Loading
اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے وفاقی وزیر داخلہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ارکان اسمبلی کے پارلیمانی استحقاقات کوئی نئی ایجاد نہیں بلکہ پارلیمانی روایات کا حصہ ہیں، صوبائی اسمبلی رکن کی گرفتاری سے پہلے اسپیکر کی اجازت کا استحقاق موجود ہے۔
وزیر داخلہ کی جانب سے پولیس ایکٹ پر دیے گئے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ پارلیمانی استحقاقات مقننہ کی آزادی اور منتخب نمائندوں کے تحفظ کیلئے ہیں، کو قانون سے بالاتر نہیں بناتے، الزام زدہ رکن تحقیقات، مقدمے اور عدالتی عمل سے مشروط رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپیکر کا کردار گرفتاری کو سیاسی انتقام سے محفوظ رکھنا ہے، منتخب نمائندوں کو دھمکانے یا خاموش کرنے کیلئے پولیس استعمال نہیں ہونی چاہیے، حکومت اپنے لیے قانون سازی کرے تو درست، اسمبلی کرے تو سوال اٹھتے ہیں۔
بابر سلیم سواتی نے کہا کہ تمام حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں نے اتفاق رائے سے یہ قانون منظور کیا ہے ، بغیر وارنٹ چہرے ڈھانپے افراد کے چھاپے جمہوریت کیلئے سنگین سوال ہیں، منتخب ارکان کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں سے پرامن احتجاج روکا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین کی بالادستی اور جمہوری اصولوں کا تحفظ ضروری ہے، آئی جی پولیس اور اضافی چیف سیکرٹری ہوم کو گرفتاری سے پہلے اطلاع کا خط لکھا، منتخب نمائندوں کے حقوق کا تحفظ کرنا بطور سپیکر میرا آئینی فرض ہے، خیبرپختونخوا کے عوام منتخب نمائندوں کے حقوق کے تحفظ کی توقع رکھتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل