Loading
بروز ہفتہ 19 ستمبر 2026 کو رات 10 بجے بہ ذریعہ زوم ایک باوقار نشست کا اہتمام ’’مماثلاتِ اسرار‘‘ کے پلیٹ فارم کے تحت کیا گیا۔ مہمان خاص فہیم اسلام انصاری تھے جن کے لیے یہ محفل ممتاز صحافی، فکشن نگار اور مماثلات اسرار کے بانی زیب اذکار نے سجائی تھی وہ اپنے پیارے مرحوم بھائی کی یاد میں ادبی و شعری محافل کا انعقاد باقاعدگی سے کرتے ہیں۔
اس بار سہ ماہی اجمال کے سرپرست اور مدیر فہیم اسلام انصاری کا انتخاب عمل میں آیا۔ فہیم صاحب عرصہ دراز تک ’’اجمال‘‘ کو شائع کرتے رہے۔ دامے، درمے، قدمے، سخنے انھوں نے کسی سے مدد نہیں لی کہ شوق اور جذبہ خدمت کا کوئی مول نہیں ہوتا۔
انھوں نے پرچے کو بند اس لیے نہیں کیا کہ وہ مالی مشکلات کا شکار تھے بلکہ انھیں اس بات کا احساس تھا کہ ناقدین و مبصرین ادبی حالات و واقعات یا تنقید پر اس طرح توجہ نہیں دے رہے ہیں جس طرح حق ہے پابندی سے اعلیٰ درجے کے مضامین کا نہ ملنا بھی ادب کی آبیاری کے لیے ہرگز مناسب نہیں۔
اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ اجمال میں شائع ہونے والے مضامین و شعر و سخن، فکشن، تراجم اپنی نوعیت کے لحاظ سے اہم ترین تھے، ہر تین ماہ بعد معلوماتی و وقیع مضامین و افسانے قاری کو اس طرح پیش کیے جاتے جیسے چاندی کی طشتری میں سونے جیسے لفظوں کی قندیل روشن ہو۔
اسی ایثار و سخاوت کے لیے غالباً یہ محاورہ کہا گیا ہے کہ ’’نہ ہینگ لگے نہ پھٹکری، رنگ چوکھا آئے‘‘۔ تو بغیر کسی خرچ کے ایک خوبصورت سرورق سے مزین رسالہ پڑھنے کو میسر آ جاتا تھا۔
اس رسالے کی اشاعت سے قبل فہیم اسلام انصاری نے ماہنامہ ’’منشور‘‘ میں ادبی خدمات انجام دیں اور 26 برس تک اس کے مدیر رہے، ’’امن‘‘ اخبار میں نیوز ایڈیٹر اور روزنامہ ’’مشرق‘‘ میں بھی انھیں اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے مواقع میسر آئے۔ ایک ایماندار، راست باز صحافی اور معروف مترجم کی حیثیت سے بھی انھوں نے نمایاں اور قابل تحسین کام کیا ہے۔
فہیم اسلام انصاری کے انھی اوصاف اور ادب سے محبت کے حوالے سے مماثلات اسرار کی جانب سے شام منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ماہ و سال گردش میں رہے اور وقت گزرتا گیا، گزرتے وقت کی ساعتوں میں مماثلات اسرار کی جانب سے فہیم بھائی کی صحافیانہ و ادبی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے مماثلات اسرار کے اراکین و قلم کاروں نے انھیں یادگاری شیلڈ خاص تقریب کے موقع پر دینے کا اہم فیصلہ کیا۔
ادبی تنظیم ’’مماثلات اسرار‘‘ کی جانب سے یہ پہلی اور کامیاب کاوش تھی۔ اس موقع پر طارق رئیس فروغ نے کہا کہ انشا اللہ جلد ہی وہ سلسلہ دوبارہ شروع کریں گے تاکہ علمی و ادبی یا کسی بھی میدان میں نمایاں کارنامے انجام دینے والوں کو اپنی قدر و قیمت کا احساس اپنی زندگی میں ہی ہو سکے، زندگی گزر جانے کے یادگاری نشستوں کا انعقاد بے معنی ہے۔
فہیم انصاری بہت ساری صلاحیتوں کے مالک ہیں شاعر اور ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین مترجم بھی ہیں،انھوں نے اس حوالے سے نمایاں کام کیا ہے۔
انھوں نے جرمن زبان کے افسانوں اور ناول کو ترجمے کے قالب میں اس انداز سے ڈھالا ہے کہ اس پر ملمع کاری کا احساس ہرگز نہیں ہوتا ہے بلکہ تخلیق کا خوبصورت رنگ سما جاتا ہے جو ترجمے کی جان ہے۔ جرمن زبان کے نوبل انعام یافتہ ناول نگار یانرشیول کے ناول ''And Never Said a Word'' کا اردو ترجمہ ’’زبان سے کچھ نہ کہا‘‘ اس کے علاوہ اٹلی کے نامور مصنف البرٹو موراویو کے افسانوں کے کام کو اردو میں منتقل کیا۔
اس کے ساتھ ہی ’’زندہ نظمیں‘‘ کے عنوان سے دنیا بھر کے ان شاعروں کی نظموں کا ترجمہ کیا جو فسطائیت کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے ظلم و ستم کا شکار ہوئے یا پھر انھیں سزائے موت دی گئی، انھی شعرا میں یانرش، یائنے، اریک کیسٹنر، اسٹیفن زیوگ، موسیٰ جلیل، نکولا واپستا روف اور دیگر شامل تھے۔
اس موقع پر فہیم اسلام انصاری کی نظموں کے تراجم بھی میری نگاہوں کے سامنے آگئے ہیں ان میں ہی سے یانرش، یانیے کی ایک نظم کا ترجمہ قارئین کی نذر، جوکہ اپنی بیوی کے نام شاعر نے بے حد محبت اور اس احساس کے ساتھ لکھی ہے جس میں اس کی خدمت اور حسن کا قصیدہ شامل ہو گیا ہے۔
پیاری بیوی
فرشتوں کی طرح معصوم
قربانی دینے والی
میری جان عزیز، پیاری بیوی
میرے مختصر سے ناشتے کافی اور کریم کو
اپنے ہاتھوں سے تیار کرتی ہے
محبت بھری مسکراہٹ سے جگمگاتے چہرے کے ساتھ
خود ہی لے کر آتی ہے
کرہِ ارض کی وسعتوں میں
ایک بھی چہرہ ایسا نہیں جو اس کی طرح مسکرا سکے
فہیم اسلام انصاری کی طبع زاد غزلوں میں سے ایک غزل کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیے۔
وقت کے ساتھ تھی ہر بات مرے بستر پر
ٹوٹ کر بکھری دھنک رات مرے بستر پر
رات کا زہر اتارا ہے تو یوں لگتا ہے
جیسے خوابیدہ ہو سقراط مرے بستر پر
اس کی خورشید نگاہی کا اثر یوں بھی ہے
زندگی بھر نہ ہوئی رات مرے بستر پر
مماثلات اسرار ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے تحت باقاعدگی کے ساتھ پروگراموں کا انعقاد ہوتا ہے، شاید بے شمار قارئین اور قلم کار اس بات سے ناواقف ہوں گے کہ مماثلات اسرار کن حالات میں وجود میں آیا۔
ہوا یوں کہ اسرار حسین شاکی اچھی خاصی اور صحت مند زندگی بسر کر رہے تھے کہ بالکل اچانک وہ بیمار ہو گئے اور ایسے بیمار ہوئے کہ زندگی کی طرف وہ پھر کبھی نہیں لوٹے کہ بس اللہ نے ان کی اتنی ہی عمر لکھی تھی، بچے چھوٹے تھے انھیں ابھی بہت کچھ کرنا تھا لیکن زندگی نے مہلت نہیں دی۔
نہ جانے کیا سوچ کر انھوں نے یہ غزل تخلیق کی تھی شاید موت کی دستک انھوں نے سن لی تھی اور مزید جینے کی تمنا نے ان حالات میں بھی ایک بار پھر انگڑائی لی تھی۔
کچھ دن اور جیا جائے
اور کمال کیا جائے
پھیل نہ جائے پلکوں تک
دل کا زخم سیا جائے
کچھ تصویر نہیں کہتی
شیشہ توڑ دیا جائے
گھر میں خوف پنپتا ہے
باہر شور کیا جائے
شوق کی خالی راہوں میں تیرا نام لیا جائے
تقریب پذیرائی کے موقع پر منفرد لہجے کے شاعر، صحافی اور افسانہ نگار نے اپنے مہمان خاص کے حوالے سے شرکا کی معلومات میں اضافہ کیا اور ترجمہ شدہ اور طبع زاد کلام کے چند اشعار پڑھ کر سنائے اور اس بات کی وضاحت کی کہ فہیم اسلام انصاری نے ترقی پسند ادیب کے طور پر جدوجہد اور مزدوروں و دیگر نچلے طبقے کے لیے آواز اٹھائی۔
ناظم نشست طارق رئیس فروغ نے بھی جناب فہیم اسلام انصاری کی ادبی اور تخلیقی خدمات پر روشنی ڈالی۔نجمہ عثمان نے ’’اجمال‘‘ کے ایک اداریے سے چند سطور پڑھیں اور مشورہ دیا کہ انھیں یکجا کرکے پی ڈی ایف یا کتابی شکل میں شائع ہونا چاہیے۔
سینئر شاعر، ادیب حمید انجم نے کمیونسٹ پارٹی اور تحریک اور تحریکی ساتھیوں کے حوالے سے پر مغز گفتگو کی۔ پروفیسر شہناز پروین نے خوبصورت یادوں کو اپنی گفتگو کا حصہ بنایا۔ صاحب اعزاز نے اپنی پی آئی اے کی ملازمت اور سی بی اے یونین کے حوالے سے دلچسپی اور فکر انگیز واقعات سنائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل