Saturday, September 26, 2026
 

پختونخوا میں مسلسل بڑھتی دہشتگردی؛ صوبائی حکومت پر سنجیدہ سوالات اٹھ گئے

 



خیبرپختونخوا میں رواں سال دہشتگردی کے 2 ہزار 456 واقعات رونما ہوئے، جن کے باعث صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ وزیر اطلاعات و نشریات کے مطابق ان واقعات میں سولین اور سیکیورٹی فورسز سمیت 472 افراد شہید ہوئے، جو اوسطاً یومیہ 2 شہادتوں کے برابر ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا میں رواں سال دہشتگردی کے واقعات کی اوسط روزانہ 10 بنتی ہے۔ دہشتگردی کے ان واقعات کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں 1 ہزار 584 افراد زخمی و معذور ہوئے، جو اوسطاً یومیہ 7 افراد بنتے ہیں۔ وزیر اطلاعات و نشریات کے مطابق رواں سال صوبے میں 19 خودکش دھماکے بھی ہوئے۔ وزیر اطلاعات و نشریات کے مطابق رواں سال خیبرپختونخوا میں رونما ہونے والے 19 خودکش دھماکوں میں ملوث حملہ آور افغان باشندے تھے۔ دوسری جانب افغان سرزمین سے سرحدی علاقوں میں فائرنگ اور ڈرون حملوں نے خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ کردی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے افغانستان سے مذاکرات پر اصرار کیا جا رہا ہے، جبکہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کی مسلسل مخالفت کی جا رہی ہے۔ دہشتگردی کی روک تھام کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے خاطر خواہ اقدامات بھی نہیں کیے گئے۔ صوبائی حکومت کی نااہلی کے باعث خیبرپختونخوا کو بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور کرائم ٹیرر نیکسز جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے دہشتگردی سمیت افغان دراندازی پر مسلسل خاموشی بھی سوالات کا باعث بن رہی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے جنازوں میں عدم شرکت، اپیکس کمیٹی کے اجلاس نہ کرنا اور پولیس و سی ٹی ڈی کی استعداد کار نہ بڑھانا بھی سوالات اٹھا رہا ہے اور یہ صورتحال دہشتگردی کی سہولت کاری ثابت ہو رہی ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل