Sunday, September 27, 2026
 

منی لانڈرنگ ٹیکس سے الگ جرم قرار، ایف بی آر کو فیصلے سے قبل تحقیقات کی اجازت

 



لاہور ہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ کو ٹیکس سے الگ جرم قرار دے دیا اور فیصلے میں کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ٹیکس کیس کے فیصلے سے قبل منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرسکتا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے متعلق اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر ٹیکس کیس کے حتمی فیصلے سے پہلے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرسکتا ہے، منی لانڈرنگ اور ٹیکس کیس دو الگ قانونی معاملات ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ منی لانڈرنگ کیس کے لیے بنیادی جرم میں سزا کا فیصلہ ضروری نہیں، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ خصوصی قانون ہے اور عمومی قوانین پر فوقیت حاصل ہے، زیرالتوا ٹیکس تنازع منی لانڈرنگ کی کارروائی روکنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت عالیہ نے بتایا کہ تاج انٹرنیشنل کیس کا فیصلہ سیلز ٹیکس تک محدود تھا، تاج انٹرنیشنل فیصلے کو منی لانڈرنگ کارروائی روکنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا، بینکوں کی مشکوک لین دین کی رپورٹس پر کارروائی قانون کے مطابق ہوتی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ عام طور پر ابتدائی مرحلے پر فوجداری تحقیقات نہیں روک سکتی، رقم کے ماخذ اور منتقلی سے متعلق سوالات کا فیصلہ خصوصی عدالتیں کریں گی۔ ایف بی آر نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے منی لانڈرنگ اور مالی جرائم کے خلاف کارروائی کو تقویت ملے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل