Loading
ایران کے اقوام متحدہ میں مشن نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبِیو نے ایرانی وفد کو مذاکرات میں تعطل کے بعد فوری طور پر امریکا چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔
ایرانی مشن کے مطابق ایرانی وفد پیر کی شام پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق نیویارک سے روانہ ہوا تھا اور اس شیڈول سے امریکی محکمہ خارجہ کو بھی 17 ستمبر کو آگاہ کردیا گیا تھا۔ ایرانی مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی میڈیا کی رپورٹ کو ’بے بنیاد اور بے وقعت خبر‘ قرار دیا۔
یہ وضاحت امریکی میڈیا ادارے ’ایکسیوس‘ کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی جس میں ایک امریکی عہدیدار اور معاملے سے باخبر ایک دوسرے ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مارکو روبِیو نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے وفد کو پیر کے روز فوری طور پر نیویارک چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق یہ اقدام امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں تعطل کے بعد کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعد بھی نیویارک میں موجود تھے اور قطر کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ بالواسطہ رابطوں میں شریک رہے۔ ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، جنگ کے خاتمے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کی بحالی جیسے معاملات زیر بحث رہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کے بعد روبِیو نے ایرانی وفد کی واپسی کا فیصلہ کیا، تاہم ایرانی مشن کا کہنا ہے کہ وفد کی روانگی پہلے ہی طے شدہ تھی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عراقچی اور ان کا وفد منگل کی صبح نیویارک سے روانہ ہوا، جبکہ امریکی دعوے کے مطابق انہیں مقررہ وقت سے پہلے روانہ ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔
The Iranian delegation left New York on Monday evening, in accordance with the schedule that had also been communicated to the U.S. Department of State in advance on September 17. Having achieved nothing, the State Department has resorted to propagating baseless and worthless…
— I.R.IRAN Mission to UN, NY (@Iran_UN) October 1, 2026
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان قطر سمیت علاقائی ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز، پابندیوں اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل