Wednesday, September 30, 2026
 

سانحہ 9 مئی کے ملزم کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست خارج

 



لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ 9 مئی کے ملزم کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے اور بیرون ملک سفر کی اجازت دینے کی درخواست خارج کردی۔ جسٹس منور اقبال دوگل نے درخواست گزار کی پٹیشن پر 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد عثمان خان پیش ہوئے، جنہوں نے درخواست گزار کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی مخالفت کی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت چالان شدہ ملزم کا پاسپورٹ قانون کے تحت ضبط تصور ہوتا ہے۔ اے ٹی سی ایکٹ کے تحت پاسپورٹ کی ضبطی کا اختیار اور مدت طے کرنا متعلقہ عدالت کا کام ہے، جبکہ پاسپورٹ کی ضبطی ختم کرنے اور بیرون ملک جانے کی اجازت کا اختیار صرف متعلقہ انسداد دہشت گردی عدالت کے پاس ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ہائیکورٹ آئینی دائرہ اختیار میں براہ راست ٹرائل کورٹ کا اختیار استعمال نہیں کرسکتی۔ ملزم کو بیرون ملک سفر کی اجازت کے لیے متعلقہ انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع کرنا ہوگا۔ پاسپورٹ کنٹرول یا اسٹاپ لسٹ سے نام نکلنے سے بھی قانونی ضبطی خود بخود ختم نہیں ہوتی۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کوئی بھی انتظامی حکم نامہ یا اسٹینڈنگ آرڈر پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون پر اثر انداز نہیں ہوسکتا، جبکہ محض ضمانت منظور ہونا پاسپورٹ کے استعمال یا بیرون ملک سفر کی خودکار اجازت نہیں بنتا۔ عدالت نے ڈویژن بینچ کے ’’فیڈریشن بنام شیخ رشید احمد‘‘ کے فیصلے کی نظیر کو برقرار رکھا۔ ملزم کے خلاف تھانہ سرور روڈ میں 9 مئی واقعات کا مقدمہ نمبر 96/23 درج ہے۔ فیصلے میں ایف آئی اے اور امیگریشن حکام کے 6 مئی اور 19 مئی کے اقدامات کو قانون کے مطابق قرار دیا گیا۔ لاء افسر محمد عثمان خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈویژن بینچ کے فیصلے کے مطابق یہ اختیار صرف انسداد دہشت گردی عدالت کا ہے اور درخواست گزار کو ہائیکورٹ کے بجائے متعلقہ انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل