Loading
الحمد للہ ، ہمارے محبوب وزیر اعظم ، جناب محمد شہباز شریف صاحب ، دو ہفتوں پر محیط طویل غیر ملکی دَورے کے بعد پاکستان واپس تشریف لاچکے ہیں۔ اُن کی وطن واپسی،دوروز قبل،30ستمبرکو ہُوئی ہے۔ آپ 15ستمبر کے بعد پاکستان سے امریکہ کے لیے روانہ ہُوئے تھے۔
استنبول کے راستے پہلے وہ لندن پہنچے۔لندن میں جناب نے پانچ روزہ قیام فرمایا ۔ کیوں قیام فرمایا ،اِس بارے آن دی ریکارڈ ہمیں کم کم معلومات دستیاب ہیں ۔ پانچ روزہ لندنی ریلیکس ( کہ آخر اُنہیں بھی شبانہ روزقومی مصروفیات کے کارن ذہنی سکون اور جسمانی آرام کی ضرورت ہے) کے بعد پھر وہ اپنے عملے کے ہمراہ نیویارک پہنچے ۔ نیویارک میں واقع اقوامِ متحدہ کی پُر شکوہ عمارت میں اُنہیں جنرل اسمبلی (UNGA) کے سالانہ(81ویں) اجلاس سے خطاب فرمانا تھا ۔
وزیر اعظم جناب شہباز شریف نے، 25ستمبر، کوUNGAسے خطاب فرمایا اور خوب ہی فرمایا۔ کوئی ایسا گوشہ نہیں چھوڑا جس کا ذکر ضروری تھا۔ جناب وزیر اعظم کی کوریج کے لیے نیویارک گئے ہمارے کچھ صحافیوں نے UNGAمیں اُن کے خطاب کی تعریف وتوصیف میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ بعض قومی اخبارات نے جناب وزیر اعظم کے اِس دَورئہ نیویارک کو ’’نہائت کامیاب‘‘ گردانا ہے ۔
ہمارے ہر حکمران کا ہر غیر ملکی دَورہ ہمیشہ ’’نہائت کامیاب‘‘ ہی گردانا جاتا ہے ، مگر شومئی قسمت سے اِن لاتعداد اور ’’بے انتہا ‘‘کامیاب غیر ملکی دَوروں کے باوصف قوم اور ملک کا کوئی معاشی بھلا سامنے نظر نہیں آ رہا۔ ہمارے ملکی و قومی قرضے ( جو برسرِ اقتدار آنے والے ہر حکمران نے بغیر کسی وقفے کے حاصل کیے ہیں) اِن غیر ملکی ’’ کامیاب دَوروں‘‘ کے باوجود کم ہو سکے نہ ختم کیے جا سکے ۔یہ بھاری قرضے بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔غریب پاکستانی کی کمر ٹوٹ رہی ہے ۔
ہمارے وزیر اعظم صاحب نے UNGAمیں خطاب میں امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، کی خوب تعریف کی ۔ جواباً ٹرمپ نے بھی شہباز شریف صاحب کی تعریف کر دی ۔ ہم اِسی میں پھُولے نہیں سما رہے ۔ مگر اِس جوابی تعریف سے پاکستانی عوام کا کیا بھلا ہُوا؟ پٹرول و ڈیزل کی کمر توڑ قیمتیں کم ہُوئی ہیں نہ ملک میں کمر شکن مہنگائی کا گراف نیچے آ سکا ہے ۔ آج کل پاکستان آیا IMFکا وفد پھر شہباز حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ ٹیکسز میں مزید اضافے کیے جائیں ۔ جواب میں حکومت نے ،مبینہ طور پر،IMFکے کارندوں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ’’ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام کو منتقل کیا جائے گا۔‘‘مطلب ابھی پٹرول و ڈیزل و گیس کے مزید بم عوام پر گرنے والے ہیں۔ عوام کمر کس لیں۔ یہ صلہ ملا ہے پاکستانی عوام کو ایران ،امریکہ صلح کروانے کا؟ یا ہمارے حکمرانوں کے مسلسل غیر ملکی ’’کامیاب‘‘ دَوروں کا؟ عوام پر گرتے مہنگائی کے بم رک رہے ہیں نہ وزیر اعظم صاحب کے غیر ملکی دَورے ۔
جناب وزیر اعظم ، شہباز شریف صاحب ، جب ستمبر کے وسط میں برطانیہ و امریکہ کے دَوروں پر روانہ ہُوئے تھے ، اُن کے روانہ ہوتے ہی ( بتاریخ18ستمبر 2026ء) کوہاٹ میں دہشت گردوں نے مسجد اور پولیس لائن پر خود کش حملہ کرکے دو درجن کے قریب بیگناہ پاکستانیوں کو خون میں نہلا دیا ۔100سے زائد شدید زخمی ہُوئے ۔ وزیر اعظم صاحب نیویارک ہی میں تھے کہ 26ستمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ’’دراندازہ‘‘ میں دہشت گردوں کا ایک اور ہلاکت خیز خود کش حملہ ہُوا۔ اِس خونریز حملے میں بھی درجن سے زائد پاکستانی شہادتوں کالال کفن اوڑھ کرقبروں میں چلے گئے۔
سارا ملک ماتم میں چلا گیا۔ اندازہ تھا کہ شائد اِن خونیں سانحات کی خبر پا کر جناب وزیر اعظم نیویارک کا دَورہ منسوخ کرکے واپس وطن آ جائیں گے۔ ایسا مگر نہ ہو سکا۔ اُنھوں نے البتہ باوجود دونوں بڑے سانحات کی شدید الفاظ میں مذمت ضرور کی۔ جناب وزیر اعظم نیویارک سے واپسی پر (دوبارہ) لندن ہی میں قیام پذیر تھے کہ صومالیہ کے بحری قذاقوں کی یرغمالی میں( پچھلے چار مہینوں سے مسلسل قید) پاکستانیوں کو چھڑاتے ہُوئے تین پاکستانی قتل اور اتنے ہی زخمی کر دیے گئے۔ افسوس تو یہ ہے کہ پچھلے چار ماہ کے دوران مذکورہ پاکستانی قیدیوں کو صومالی بحری قذاقوں کی گرفت سے چھڑانے کے لیے ہمارے حکمران کچھ بھی نہ کر سکے۔مقتولین کے وارثان اشکباری سے شکوہ کررہے ہیں کہ کسی پاکستانی حکمران نے ہمارے ساتھ ہمدردی اور تعزیت نہیں کی ہے۔ اب مرنے والے پاکستانیوں کی میتیں ائر لفٹ کی جا رہی ہیں ۔ پھر غریب و لاچار پاکستانیوں ہی کے گھر اُجڑ ے ہیں۔
نیویارک سے واپسی پر جناب وزیر اعظم نے (29ستمبر2026ء کو) لندن میں LSE( لندن اسٹاک ایکسچینج)سے خطاب بھی فرمایا ہے اور یوں اِس فورم سے خطاب کرنے والے کسی پہلے پاکستانی وزیر اعظم کا اعزاز بھی اپنے نام لکھوا لیا ۔ جناب شہباز شریف نے LSEسے خطاب کے دوران بڑے رسان سے فرمایا: ’’خلیجی بحران نہ ہوتا تو ہم بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکے ہوتے ۔‘‘ عجب اتفاق ہے کہ سابق وزیر اعظم (اور بانی پی ٹی آئی ) نے بھی اپنے دَورِ اقتدار میں ایسے ہی الفاظ ادا کرکے اپنی معاشی ناکامیوں کا بالواسطہ اقرار کیا تھا: ’’ اگر کورونا کا بحران نہ آتا تو ہماری حکومت ترقیوں کی منازل طے کر چکی ہوتی ۔‘‘ یہ بحران بھی خیر سے ہمارے حکمرانوں کے لیے عذر خواہی (Excuses) کا بہانہ بن جاتے ہیں اور قوم بیکسی اور لاچاری میں اپنے ہی سر پر خاک ڈالتی رہ جاتی ہے : مقدر کی لکیروں پر بھروسہ کر لیا مَیں نے/ بس اپنی ہار کا یہ اِک بہانہ ڈھونڈ نکالا!!
سوال کیا جارہا ہے کہ اگر ہمارے وزیر اعظم صاحب نیویارک اور لندن کا پندرہ روزہ دَورہ نہ فرماتے تو پاکستان کو کیا نقصان ہو جاتا ؟ اور اگر یہ دَورہ کر لیا گیا ہے تو پاکستان اور پاکستانی عوام کے حصے میں کیا آیا ہے؟ ذرا بیلنس شیٹ تو نکالیے اور دکھائیے۔ پلیز ۔بانی پی ٹی آئی نے اپنے ساڑھے تین سالہ دَورِ اقتدار میں ، دانستہ ، دو بار UNGAکے سالانہ اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی تو پاکستان کو کیا نقصان پہنچ گیا تھا؟ اور اگر پچھلے سال کی مانند اِس برس بھی بھارتی وزیر اعظم (نریندر مودی) نےUNGA کے سالانہ اجلاس میں شرکت نہیں کی ہے تو بھارت کو کہاں اور کتنا نقصان پہنچا ہے ؟بھارت نے اِس بار بھی اپنے وزیر خارجہ(جئے شنکر) کو UNGA بھجوا کر اپنا کام چلا لیا ہے ۔ اور اب جب کہ وزیر اعظم صاحب دو ہفتوں کی طویل غیر حاضری کے بعد پاکستان تشریف لا چکے ہیں تو کئی سنگین مسائل منہ کھولے اُن کے سامنے کھڑے ہیں۔
جماعتِ اسلامی منتظر ہے کہ پٹرولیم لیوی پرکیا گیا وزیر اعظم شہباز شریف کا وعدہ اب کب اور کیسے پورا کیا جائے گا؟ روکا گیاکسان اتحاد الگ سے اسلام آباد پر چڑھائی کے لیے پر تول رہا ہے۔ اپنے وعدے کے مطابق4اکتوبر کو پی ٹی آئی ، اپنے صوبائی وزیر اعلیٰ کی زیر قیادت، اسلام آباد پر یلغار کا واضح الفاظ میں اعلان کررہی ہے ۔وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ فضاؤں میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کی دھمکی موجود ہے۔ وزیر اعلیٰ KPK پسپا ہونے سے انکاری اور اُن کے الفاظ تخت یا تختہ کے غماز ہیں۔ایک پی ٹی آئی لیڈر نے اسلام آباد کو ’’سومنات‘‘ کہہ ڈالا ہے ۔ افسوس ۔
4اکتوبر کو ’’کالعدم کشمیر ایکشن کمیٹی ‘‘والے بھی نئے انداز سے ایکشن کا عندیہ دے رہے ہیں۔ 5اکتوبر کو بانی پی ٹی آئی کی سالگرہ بھی ہے ۔ پی ٹی آئی کے اندر بھی بے حد بے چینی ہے ۔وزیر اعلیٰ، سہیل آفریدی، نے مایوسی سے کہا ہے :’’ ہماری پارٹی کے اندر بھی ہمیں کئی میر جعفروں اور میر صادقوں کا سامنا ہے ۔‘‘ نجانے کل کیا ہونے والا ہے ؟ یہ سوال ہر پاکستانی کے سر پر تلوار بن کر لہرا رہا ہے۔ وزیر اعظم صاحب ’’ بے پناہ‘‘ کامیابیاں سمیٹ کر غیر ملکی دَوروں سے وطن واپس تو تشریف لا چکے ہیں ، مگر اُن کی واپسی پر متنوع بحران سر اُٹھائے کھڑے ہیں ۔ قوم اُمیدوار ہے کہ اب حل کی کنجی جناب وزیر اعظم کے ہاتھ ہی میں ہے ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل