی۔
جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ آپ کو اس وقت بھی ضروری نہیں لگا کہ بیان لے لیا جاتا اور آپ میڈیا سے خودکشی کا کیوں کہہ رہے تھے؟ سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ ایک نجی چینل سے کال آرہی تھی لیکن انہوں نے مناسب نہیں سمجھا کہ بات کریں۔ انہوں نے ڈان کے رپورٹر سے بات کرکے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ خودکشی کی گئی ہوگی۔
سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ انہوں نے احمد بھاردے، رازق، حیصم اور دیگر سے بھی بات کی تھی۔ سب لوگوں نے بتایا کہ یہ لوگ مالی معاملات میں گھرے ہوئے تھے۔ انہوں نے پولیس کی جانب سے جمع کی گئی 30 سی سی ٹی وی فوٹیجز دیکھی تھیں اور 3 اگست کو جائے وقوعہ کا معائنہ بھی کیا تھا۔
ان کے مطابق ابتدائی مراحل میں معاملہ خودکشی کا لگ رہا تھا۔ ڈاکٹر اسامہ کا انٹرویو بھی 3 اگست کو لیا گیا تھا، تاہم انہوں نے کہا کہ بیان ریکارڈ کرنا تفتیشی افسر کا کام ہے۔ 6 اگست کو انہوں نے ڈان کے رپورٹر امتیاز علی کو انٹرویو دیا تھا۔
جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس ٹیم نے حیصم، بھاردے اور رازق کا بیان قلمبند ہی نہیں کیا تھا۔ سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ 3 اگست کو صارم کا بھی بیان ریکارڈ کیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے بتایا کہ صارم کا انٹرویو لیا تھا لیکن اسے قلمبند نہیں کیا گیا تھا۔
سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ ان کی فیملی سے صرف ایک بار 3 اگست کو ملاقات ہوئی تھی۔ ارشد آفریدی فیروز آباد میں ایس ڈی پی او ہیں۔ ان افسروں میں سے کسی نے فیملی کو کہا تھا کہ واقعہ خودکشی کا ہے، جبکہ تفتیشی افسر شبیر لغاری نے انہیں بتایا تھا کہ واقعہ خودکشی کا لگتا ہے، جس سے وہ مطمئن نہیں تھے۔ ان کے پاس صرف 6 دن کے لیے تفتیش تھی۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ انہی 6 دنوں میں ساری کارروائی خراب ہوئی ہے۔
کمیشن نے جائے وقوعہ پر گلیوں کی تعداد اور سی سی ٹی وی فوٹیجز سے متعلق سوالات کیے۔ سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ وہاں 9 گلیاں ہیں جہاں سے کوئی شخص آسکتا اور بھاگ سکتا ہے، تاہم ایک گلی کی فوٹیجز حاصل کی گئی تھیں۔ جسٹس عمر سیال نے بتایا کہ وہاں 85 کیمرے لگے تھے، پوچھا کہ کتنے کیمروں کی فوٹیجز حاصل کی گئیں؟ سمیع اللہ سومرو نے کہا کہ زبیر نظیر شیخ فوٹیجز حاصل کررہے تھے اور 30 فوٹیجز حاصل کی گئی تھیں۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ سربراہ ہوتے ہوئے ہر ذمہ داری سے ہاتھ اٹھا لینا عجیب ہے۔ جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ان کی اسسٹنٹ نے چند گھنٹوں میں جائے وقوعہ کے تمام کیمروں کی نشاندہی کردی تھی۔
جسٹس عمر سیال نے پوچھا کہ زیادہ سے زیادہ فوٹیجز کیوں حاصل نہیں کی گئیں؟ انہوں نے فوٹیجز اور ان کے سیزر میمو کے بارے میں بھی سوال کیا۔ سمیع اللہ سومرو نے کہا کہ یہ تفتیشی افسر کے پاس شاید ہوں گے۔ جسٹس عمر سیال نے ان کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر چاہیں تو یہاں سے جاسکتے ہیں، یہاں آکر کوئی احسان نہیں کیا۔
سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ فیروز آباد کے فوکل پرسن نعمان اور انچارج کاشف نے فوٹیجز حاصل کی تھیں۔ جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ کیا انہوں نے یہ نہیں پوچھا کہ کسی شخص کے فون اٹھاتے ہوئے کوئی فوٹیج موجود ہے؟ سمیع اللہ سومرو نے جواب دیا کہ انہوں نے اس حوالے سے کوئی سوال نہیں پوچھا تھا۔
کمیشن نے پوچھا کہ کیا گواہوں کا بیان ریکارڈ نہ کرنا معمول ہے؟ سمیع اللہ سومرو نے کہا کہ قانون ہے کہ گواہوں کا بیان ریکارڈ کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں معلوم ہے کہ سجاد نے موبائل اٹھایا تھا، تاہم ان کے سامنے سجاد کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا۔
سمیع اللہ سومرو نے کہا کہ اگر فون نالے سے ملا تھا تو کہا جاسکتا ہے کہ فون قلعہ اسٹریٹ سے ملا تھا۔ انہیں معلوم نہیں کہ میڈیا کو کس نے فوٹیجز جاری کیں۔ میڈیا پر بہت سی قیاس آرائیاں چل رہی تھیں، انہیں سب کا معلوم نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ فیصل رحیم اے ایس آئی ہیں اور ضلع ایسٹ میں کام کرتے ہیں۔ جسٹس عمر سیال نے کہا کہ فیصل رحیم نے سارے میمو بنائے ہیں۔ سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ فیصل رحیم کا بیان ریکارڈ نہیں ہوا تھا اور انہوں نے خود کبھی موبائل نہیں دیکھا تھا۔
جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ آپ سینئر تفتیشی افسر ہیں، آپ کو ایسا نہیں لگا کہ فون خود دیکھیں اور فارنزک کے لیے بھیجیں؟ سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ انہوں نے اور ان کی ٹیم نے کبھی موبائل فون کھولنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ فوٹیجز میں میر رضا کو اپنا موبائل پھینکتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ جب فون فارنزک کے لیے سی ٹی ڈی کو بھیجا گیا تو اس وقت کاغذی کارروائی ہوئی تھی۔ اسمارٹ واچ کے بارے میں انہیں کچھ معلوم نہیں، شاید وہ اس وقت کی بات ہوگی جب ان کے پاس تفتیش نہیں تھی۔ کمیشن نے اس پر ریمارکس دیے کہ اس کا مطلب ہے تمام پولیس اہلکار بہت جھوٹے ہیں۔
سمیع اللہ سومرو نے کہا کہ شبیر لغاری صرف 6 دن کے لیے ان کے ماتحت تھا۔ پولیس اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کی طاقت ان کے پاس نہیں، یہ انتظامی کام ہیں۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ 5 اگست کو آزاد خان نے فیملی کو اسمارٹ واچ کے حوالے سے ایک پی ڈی ایف دکھائی تھی اور آپ کہتے ہیں آپ کو کچھ معلوم نہیں۔ سمیع اللہ سومرو نے کہا کہ انہیں اس حوالے سے کچھ معلوم نہیں۔ کمیشن نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ آزاد خان کے پاس پی ڈی ایف پریزنٹیشن موجود تھی اور آپ کو معلوم نہیں۔
سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ ایس ایس پی علی رضا نے 11 اگست کو انہیں کال کی تھی اور انہوں نے بتادیا تھا کہ انہیں اسمارٹ واچ کے بارے میں معلوم نہیں، جس کے بعد زبیر نظیر شیخ نے مزید تفصیلات دیں۔ کمیشن نے کہا کہ آپ کے دوسرے افسر کو تمام معلومات تھیں لیکن آپ کو کچھ معلوم نہیں تھا۔
سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ انہوں نے میر رضا کے آئی کلاؤڈ تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ 31 جولائی کو آئی کلاؤڈ تک پہنچنے کی کوشش کی گئی تھی۔
سمیع اللہ سومرو نے تصدیق کی کہ خول 31 جولائی کو مل گیا تھا، تاہم خول کتنی دور ملا، اس حوالے سے انہیں معلومات نہیں۔ جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ دو دن بعد خول ملنا کیا انہیں عجیب نہیں لگا؟ سمیع اللہ سومرو نے کہا کہ خول جلدی مل جانا چاہیے تھا۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کوئی تو ہے جو حقائق چھپانے کی کوشش کررہا تھا۔ سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ انہوں نے اس حوالے سے کوئی تفتیش نہیں کی۔ خول ڈھونڈنے کے لیے ٹیم لگائی گئی تھی، انہیں آگ لگانے کا معلوم تھا، تاہم وہ ٹیم کامیاب نہیں ہوسکی۔ دوسرے دن ایک اور ٹیم کو خول ڈھونڈنے کی ذمہ داری دی گئی۔
جسٹس عمر سیال نے سوال کیا کہ اپنے تجربے سے بتائیں کیا اس طرح آگ لگانا مناسب ہے؟ سمیع اللہ سومرو نے جواب دیا کہ یہ اچھا عمل تو نہیں لیکن ان کی مجبوری تھی اور نیت میں کھوٹ نہیں تھا۔ جسٹس عمر سیال نے بے نظیر بھٹو کیس میں کرائم سین دھونے کو بھی غیر قانونی قرار دینے کا حوالہ دیا۔
جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ کرائم سین کو خواہ مخواہ آگ لگائی گئی، وہاں سے کچھ نہیں ملا۔ سمیع اللہ سومرو نے کہا کہ انہوں نے کرائم سین کو جلانے کا حکم نہیں دیا تھا اور ان کے لحاظ سے کرائم سین کو خراب نہیں کیا گیا تھا۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ ان کے تفتیشی افسر نے 33 میں سے صرف 10 بیانات خود قلمبند کیے تھے۔ سمیع اللہ سومرو نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ شبیر لغاری کو اسٹیٹمنٹ کون بنا بنا کر بھیج رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 18 سال کے کیریئر میں ایسا نہیں ہوا کہ 6 دن میں دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ آئی ہو۔
بعد ازاں کارروائی کچھ دیر کے لیے ملتوی ہوئی۔ وقفے کے بعد جسٹس عمر سیال نے سمیع اللہ سومرو سے تفتیشی ٹیم کی تشکیل سے متعلق سوالات کیے۔ جسٹس عمر سیال نے کہا کہ سمجھ نہیں آتا لغاری تفتیشی افسر تھا، اسے بھی کچھ نہیں پتا تھا اور آپ بھی یہی کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ انہیں تفتیشی ٹیم کا ہیڈ کس نے بنایا؟ سمیع اللہ سومرو نے جواب دیا کہ انہیں ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے ہیڈ بنایا تھا۔
کمیشن نے ایک ایسے پیغام کے بارے میں سوال کیا جس میں 3 کروڑ روپے کا ذکر تھا۔ سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ انہوں نے صارم کا انٹرویو لیا تھا، انہیں ایک اسکرین شاٹ ملا تھا۔ جسٹس عمر سیال نے کہا کہ صارم نے بہت ساری چیٹ پولیس کو دی تھیں۔ سمیع اللہ سومرو نے کہا کہ ان کے پاس وہ چیٹ موجود نہیں۔
کمیشن نے سوال کیا کہ کیا صارم کا فون سیز کیا گیا تھا؟ سمیع اللہ سومرو نے جواب دیا کہ نہیں۔ کمیشن نے احمد راجہ کے بارے میں بھی سوال کیا تو سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ انہوں نے کبھی اس کا انٹرویو نہیں کیا۔
جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ صارم کی جانب سے دیا گیا اسکرین شاٹ میڈیا تک کیسے پہنچا؟ سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ ان کے علم میں نہیں، ان سے پہلے عدیل افضال نے یہ ایس ایس پی ایسٹ کو دیا تھا۔
کمیشن نے کہا کہ ایسا بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی کہ میر رضا پیسوں کی وجہ سے پریشان تھا اور ان چند دنوں کے دوران تمام شواہد ختم کردیئے گئے۔ کمیشن نے کہا کہ ایک 8 ماہ پرانا میسج آگے پھیلتا گیا، پھر علی شاز نے کہا کہ اس کا نام نکال دیا جائے۔
سمیع اللہ سومرو نے کہا کہ انہیں میسج کی ٹائمنگ یاد نہیں۔ چار لوگوں کے انٹرویو سے انہیں یہی لگا کہ میر رضا مالی مسائل کا شکار تھا، تاہم انہیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ میر رضا کسی سے بلیک میل ہورہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ شاہزیب مشتاق کو نہیں جانتے اور انہیں یہ بھی علم نہیں تھا کہ علی شاز جائے وقوعہ کے بہت قریب رہتا ہے۔ ان کے مطابق واقعے کے فوراً بعد علی شاز باکو چلا گیا اور واپسی پر کلفٹن کے علاقے میں منتقل ہوگیا۔
کمیشن نے کرپٹو کے حوالے سے تفتیش کے بارے میں سوال کیا۔ سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ انہیں صرف اتنا معلوم ہوسکا تھا کہ میر رضا کرپٹو میں ٹریڈنگ کرتا تھا اور کسی نقصان کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ ندا جنید کو اہم ذمہ داری کیوں دی گئی جبکہ ان کا تفتیش سے کوئی تعلق نہیں تھا؟ سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ انہیں اس لیے شامل کیا گیا تھا تاکہ خواتین کے ساتھ انٹرویو لے سکیں۔
کمیشن نے کہا کہ ندا جنید پولیس سرجن اور بعد میں این سی سی آئی اے تک بھی پہنچ گئیں، ایسا لگتا ہے وہ صرف وہاں نظر رکھنے کے لیے جاتی تھیں۔ سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ 4 اگست کو ایڈیشنل آئی جی نے پولیس سرجن سے رابطہ کرنے کا کہا تھا۔ 5 اگست کو پولیس سرجن نے انہیں اپنے دفتر بلایا، زبیر نظیر شیخ اور ندا جنید بھی ساتھ گئے تھے۔
سمیع اللہ سومرو کے مطابق اسی رات پولیس سرجن میڈیا پر دکھائی دیے۔ انہیں سمجھایا گیا کہ فیملی سے بات کرکے قبر کشائی کے حوالے سے سمجھائیں۔ جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ اگر لوگ چاہتے تو مجسٹریٹ کے پاس قبر کشائی کی درخواست دے سکتے تھے۔
والدہ میر رضا نے کہا کہ ان کا عدیل افضال پر اعتماد نہیں تھا لیکن پولیس پر اعتماد تھا۔ جبران ناصر نے بتایا کہ 3 اگست کو پولیس سرجن نے قبر کشائی کی سفارش کردی تھی۔ سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ جیو فینسنگ کے لیے 31 جولائی کو درخواست دے دی گئی تھی۔
جوڈیشل کمیشن کے فوکل پرسن کے مطابق کمیشن کی مدت میں توسیع سے متعلق درخواست موصول ہوچکی ہے اور درخواست کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ سندھ حکومت کے فوکل پرسن نے کہا کہ وہ بھی چاہتے ہیں کہ کمیشن جلد کارروائی مکمل کرے۔ کمیشن کے مطابق پیر تک کارروائی مکمل ہونے کی امید ہے، جس کے بعد رپورٹ لکھنے کا کام شروع کیا جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل