Loading
لاہور ہائیکورٹ میں سولہ سالہ لڑکی بازیابی کیس کی سماعت ہوئی، مغوی خاتون کو عدالت میں پیش کر دیا گیا
عدالت نے بازیابی کیس نمٹا دیا۔
عدالت نے خواتین اور بچوں کی زیر التواء بازیابی کیسز کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار نے کہا کہ میں نے مقدمہ درج کرایا تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کون ہے اپنایا لگتی ہے، درخواست گزار نے کہا کہ یہ میری بیٹی ہے،عدالت نے کہا کہ آپ کی ملاقات ہو گئی، درخواست گزار نے کہا کہ جی ملاقات ہو گئی ہے۔
عدالت نے کہا کہ چلو یہ مسئلہ تو حل ہو گیا،چیف جسٹس نے کہا کہ آئی جی صاحب آپ بتائیں،بچوں خواتین کی بازیابی کیسز کینیا تفصیلات ہیں۔
آئی جی نے کہا کہ بچوں اور خواتین کی بازیابی درخواستوں کے لیے کمیٹیاں بنائیں،2021 سے کام کر رہی ہیں، جب کام شروع کیا 3200 تھیں اب پانچ سو کے قریب کیسز ہیں۔
عدالت نے کہا کہ آپ نے کبھی سوچا بچی گھر پر نہ ہو تو گھر والوں پر کیا گزرتی ہے، پانچ سو کیسز بہت زیادہ ہیں، ان کیسز کو ایک منٹ نہیں لگنا چاہیے، اب تک کتنی بچیاں ریکور ہوئیں، ایک ٹرینڈ چل رہا ہے کہ لڑکی نے ایسا کر لیا ہو گا ویسا ہو گیا ہو گا، یہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، آئی جی صاحب آپ اپنی رپورٹ پیش کریں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل