Sunday, September 27, 2026
 

1979 کے بعد اسرائیل مضبوط ہوا یا مشرقِ وسطیٰ مزید پیچیدہ؟

 



(سابق ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ ابلاغ عامہ، نمل یونیورسٹی، کراچی) مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو چند نعروں، جذباتی دعوؤں اور ’’خفیہ سازش‘‘ کی ایک لکیر میں سمجھنا شاید آسان ہے، لیکن تاریخ اتنی سادہ نہیں۔ ایک سوال ضرور اہم ہے: کیا 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن اس انداز میں تبدیل ہوا کہ اسرائیل کے خلاف متحد عرب محاذ کم زور پڑ گیا؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں نعروں سے نکل کر تاریخ، جنگوں اور زمینی حقائق کو دیکھنا ہوگا۔ یہ درست نہیں کہ عرب ممالک نے کبھی اسرائیل کے خلاف جنگ نہیں کی۔ 1948 میں مصر، ٹرانس جارڈن، شام، لبنان اور عراق کی افواج جنگ میں شریک ہوئیں، جبکہ سعودی عرب نے بھی فوجی دستہ بھیجا جو مصری کمان کے تحت لڑا۔ 1956 میں مصر نے نہرِ سویز کے بحران میں اسرائیل، برطانیہ اور فرانس کا سامنا کیا۔ 1967 میں مصر، اردن اور شام اسرائیل کے ساتھ جنگ میں شامل ہوئے اور اسرائیل نے صرف چھ روز میں سینائی، غزہ، مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ پھر 1973 کی جنگ آئی۔ مصر اور شام نے اسرائیل پر اچانک حملہ کیا اور ابتدائی مرحلے میں اسرائیل کو شدید فوجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، اگرچہ جنگ کے اختتام تک اسرائیل نے اپنی پوزیشن دوبارہ مستحکم کرلی۔ عرب تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے امریکا اور بعض مغربی ممالک پر تیل کی پابندی نے عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا۔ یعنی تاریخ کا پہلا سبق واضح ہے: عرب ریاستیں اسرائیل کے خلاف جنگیں لڑ چکی ہیں، لیکن ان جنگوں میں عرب اتحاد مستقل اور یکساں نہیں تھا۔ پھر 1979 میں کیا بدلا؟ 1979 کا ایرانی انقلاب مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک بنیادی جغرافیائی اور سیاسی تبدیلی تھا۔ شاہِ ایران کی مغرب نواز حکومت ختم ہوئی اور آیت اللّہ خمینی کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی۔ نئی ایرانی قیادت نے انقلاب کو خطے میں پھیلانے اور مغربی اثر و رسوخ کے مقابلے کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ بنایا۔ یہیں سے ایک نئی علاقائی کشمکش نے جنم لیا۔ ایران نے براہِ راست روایتی جنگ کے بجائے مختلف مسلح گروہوں کے ساتھ تعلقات، مالی معاونت، تربیت اور اسلحے کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ آج اسے عموماً ایران کے ’’علاقائی مسلح نیٹ ورک‘‘ یا ’’محورِ مزاحمت‘‘ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ اس نیٹ ورک میں لبنان کی حزب اللہ، عراق کے متعدد مسلح گروہ، یمن کے حوثی اور فلسطینی علاقوں کے بعض گروہ شامل رہے ہیں۔ لیکن یہاں ایک بنیادی تصحیح ضروری ہے۔ یہ کہنا کہ ایران نے ’’ان تمام عرب ممالک میں پراکسیز بنائیں جنہوں نے اسرائیل سے جنگ کی تھی‘‘ تاریخ کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دیتا ہے۔ مثال کے طور پر حزب اللّہ کا قیام 1980 کی دہائی میں لبنان پر اسرائیلی قبضے اور لبنانی شیعہ سیاست کے مخصوص حالات میں ہوا؛ ایران اور پاسدارانِ انقلاب نے اسے مالی و عسکری مدد فراہم کی۔ اسی طرح شام میں ایران کا کردار بشار الاسد کی حکومت کی حمایت سے جڑا رہا، عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کا اثر 2003 کے بعد کے حالات اور داعش کے خلاف جنگ سے بھی وابستہ رہا، جب کہ یمن میں حوثی تحریک کی جڑیں مقامی زیدی سیاست اور یمنی ریاست کے ساتھ طویل تنازع میں ہیں۔ ایران نے بعد کے مرحلے میں حوثیوں کو مدد، ٹیکنالوجی اور تربیت فراہم کی، لیکن حوثی تحریک کو صرف ’’ایرانی ایجاد‘‘ قرار دینا بھی تاریخی پیچیدگی کو نظرانداز کرتا ہے۔ کیا ایران کی پراکسی پالیسی نے اسرائیل کو محفوظ بنا دیا؟ یہ سوال دل چسپ ضرور ہے، مگر اس کا جواب ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ میں دینا درست نہیں ہوگا۔ ایک طرف یہ حقیقت ہے کہ ایران نے ایسے مسلح گروہوں کی مدد کی جنہوں نے اسرائیل کے خلاف کارروائیاں کیں۔ حزب اللہ اور حماس کے ساتھ ایران کے تعلقات اس کی مثال ہیں۔ یمن کے حوثیوں نے بھی اسرائیل کی طرف میزائل اور ڈرون داغے اور بحیرۂ احمر میں اسرائیلی تعلق رکھنے والی سمندری تجارت کو نشانہ بنایا۔ دوسری طرف ایران نے خود بھی اسرائیل پر براہِ راست حملے کیے ہیں۔ اپریل 2024 میں ایران نے پہلی مرتبہ براہِ راست اسرائیلی سرزمین پر بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملہ کیا، جبکہ اس کے علاقائی اتحادی گروہوں نے بھی اس کارروائی میں حصہ لیا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ ’’ایران نے اسرائیل پر ایک گولی بھی نہیں چلائی‘‘ درست نہیں۔ اصل سوال شاید کچھ اور ہے کیا ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشمکش نے عرب ریاستوں کو ایک مشترکہ اسرائیل مخالف محاذ بنانے کے بجائے باہمی سلامتی کے مسائل میں الجھا دیا؟ اس سوال کا جواب بڑی حد تک ’’ہاں، یہ ایک اہم علاقائی اثر ہے‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ لبنان: مزاحمت یا ریاست کے اندر ریاست؟ حزب اللّہ اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے نام پر ابھری اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی موجودگی کے خلاف ایک طاقت ور عسکری قوت بنی۔ لیکن وقت کے ساتھ حزب اللہ لبنان کے سیاسی نظام کا بھی ایک اہم حصہ بن گئی۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب کسی ملک میں ریاستی فوج کے علاوہ ایک انتہائی طاقت ور مسلح تنظیم بھی موجود ہو تو ریاست کی خودمختاری، جنگ اور امن کے فیصلے پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے آج لبنان کا مسئلہ صرف اسرائیل اور حزب اللّہ کا مسئلہ نہیں؛ یہ لبنانی ریاست، داخلی سیاست، ایران، اسرائیل اور علاقائی طاقتوں کے باہمی تعلقات کا مسئلہ بن چکا ہے۔ شام: اسرائیل کے خلاف محاذ سے خانہ جنگی تک شام 1948، 1967 اور 1973 میں اسرائیل کے ساتھ جنگوں میں شامل رہا۔ لیکن 2011 کے بعد شام خود ایک طویل اور تباہ کن خانہ جنگی میں داخل ہوگیا۔ ایران نے بشارالاسد حکومت کی حمایت کی اور حزب اللّہ سمیت مختلف مسلح قوتوں نے شامی حکومت کی مدد کی۔ اس جنگ نے شام کی فوجی اور معاشی طاقت کو شدید متاثر کیا۔ لیکن یہ کہنا کہ ’’ایران نے شام کو صرف اسرائیل سے لڑنے سے روکنے کے لیے تباہ کیا‘‘ ایک ایسی نیت منسوب کرنا ہوگا جسے ثابت کرنے کے لیے مضبوط شواہد درکار ہیں۔ حقیقت زیادہ پیچیدہ ہے: شام میں خانہ جنگی، داعش، مقامی باغی گروہ، روس، ایران، ترکی، امریکہ اور اسرائیل سمیت متعدد طاقتیں مختلف ادوار میں مختلف مقاصد کے ساتھ شامل رہیں۔ 2024 میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے نے ایران کے علاقائی نیٹ ورک کو بھی ایک بڑا دھچکا پہنچایا۔ عراق اور یمن: اصل کہانی کیا ہے؟ عراق 1948 کی جنگ میں اسرائیل کے خلاف لڑ چکا تھا اور 1967 اور 1973 کے تنازعات میں بھی اس کی فوجی شرکت رہی۔ لیکن 2003 میں امریکی حملے کے بعد عراق کا پورا سیاسی و سلامتی کا ڈھانچا تبدیل ہوگیا۔ اس ماحول میں ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں کو غیر معمولی طاقت حاصل ہوئی۔ بعد میں داعش کے خلاف جنگ نے ان گروہوں کو مزید اہم بنا دیا۔ یمن میں بھی صورت حال اسی طرح پیچیدہ ہے۔ حوثی تحریک مقامی تنازعات سے نکلی، مگر بعد میں ایران کے ساتھ اس کے عسکری تعلقات مضبوط ہوئے۔ آج حوثی میزائل اور ڈرون سعودی عرب سمیت علاقائی اہداف اور اسرائیل کی طرف بھی استعمال کر چکے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ ’’ایرانی پراکسیز اسرائیل کو نہیں بلکہ صرف مسلمان ممالک کو نشانہ بناتی ہیں‘‘ موجودہ شواہد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ قطر کا معاملہ ایک نیا سوال اٹھاتا ہے حالیہ ایران۔امریکہ کشیدگی نے ایک اور حقیقت سامنے رکھی ہے: جنگ کا نقصان صرف فوجی نہیں ہوتا، معاشی بھی ہوتا ہے۔ قطر کے راس لفان ایل این جی انفراسٹرکچر کو ایرانی میزائل حملوں سے نقصان پہنچنے کے بعد قطر انرجی نے گیس کی فراہمی پر فورس میجر نافذ کیا تھا۔ آبنائے ہرمز میں آمدورفت کی شدید رکاوٹ نے عالمی ایل این جی مارکیٹ کو متاثر کیا۔ ستمبر 2026 کی صورت حال میں قطر انرجی کے مطابق ہرمز بحران کی وجہ سے نئے ایل این جی منصوبوں کے شیڈول پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، جبکہ ایشیائی منڈیوں میں گیس کی قیمتیں اور دست یابی بھی متاثر ہوئی ہیں۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ ’’کون کس کا ایجنٹ ہے؟‘‘ بلکہ یہ ہے کہ خطے کی جنگیں آخرکار کس کو معاشی طور پر کم زور کرتی ہیں؟ جواب واضح ہے: جنگ میں صرف فوجیں نہیں لڑتیں؛ بندرگاہیں، توانائی کے راستے، صنعتیں، روزگار اور عام شہری بھی قیمت ادا کرتے ہیں۔ کیا ’’گریٹر اسرائیل‘‘ حقیقت بننے والا ہے؟ یہ بھی ایک ایسا موضوع ہے جسے جذبات کے بجائے زمینی حقائق کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا تصور مختلف مذہبی، تاریخی اور سیاسی حلقوں میں مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ بعض انتہا پسند اور قوم پرست حلقے وسیع تر اسرائیلی سرحدوں کے تصورات پیش کرتے رہے ہیں، لیکن اسے اسرائیلی ریاست کی متفقہ، قابلِ عمل سرکاری پالیسی سمجھ لینا درست نہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نقشے پر کسی علاقے کو اپنے ملک کا حصہ دکھانا اور حقیقت میں اسے مستقل طور پر کنٹرول کرنا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ 1967 کی جنگ اس کی بہترین مثال ہے۔ اسرائیل نے سینائی، غزہ، مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور گولان پر قبضہ کیا، مگر بعد میں مصر کے ساتھ امن معاہدے کے تحت سینائی واپس کیا گیا۔ آج بھی کسی وسیع علاقے پر مستقل قبضے کے لیے صرف جدید طیارے، ڈرون، میزائل اور ٹیکنالوجی کافی نہیں۔ انتظامیہ، آبادی، پانی، انفرااسٹرکچر، معیشت، مقامی مزاحمت اور طویل المدت سیاسی نظم و نسق بنیادی مسائل ہیں۔ غزہ کی جنگ نے بھی دکھایا ہے کہ فوجی برتری اور سیاسی حل ایک چیز نہیں۔ ایک فوج کسی علاقے کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے، لیکن پائیدار سیاسی کنٹرول قائم کرنا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ستمبر 2026 میں بھی غزہ کے تقریباً 2.1 ملین باشندوں کی بڑی تعداد بے گھر، بنیادی سہولیات کی کمی اور شدید انسانی مشکلات کا سامنا کر رہی تھی۔ اصل خطرہ شاید نقشہ نہیں، طاقت کا بکھراؤ ہے مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا مسئلہ شاید یہ نہیں کہ کون سا ملک ’’نیل سے فرات تک‘‘ پہنچنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ خطے کی ریاستیں داخلی تقسیم، فرقہ وارانہ کشمکش، معاشی انحصار، کمزور اداروں اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے باعث اپنی اجتماعی قوت استعمال نہیں کر پا رہیں۔ ایک طرف اسرائیل کو امریکا کی مضبوط فوجی و سیاسی حمایت حاصل ہے۔ دوسری طرف ایران نے غیر ریاستی مسلح گروہوں کے ذریعے اپنا علاقائی اثر بڑھایا ہے۔ خلیجی عرب ریاستیں اپنی سلامتی کے لیے امریکہ، جدید ہتھیاروں اور سفارتی شراکت داری پر انحصار کرتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ریاست بمقابلہ ریاست جنگ کی جگہ کئی سطحوں پر جاری پراکسی، میزائل، ڈرون، سائبر، معاشی اور سیاسی جنگ نے لے لی ہے۔ اور اس پورے کھیل میں سب سے زیادہ نقصان اکثر عام انسان کا ہوتا ہے۔ 1979 کے بعد اصل تبدیلی کیا تھی؟ 1979 کے بعد اسرائیل اچانک ناقابلِ شکست نہیں ہوگیا، اور نہ ہی یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ ایران نے کسی خفیہ منصوبے کے تحت عرب فوجوں کو ختم کرنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ سازش کی۔ لیکن ایک بڑی تاریخی تبدیلی ضرور آئی۔ عرب۔اسرائیل تنازع اب مشرقِ وسطیٰ کی واحد مرکزی کشمکش نہیں رہا۔ اس کے ساتھ ایران۔سعودی عرب رقابت، شیعہ۔سنی سیاسی کشمکش، امریکا۔ایران تنازع، ترکی۔عرب اختلافات، داخلی خانہ جنگیاں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی طاقت بھی شامل ہوگئی۔ یہی وہ تبدیلی ہے جس نے خطے کو پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیا۔ اس لیے اگر سوال یہ ہو کہ 1979 سے پہلے اسرائیل کے سامنے زیادہ متحد عرب ریاستی محاذ تھا یا بعد میں؟ تو تاریخی شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ 1979 کے بعد علاقائی طاقت کا ڈھانچا زیادہ بکھرا ہوا ہوگیا۔ لیکن اگر سوال یہ ہو کہ کیا ایران اسرائیل کا خفیہ محافظ ہے؟ تو اس دعوے کے لیے قابلِ اعتماد ثبوت درکار ہیں۔ موجودہ شواہد اس کے برعکس یہ دکھاتے ہیں کہ ایران اور اسرائیل ایک طویل اور شدید دشمنی میں مبتلا ہیں، جس میں براہِ راست حملے اور پراکسی جنگ دونوں شامل ہیں۔ اور شاید یہی اس پورے تنازعے کا سب سے تلخ سبق ہے مشرقِ وسطیٰ میں مسئلہ صرف دشمن کی طاقت نہیں؛ مسئلہ اپنی طاقت کا بکھر جانا بھی ہے۔ عرب دنیا اگر واقعی فلسطین اور اپنے اجتماعی مفادات کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو اسے محض نعروں کے بجائے مضبوط ریاستی اداروں، معاشی خود انحصاری، سیاسی استحکام، علاقائی سفارت کاری اور باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔ کیوںکہ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں۔ کبھی کبھی قومیں اس وقت ہارتی ہیں جب وہ قابل حل مسائل کو بھی بندوق کے زور سے حل کرنے کے جنون میں مبتلا ہو جاتی ہیں اور مذاکرات کے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑتیں۔ 

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل