Loading
پاکستان تحریک انصاف سکیرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے انکشاف کیا ہے کہ مذاکرات والے روز حکومت سے دو اہم نکات پر بات چیت ختم ہوگئی، ہم نے دو مطالبات مذکرات میں رکھے جس پر حکومت آنے کو تیار نہیں تھی۔
اسلام آباد میں پی ٹی آئی وکلاء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ حکومت کے وزیر مذکرات کے حوالے سے غیر اہم باتیں کر رہے ہیں، مذکرات کے دو دور ہوئے جو بغیر نتیجہ ہی ختم ہوئے۔ مذاکرات کے پہلے روز ہم اجلاس کے بعد پشاور گئے جہاں ہماری مذاکراتی کمیٹی نے وزیر اعلیٰ اور کابینہ سے ملاقات کرکے دہشت گردی کے معاملے پر بریفنگ لی۔
انہوں ںے بتایا کہ ہمارے دو بڑے مطالبات تھے کہ ایک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائی جائے، بانی پی ٹی آئی کے بغیر پی ٹی آئی کوئی فیصلہ نہیں کرے گی۔ مذکرات میں جو ڈیڈ لاک آیا وہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا خاتمہ تھا، ہمارا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے جرگے کو سنا جائے، انہیں رد کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔
پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ہم آج امن جرگہ کی دستاویزات دکھائیں گے جس پر مسلم لیگ ن، اے این پی سمیت دیگر جماعتوں کے دستخط موجود ہیں۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہم ہر مسودے پر باری باری بڑھے، محسن نقوی بہت مرتبہ اجلاس چھوڑ کر باہر گئے، رات 8 بجے تک ہم کئی نکات پر متفق ہوگئے لیکن پھر رات 2 بجے معالجین کی بات پر متفق نہ ہوئے، 72گھنٹے والے معاملے پر بھی بات ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ آخری بات سب باتوں پر بھاری تھی، مذاکرات میں ہمارا تقاضا تھا کہ ہماری آج ملاقات کروائی جائے اور ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ معاہدہ ہوا تو منگل کو وکلا اور بہنوں کی ملاقات کروا دی جائے گی، پھر یہ بھی کہا گیا کہ آئندہ سے ملاقاتیں بحال ہو جائیں گی۔ علامہ ناصر عباس کی ملاقات کے معاملے پر بھی بات ہوئی۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ طے پایا کہ اگر معاہدہ ہوا تو تمام اسیران کو رہا کر دیا جائے گا، معمر اور خواتین کی رہائی پر بھی بات مثبت انداز میں بڑھ رہی تھی، اسی لیے یہ تاثر سامنے آیا کہ مذاکرات کامیابی کے قریب ہیں تاہم بانی کے معالجین اور خیبر پختونخوا کے معاملے پر مذاکرات کی بات ٹوٹ گئی۔
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے سالار سہیل آفریدی ہیں اور ہم ان کا ساتھ دیں گے، ہم سہیل آفریدی کے مؤقف کے ساتھ ہیں، کے پی میں جو بھی فیصلہ ہوگا وہ سب کی مشاورت سے ہونا چاہیے، ہم سب مل کر ملک کو استحکام کی جانب لے کر جا سکتے ہیں۔
پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ ہم آج بھی کہتے ہیں قربتوں کو دوریوں میں نہ بدلا جائے، ہم اس دن معاملات کے حل کے قریب تھے لیکن ایک دم قربت کو دوری میں بدل دیا گیا۔ حکومتی کمیٹی نے کہا کہ ہم نہیں دیتے ذاتی معالجین کو رسائی، ہم نہیں کرتے متفقہ لائحہ عمل پر کام، پھر ہم کیا کریں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ایک بھی فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے متعدد فیصلے ہیں جن کو نہیں مانا گیا، اب تو اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچنا بھی مشن نا ممکن بن چکا ہے۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی فکسیشن برانچ ویسے تو کیسز مقرر نہیں کرتی، جب باہر ٹمپریچر اتنا ہائی ہے تو اس کیس کو مقرر کرنا چاہیئے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل