Sunday, September 27, 2026
 

جب امریکہ ایرانی حکومت کے خفیہ پیغام پڑھتا رہا

 



یہ 14 اپریل 1986 ء کی بات ہے۔مغربی جرمنی کے دارالحکومت ، مغربی برلن میں ’’لا بیل‘‘نامی ڈسکوبار جو امریکی فوجیوں کا پسندیدہ اڈا تھا، ایک تباہ کن بم دھماکے کا شکار ہوگیا۔ اس کی زد میں آ کر 200 سے زائد افراد زخمی اورتین ہلاک ہوئے۔شام کو امریکی صدر رونالڈ ریگن اپنے عوام سے خطاب کرنے قومی ٹیلی ویژن پر آئے اور انہوں نے لیبیا کے رہنما، معمر قذافی پر الزام لگایا کہ یہ حملہ انھوں نے کرایا ہے۔ ساتھ ہی لیبیا کی عسکری و سول تنصیبات پر فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ریگن نے کہا’’اب اِس بات کے حتمی ثبوت موجود ہیں کہ لا بیل ڈسکوٹیک پر دہشت گردانہ بم دھماکہ لیبیا کی حکومت کے براہ راست احکامات کے تحت کیا گیا۔‘‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ 25 مارچ کو طرابلس سے مشرقی برلن میں واقع ’’لیبین پیپلز بیورو‘‘ کو یہ احکامات بھیجے گئے تھے کہ ایک ایسا دہشت گردانہ حملہ کیا جائے جس سے ’’زیادہ سے زیادہ اور اندھا دھند جانی نقصان‘‘ہو۔ 15 اپریل کو انہوں نے مزید دعویٰ کیا’’مشرقی برلن کے دفتر نے طرابلس کو اپنے مشن کی زبردست کامیابی کی رپورٹ بھیجی ہے۔‘‘ بیرون ممالک کے علاوہ امریکہ کے اندر بھی لیبیا کے بارے میں ریگن کے دعووں پر شکوک و شبہات موجود تھے۔ سینیٹر سیم نَن نے کہا کہ ریگن نے جو اصل ثبوت پیش کیے تھے …نہ صرف امریکی عوام کے سامنے، بلکہ کانگریس کے سامنے بھی ،وہ خاص طور پر اس حوالے سے’’غیر واضح‘‘ تھے کہ امریکہ نے جوابی فضائی حملوں کے لیے ٹارگٹوں کا انتخاب کیسے کیا۔ دریں اثنا امریکی اخبار، واشنگٹن پوسٹ کے صفحات پر معروف صحافی باب ووڈورڈ نے مبینہ طور پر لیبیا حکومت کے پکڑے گئے پیغامات پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’’کسی حد تک مبہم‘‘ قرار دیا۔ لیکن ایک ملک، ایران میں امریکی صدر ریگن کے خطاب نے ایک بالکل مختلف تشویش کو جنم دیا۔ وجہ یہ ہے،ایرانی حکومت جانتی تھی کہ بم دھماکے میں لیبیا کے ملوث ہونے اور طرابلس و مشرقی برلن کے درمیان بھیجے گئے پیغامات کے بارے میں ریگن سچ کہہ رہے ہیں۔ ایرانی اب یہ سوچ کر پریشان اور فکرمند تھے کہ ریگن کو یہ خفیہ معلومات کیسے معلوم ہوئیں؟ عظیم ترین جاسوسی آپریشن چھ سال پہلے امریکی صحافیوں نے انسانی تاریخ کے ایک عظیم ترین جاسوسی آپریشن کا پردہ فاش کیا تھاجس کے بارے میں آپ نے شاید کبھی نہ سنا ہو…طرفہ تماشا یہ ہے کہ اسی دن اسے دوبارہ دبا دیا گیا۔اْس وقت انکشاف ہوا تھا، ایک سو سے زیادہ ممالک نے اپنے قومی راز محفوظ رکھنے کے لیے جس ایک کمپنی پر بھروسہ کیا… وہ کمپنی امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کی ملکیت تھی۔  1986 ء میں برلن کے ڈسکوٹیک (ناچ گھر) بم دھماکے نے صدر ریگن کو امریکی انٹیلی جنس صلاحیتوں کا انکشاف کرنے پر مجبور کر دیا، جس سے غیر ارادی طور پر یہ بات بھی سامنے آ گئی کہ امریکہ اُن سوئس انکرپشن مشینوں سے بھیجے گئے پیغامات پڑھ سکتا ہے جو دنیا بھر میں کئی حکومتیں اپنی پیغام رسانی خفیہ رکھنے کی خاطر استعمال کرتی تھیں۔یہ تو کئی برس بعد انکشاف ہوا کہ امریکی خفیہ ایجنسی،سی آئی اے نے کئی دہائیوں تک ’’کرپٹو اے جی‘‘(Crypto AG) نامی سوئس کمپنی کی تیارکردہ انکرپشن مشینیں خفیہ طور پر اپنی ملکیت میں رکھیں اور اُن میں ردوبدل کیا۔ یہ مشینیں سو سے زائد ممالک کو فروخت کی گئیں، جس سے امریکی انٹیلی جنس کو سرد جنگ والے مناقشوں کے دوران غیر ملکی پیغام رسانی راستے میں ہی پکڑنے اور ان کا مطلب سمجھنے کی سہولت مل گئی۔  عالمی انکرپشن ٹیکنالوجی پر سی آئی اے کے کنٹرول سے متعلق اِس عظیم الشان جاسوسی اسکینڈل کا انکشاف 2020 ء میں ہوا تھا لیکن اسی دن’’ کووڈ-۹۱ عالمی وبا ‘‘جنم لینے کے اعلان کی وجہ سے یہ خبر دب کر رہ گئی۔ پیغامات پڑھنے کا طریقہ حکومت ِ لیبیا نے بھی اپنے پیغامات انکرپٹ (خفیہ) کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں قائم سرکاری پیغامات کو سیکیورٹی فراہم کرنے والی کمپنی ،کرپٹو اے جی کی بہترین سائیفر مشینیں استعمال کی تھیں۔ یہ وہی مشینیں تھیں جو امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں سے لے کر ویٹیکن تک سبھی استعمال کر رہے تھے۔ مزید اہم بات یہ کہ یہ وہی مشینیں تھیں جو ایران استعمال کر رہا تھا۔     امریکی صدر کی تقریر کے بعد یہ سوال پیدا ہو گیا کہ کیا امریکہ نے کرپٹو اے جی کی مشہور مشینوں کے ذریعے انکرپٹ کیے گئے پیغامات پڑھنے کا طریقہ معلوم کر لیا تھا؟ کیا وہ مہینوں یا شاید برسوں سے یہ طریقہ جانتے تھے؟ کیا امریکہ 1970 ء کے دہائی کے آخر میں یرغمالیوں کے کشیدہ بحران کے دوران ایران کے انکرپٹ شدہ پیغامات پڑھنے کے قابل تھا؟ اور اگر ایسا تھا، تو کیا اپنے فضائی حملے کے دفاع کے جوش میں امریکی صدر رونالڈ ریگن نے غلطی سے یہ راز افشا کر دیا تھا کہ امریکہ کوڈ توڑنے کی صلاحیتیں رکھتا ہے؟یہ صلاحیت اب بے نقاب ہو گئی تھی۔ ایران کرپٹو اے جی کے سب سے بڑے گاہکوں میں سے ایک تھا، لہذا قدرتی طور پر ایرانیوں کے ذہن میں اپنے پاس موجود مشینری کی سیکیورٹی کے بارے میں سوالات اْٹھ گئے۔ کرپٹو اے جی کا ایک بڑا گاہک ہونے کے ناتے ایران کے لیے ایک مخصوص سیلز پرسن بھی مقرر تھا… سوئس شہری ہنس بوہلر جو امریکی اخبار،واشنگٹن پوسٹ کے الفاظ میں ’’کمپنی کے بہترین سیلز مینوں میں سے ایک‘‘ تھا۔ میں کچھ نہیں جانتا  اطلاعات کے مطابق ایران نے لا بیل بم دھماکے اور پھر ہونے والے امریکی فضائی حملوں کے فوراً بعد معاملے کی چھان بین کرتے ہوئے بوہلر پر دباو ڈالا تھا۔ لیکن ایرانیوں کو بوہلر سے پوری کہانی نکلوانے کے لیے سخت اقدامات کرنے میں مزید چھ سال لگ گئے…ایک ایسی کہانی جس کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ وہ بوہلر کو خود بھی معلوم نہیں تھی۔ 1992ء میں ہنس بوہلر تہران کے ایک تجارتی دورے سے واپس نہیں لوٹا۔ ایرانی حکومت نے اسے حراست میں لے کر نو ماہ تک اس قدر شدید تفتیش کا نشانہ بنایا کہ سی آئی اے کی دستاویزات کے مطابق وہ ’’ذہنی طور پر شدید بدحالی‘‘ کا شکار ہو گیا۔ ایرانیوں نے بوہلر پر کرپٹو اے جی، سی آئی اے، اور بی این ڈی ( مغربی جرمنی کی انٹیلی جنس سروس) کے درمیان ممکنہ تعلقات یا مشینوں کی کمزوریوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی خاطر جتنا بھی دباو ڈالا، بوہلر بضد رہا کہ وہ کچھ نہیں جانتا۔ بوہلر سچ کہہ رہا تھا، وہ واقعی کچھ نہیں جانتا تھا۔ لیکن جس بات نے اسے بعد میں بھی پریشان رکھا…جب بالاآخر کرپٹو اے جی کی طرف سے ایران کو 10 لاکھ ڈالر تاوان ادا کرنے کے بعد بوہلر آزاد کر دیا گیا،وہ یہ تھی کہ تفتیش کرنے والے ایرانی اُس کی اپنی کمپنی کے مالکان کے بارے میں زیادہ جانتے تھے۔ کمپنی کی کہانی  کرپٹو اے جی کا مالک بورس ہیگلن تھا جس نے یہ کمپنی 1925 ء میں سوئٹزرلینڈ میں قائم کی تھی اور توقع تھی کہ بورس کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس کا بیٹا، بورس جونیئر (یا ’’بو‘‘) کمپنی سنبھالے گا۔ اس کے بجائے 1970ء میں یورپی مملکت، لیچٹنسٹائن کی ایک ہولڈنگ کمپنی نے کرپٹو اے جی کی ملکیت حاصل کر لی۔ اسی سال ’’بو‘‘ واشنگٹن کی بیلٹ وے پر ایک سڑک حادثے میں ہلاک ہو گیا۔ بوہلر کو معاملے کی گڑبڑ کا اندازہ ہونے لگا تھا یا نو ماہ طویل ایرانی تفتیش کے دباؤ نے اپنے مالکان پر اْس کا اعتماد توڑ دیا تھا…بہرحال بوہلر میڈیا سے بات کرنے لگا۔ چند ہی سال میں امریکی اخبار، بالٹیمور سن یہ رپورٹ کر رہا تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسی، این ایس اے (NSA)کرپٹو اے جی کی مشینوں میں ردوبدل کرتی رہی ہے تاکہ امریکہ دوسرے ممالک کے خفیہ سرکاری پیغامات آسانی سے پڑھ سکے۔ تاہم کرپٹو اے جی کے اِس جاسوسی اسکینڈل کی پوری حقیقت 2020 ء تک سامنے نہیں آ سکی۔ خوفناک سچ یہ تھا کہ عالمی سطح پر قابل اعتماد کمپنی، کرپٹو اے جی میں امریکی انٹیلی جنس نے کوئی خفیہ گھس بیٹھ یا تخریب کاری نہیں کی تھی…بلکہ سی آئی اے اْس کے قیام سے ہی ادارے کے ساتھ تعاون کر رہی تھی اور کئی دہائیوں تک امریکی خفیہ ایجنسی اور مالکان، دونوں مل کر کمپنی چلا رہے تھے۔ ماضی پر ایک نظر سویڈش شہری ، بورس ہیگلن کرپٹو اے جی کمپنی قائم کرنے سے بہت پہلے ’’اے بی کرپٹوگراف‘‘ میں ملازم تھا۔یہ کرپٹوگرافی کی بنیاد رکھنے والی اولیّں کمپنیوں میں سے ایک کمپنی تھی جسے 1916ء میں سویڈش موجد، اروڈ ڈیم نے قائم کیا تھا اور اْسے ایمینوئل نوبل (نوبل پرائز کے موجد الفریڈ نوبل کے بھتیجے) کی مالی معاونت حاصل تھی۔ بنیادی طور پر یہ کمپنی اروڈ ڈیم کی تیار کردہ روٹر مشینیں اور دیگر سائیفر آلات بیچنے کے لیے بنائی گئی تھی۔لیکن 1920 ء تک روس میں پیدا ہونے والے سویڈش شہری ہیگلن نے کمپنی کا کنٹرول سنبھال لیا۔وہ ڈیم کے ڈیزائنوں میں اپنی تبدیلیاں کر کے ایسی مشینیں بنانے لگا جو کارکردگی میں جرمنی میں بنتی کرپٹو گرافی کی شیفریئر نامی مشینوں کا مقابلہ کر سکتی تھیں۔ 1930ء تک اے بی کرپٹوگراف کمپنی کو ختم کر دیا گیا اور اس کے پیٹنٹ ہیگلن کی کمپنی ،ٹیکنک کی طرف منتقل کر دیے گئے۔ 1939ء میں ہیگلن نے اس کا نام بدل کر ’کرپٹو ٹیکنک‘ رکھ دیا۔ 1940 ء میں جرمن نازی حملے کے خطرے کے پیش نظر ہیگلن اپنے ڈیزائن لے کر امریکہ فرار ہو گیا جو اس وقت جاسوسی کی جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی تلاش میں تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے آغاز پر امریکہ انکرپشن اور ڈی انکرپشن ٹیکنالوجی کے معاملے میں اپنے اتحادیوں اور دشمنوں سے بہت پیچھے تھا۔ مگر ہیگلن کے پاس ایک ایسی مشین تھی جو امریکہ کو آگے بڑھا سکتی تھی:اس کا نام ایم۔209 تھا۔ یہ آلہ تب کرپٹو گرافی کی سب سے اعلی مشین، اینیگما (Enigma) جتنا طاقتور تو نہیں تھا لیکن اسی بنیادی اصول پر کام کرتا تھا…اور اس سے بھی اہم بات یہ کہ سفری اور قابل نقل وحمل تھا۔ ہیگلن نے بالاآخر امریکی شہر سیکیورز میں واقع ایک ٹائپ رائٹر فیکٹری کے ذریعے چالیس ہزار ایم۔209 مشینیں تیار کیں اور انھیں امریکی فوج کو بیچ دیا۔ امریکی فوج کے ساتھ معاہدو ں سے اسے چھیاسی لاکھ ڈالر کا منافع ہوا۔ اسی دوران بورس ہیگلن کی امریکی کرپٹولوجی کے بانی، ولیم فریڈمین کے ساتھ عمر بھر کی دوستی ہو گئی۔ ان کی دوستی، جیسا کہ فریڈمین کے خطوط سے ثابت ہے، بالکل سچی تھی۔ لیکن اس دوستی نے امریکہ کو ہیگلن کے ساتھ ایک ذاتی تعلق بھی فراہم کر دیا جو جنگ کے بعد کی دنیا میں بظاہر غیر جانبدار نظر آتا تھا۔ امریکہ سے شراکت داری سی آئی اے کی دستاویزات کے مطابق یہ فریڈمین ہی تھا جس نے 1951 ء میں واشنگٹن کے کاسموس کلب میں ہیگلن سے ملاقات کی تاکہ اس ابتدائی ’’زبانی معاہدے‘‘ کی تجویز پیش کی جا سکے جو بعد میں ایک بہت بڑے ’’آپریشن روبیکون‘‘ میں ڈھل گیا۔ ہیگلن کو صرف امریکہ کے لیے مشینیں ڈیزائن کرنے پر آمادہ کرنے کے بجائے فریڈمین نے اسے ایک ایسی کمپنی بنانے کی ترغیب دی جو دنیا کے کسی بھی ملک کو اپنی مشینیں فروخت کر سکے۔ ہیگلن کو یہ کمپنی سوئٹزرلینڈ جیسے غیر جانبدار ملک میں قائم کرنی تھی تاکہ اْس کی غیر سیاسی ساکھ مضبوط رہے۔ اس وقت مگر فریڈمین کے سامنے ایک اہم سوال تھا: کیا ہیگلن اپنی نئی اور محفوظ انکرپشن مشینیں صرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بیچنے اور دوسرے ممالک کو صرف پرانے اور آسانی سے ڈی کوڈ ہونے والے ماڈل بیچنے پر تیار ہو گا؟ اگر ایسا ہوا، تو ہیگلن کو یقین دہانی کرائی گئی کہ امریکی حکومت کی طرف سے اْسے خفیہ طور پر بھاری معاوضہ دیا جائے گا۔ ہیگلن اس زبانی معاہدے پر رضامند ہو گیا۔ فروخت میں نقصان کے ’’ازالے‘‘ کے طور پر امریکی حکومت نے اس کو ستر لاکھ ڈالر فراہم کیے۔ 1960ء کی دہائی تک یہ معاہدہ ایک لائسنسنگ ایگریمنٹ کی شکل اختیار کر گیا جس میں ستر ہزار ڈالر کی امداد اور مارکیٹنگ کے لیے رقم کی فراہمی بھی شامل تھی تاکہ’’کرپٹو اے جی‘‘ بیرون ملک سرکاری ٹھیکوں کی دوڑ میں اپنے حریفوں کو پچھاڑ سکے۔ فریڈمین کا ہمیشہ سے موقف تھا کہ ہیگلن ایک حد تک ہی سمجھوتہ کرے گا،لیکن 1960ء کی دہائی میں جیسے ہی سرد جنگ میں شدت آئی، امریکہ اْس پر مزید دباؤ ڈالنے لگا۔ امریکی حکام اب صرف یہ نہیں چاہتے تھے کہ کرپٹو اے جی مخالف ممالک کو پرانے ماڈل فروخت کرے، بلکہ وہ چاہتے تھے کہ سبھی ملک وہی جدید ترین مشینیں خریدیں جو امریکی اتحادیوں کو دی جاتی تھیں۔ یہ مشینیں اندرونی طور پر اس طرح ڈیزائن کی جاتی تھیں کہ امریکی انٹیلی جنس ان کے کوڈز آسانی سے توڑ سکے۔اگرچہ ہیگلن اخلاقی طور پر اِس عمل کے خلاف تھا، لیکن تکنیکی اور مالی اعتبار سے اُس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق:’’ 1960 ء کی دہائی کے وسط میں سی آئی اے اور این ایس اے کو ایک نیا موقع ملا، کیونکہ الیکٹرانک سرکٹس کے عام ہونے سے ہیگلن کے پاس اِس نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے باہر سے مدد لینے یا پھر پرانی مکینیکل مشینوں تک محدود رہ کر اپنا وجود ختم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔‘‘ مشین کے دو ماڈل ہیگلن مان گیا اور 1976ء تک کرپٹو اے جی نے ایچ۔ 360 نامی ایک نئی الیکٹرانک کوڈ بریکنگ مشین پیش کر دی۔ گاہک اْسے خریدنے کے لیے بے تاب تھے، لیکن اس بات سے بے خبر کہ اْس کے دو مختلف ماڈلز بیچے جا رہے ہیں: ایک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے اور دوسرا باقی تمام ممالک کے لیے…بالکل ویسے ہی جیسے امریکی قومی خفیہ تنظیم، این ایس اے نے طے کیا تھا۔ دوسرے ماڈل میں بظاہر کوئی پیچیدہ جاسوسی ٹیکنالوجی یا ظاہری تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔ اس کے بجائے وہ صرف مکمل طور پر بے ترتیب (Random) کمبی نیشن بنانے کا دھوکہ دیتی تھی جس پر انکرپشن ٹیکنالوجی کا انحصار ہوتا ہے۔ حقیقت میں وہ ایک بہت ہی محدود تسلسل میں کام کرتی تھی جس سے امریکی و جرمن خفیہ ایجنسیاں، سی آئی اے اور این ایس اے پہلے سے واقف تھیں اور وہ سیکنڈوں میں اُن مشینوں کے ذریعے پیغامات ڈی کوڈ کر لیتی تھیں۔ جب ہیگلن کی ریٹائرمنٹ قریب آئی تو ایسے شواہد ملتے ہیں کہ اسے اپنی ٹیکنالوجی کے اِس طرح کے خفیہ استعمال پر کچھ تحفظات تھے۔ اِس بات کے بھی ثبوت موجود ہیں کہ اس کے بیٹے ’’بو‘‘ نے کرپٹو اے جی کے امریکہ کے ساتھ خفیہ معاہدے کی شدید مخالفت کی تھی۔1970ء تک بہرحال بورس ہیگلن ریٹائر ہو چکا تھا۔ اس کا بیٹا ’’بو‘‘ پْراسرار حادثے میں ہلاک ہو گیا تھا اور اب کرپٹو اے جی کو لیچٹنسٹائن کی ایک شیل کمپنی کے ذریعے اصل میں سی آئی اے اور بی این ڈی مل کر چلا رہے تھے۔ اس کے بعد کرپٹو اے جی امریکی انٹیلی جنس کا صرف ایک خفیہ پارٹنر نہیں رہا بلکہ اس کا ایک خفیہ ذیلی ادارہ بن گیا۔ دنیا بھر کے تقریباً 100 ممالک (بشمول پاکستان، ایران، لیبیا، ارجنٹائن اور شام) کی حکومتوں کے بے شمار خفیہ سرکاری پیغامات امریکہ ڈی کوڈ کر رہا تھا…وہ پیغامات جو اِن ممالک نے یہ سمجھ کر سوئس ساختہ مشینوں کے ذریعے بھیجے تھے کہ انھیں کوئی نہیں پڑھ سکتا۔ مگر امریکی و جرمن خفیہ ایجنسیاں ہر پیغام سے واقف تھیں۔ ہنس بوہلر سے تفتیش اور میڈیا کی توجہ کے بعد امریکی صحافی کرپٹو اے جی کی اصل حقیقت جاننے کے لیے تحقیقات کرنے لگے۔جیسے 1996ء میں امریکی اخبار ،بالٹیمورسن اور جرمنی کے اخبار،ڈیر اسپیگل نے کمپنی کے اصل کام کا پردہ فاش کر دیا تھا۔ راز افشا ہو گیا لیکن اس جاسوسی آپریشن کی پوری کہانی کو مکمل طور پر سامنے آنے میں 25 سال لگ گئے۔2020ء میں آخرکار سوئس براڈکاسٹر، ایس آر ایف،جرمن میڈیا ادارے، زیڈ ڈی ایف اورامریکی اخبار، واشنگٹن پوسٹ نے مل کر 280 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی۔ اس سے ثابت ہوگیا کہ امریکہ کے پاس بیسویں صدی کی اہم ترین سیاسی تبدیلیوں، دہشت گردانہ حملوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی پہلے سے معلومات موجود تھیں۔ سی آئی اے اور این ایس اے جن سرکاری پیغامات کو ہیک کر رہے تھیں (مثال کے طور پر ایران کے 80 سے 90 فیصد انکرپٹڈ پیغامات)، اُن سے ایران کے یرغمالی بحران، فاک لینڈز کی جنگ اور لاطینی امریکہ میں ’’آپریشن کونڈور‘‘ کے مظالم سے متعلق امریکی علم اور کردار کی حقیقت پوری طرح بدل کر دنیا والوں کے سامنے آتی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی رو سے ایٹمی طاقتوں، بھارت اور پاکستان کے ساتھ ساتھ ویٹیکن اور گلوبل ساؤتھ سے تعلق رکھتے کئی ممالک نے اے جی کرپٹو کے آلات استعمال کیے۔ تاہم اِن آلات نے امریکی اور جرمن خفیہ ایجنسیوں کو آئرلینڈ، اٹلی، اسپین، پرتگال اور ترکی جیسے اتحادی ممالک کے فوجی اور سفارتی پیغامات بھی مکمل طور پر پڑھنے کی اجازت دے دی۔ جرمن پبلک سروس میڈیا کمپنی،زیڈ ڈی ایف کے مطابق اِس امر پر سی آئی اے اور بی این ڈی کے درمیان بار بار تنازعات ہوتے رہے: جرمن انٹیلی جنس نہیں چاہتی تھی کہ اتحادیوں کی جاسوسی کی جائے، جبکہ سی آئی اے بنیادی طور پر ہر حکومت کی جاسوسی کرنا چاہتی تھی۔ مشرق وسطیٰ کے تنازع پر مذاکرات:1967 ء میں کیمپ ڈیوڈ معاہدوں پر مذاکرات کے دوران امریکی خفیہ ایجنسیاں مصری فریق کے مواصلات پڑھنے میں کامیاب رہیں۔ اس طرح امریکہ مصریوں کے مذاکراتی موقف سے واقف تھا۔ انہی معاہدوں کے نتیجے میں جو اُس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر کے تحت طے پائے تھے، 1979 ء کا اسرائیل-مصر امن معاہدہ عمل میں آیا۔ پانامہ پر امریکی حملہ:1989 ء میں ریاستہائے متحدہ نے پاناما پر حملہ کیا (آپریشن جسٹ کاز)۔مگر آپریشن روبیکن کے ذریعے امریکی انٹیلی جنس یہ جانتی تھی کہ پانامہ کے مطلوب صدر، مینوئل نوریگا پاناما سٹی میں ویٹیکن کے سفارت خانے میں موجود ہیں۔چناں چہ انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ حرف آخر یہ ایک ایسا زبردست اسکینڈل تھا جو دنیا کو ہلا کر رکھ سکتا تھا اور جس پر شدید عوامی اور قانونی ردِعمل آنا چاہیے تھا۔ کسی اور وقت شاید ایسا ہی ہوتا لیکن کرپٹو اے جی کے سی آئی اے سے تعلقات پر واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ11 فروری 2020 ء کو شائع ہوئی…یہ وہی دن ہے جب عالمی ادارہ صحت (WHO) نے اکیسویں صدی کی خوفناک ترین عالمی وبا کے جنم لینے کا اعلان کرتے اسے ایک باقاعدہ نام’’ کوویڈ۔19‘‘دیا۔یہ وبا تب تک ایک ہزار سے زائد جانیں لے چکی تھی۔ اگلے چند ہی دنوں میں پوری دنیا کی توجہ ’’آپریشن روبیکون‘‘ سے ہٹ کر وبا کے جنم لیتے زیادہ سنگین مسئلے کی طرف چلی گئی۔ اس طرح ایک سو سے زیادہ ممالک میں نصف صدی سے جاری امریکہ کا عظیم الشان جاسوسی آپریشن بغیر کسی بڑے شوروغوغا کے صفحات ِ تاریخ میں خاموشی سے دفن ہو گیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل