Sunday, October 11, 2026
 

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور امن کی تلاش

 



 ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملہ، آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہاز کی تباہی، باب المندب کے قریب خونریز جھڑپیں اور امریکا و ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی ایک ہی بحران کے مختلف رخ ہیں۔ ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب کسی ایک ملک یا محاذ تک محدود تصادم کا سامنا نہیں کر رہا، بلکہ ایک ایسا علاقائی بحران تشکیل پا چکا ہے جس میں کسی ایک مقام پر ہونے والی عسکری کارروائی دوسرے خطوں کی معیشت، سلامتی اور سیاسی استحکام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس صورتِ حال کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ جنگ کے اہداف اور اس کے نتائج کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ امن کی طرف واپسی کے لیے درکار اعتماد مسلسل کمزور ہو رہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان کارروائیوں سے حملوں کی صلاحیت مستقل طور پر محدود ہو رہی ہے یا جوابی حملوں کا ایک ایسا سلسلہ جنم لے رہا ہے جس میں ہر فریق اپنے اقدامات کو دفاع اور مخالف کی کارروائیوں کو جارحیت قرار دیتا ہے؟ اگر فضائی حملوں کے جواب میں میزائل حملے اور میزائل حملوں کے ردعمل میں مزید بمباری جاری رہے تو شہری آبادی مسلسل عدم تحفظ کا شکار رہے گی۔ یمن کا طویل بحران پہلے ہی انسانی المیے، معاشی تباہی اور ریاستی اداروں کی کمزوری کی علامت بن چکا ہے۔ اس سرزمین پر مزید خونریزی نہ صرف یمنی عوام کے مصائب میں اضافہ کرے گی بلکہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان واقع اہم بحری راستوں کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈالے گی۔ باب المندب کی اہمیت محض جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے ملانے والی اہم گزرگاہ ہے۔ اسی طرح آبنائے ہرمز خلیجی تیل اور گیس کی عالمی منڈیوں تک ترسیل میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ان دونوں راستوں پر بیک وقت کشیدگی پیدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عالمی تجارت کے دو اہم دروازے غیر یقینی صورت حال کی زد میں ہیں، اگر ان گزرگاہوں سے جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف تیل کی قیمتوں پر نہیں پڑے گا، بلکہ مال برداری، بیمے، صنعتی پیداوار، بجلی کی لاگت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں تک منتقل ہوگا۔ اس طرح ایک علاقائی جنگ عالمی مہنگائی کا محرک بن سکتی ہے، جس کا بوجھ ان ممالک کے شہریوں کو بھی اٹھانا پڑے گا جو اس تنازع میں براہِ راست شریک نہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز سے باہر بھی مبینہ خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کے تعاقب اور کارروائی کی دھمکی نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، اگر سمندری پابندیوں اور جوابی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو تنازع کو کسی ایک گزرگاہ تک محدود رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ امریکا کی جانب سے خلیجِ عمان میں ایک تجارتی جہاز کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ بھی اسی وسیع تر محاذ آرائی کا حصہ ہے، جس میں بحری ناکہ بندی، جہازوں کی تلاشی، راستوں کی پابندی اور طاقت کے استعمال کو دباؤ بڑھانے کے ذرائع کے طور پر اختیار کیا جا رہا ہے۔ مگر بحری ناکہ بندی اور جہازوں پر حملوں کے قانونی جواز کا تعین محض عسکری اعلانات سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے بین الاقوامی قانون، سمندری ضابطوں، متعلقہ فریقوں کے حقوق اور شہری عملے کے تحفظ کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ جنگی مقاصد کے حصول کے نام پر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا معمول قائم ہو گیا تو اس کے نتائج کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں عارضی کمی اس حقیقت کو بھی نمایاں کرتی ہے کہ توانائی کی تجارت محض پیداوار اور طلب کے اصولوں سے نہیں، بلکہ سیاسی بیانات اور جنگی خدشات سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نومبر میں وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہ کرنے کے بیان کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت میں کمی ہوئی، تاہم اس کا ایک سو ڈالر فی بیرل سے بلند رہنا بتاتا ہے کہ بازاروں کا اضطراب ابھی ختم نہیں ہوا۔ سرمایہ کار کسی سیاسی بیان کو اس وقت تک پائیدار ضمانت نہیں سمجھتے جب تک اس کے ساتھ عملی اقدامات، قابلِ اعتماد سفارتی پیش رفت اور رسد کے تحفظ کے ٹھوس انتظامات موجود نہ ہوں۔ آج قیمتیں کسی اعلان پر نیچے آ سکتی ہیں، لیکن اگر اگلے روز کسی جہاز پر حملہ ہو جائے یا آبنائے ہرمز میں آمدورفت مزید محدود ہو جائے تو یہی منڈی دوبارہ شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔صدر ٹرمپ کی جانب سے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو مصنوعی قرار دینا اور تیل کمپنیوں کے منافع پر تنقید اپنی جگہ، لیکن موجودہ صورتِ حال کی وضاحت صرف تجارتی اداروں کی مبینہ لالچ سے نہیں کی جا سکتی۔ جنگی خطرات، جہازوں کے بیمے کی بڑھتی ہوئی لاگت، متبادل بحری راستوں کے اخراجات، ریفائنریوں کی ضروریات اور رسد میں ممکنہ رکاوٹیں قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں۔ اگر تیل کی ترسیل معمول پر بھی آ جائے تو جنگ سے وابستہ خطرات کے باعث بازار میں شامل اضافی لاگت فوراً ختم نہیں ہوتی۔ ترقی پذیر معیشتوں کے لیے یہ صورتِ حال بالخصوص تشویش ناک ہے، کیونکہ مہنگا تیل درآمدی بل بڑھاتا، مقامی کرنسی پر دباؤ ڈالتا اور نقل و حمل سے لے کر بجلی کی پیداوار تک اخراجات میں اضافہ کرتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں اس کا اثر محض سرکاری اعدادوشمار تک محدود نہیں رہتا، عام شہری کے لیے یہ سفر، خوراک، روزگار اور گھریلو بجٹ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت اور ایک امریکی شہری کی ہلاکت کا ذکر اس بات کی علامت ہے کہ جنگ کے انسانی نقصانات اب بین الاقوامی سفارتی تعلقات میں بھی مزید حساسیت پیدا کر رہے ہیں۔ شہریوں کی ہلاکت کسی بھی فریق کے لیے محض اعدادوشمار نہیں ہونی چاہیے۔ شہری ہوائی اڈوں، تجارتی جہازوں اور آبادیوں کو خطرات سے محفوظ رکھنا بین الاقوامی انسانی قانون کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہر فریق کو یہ ثابت کرنا چاہیے کہ اس کی کارروائیاں فوجی ضرورت، تناسب اور شہری تحفظ کے اصولوں کے مطابق ہیں۔ محض مخالف کی کارروائیوں کی مذمت کافی نہیں، اپنے اقدامات کے قانونی جواز اور انسانی نتائج کا احتساب بھی ضروری ہے۔ جب شہری جانوں کے تحفظ کا اصول انتخابی انداز میں استعمال ہونے لگے تو عالمی نظام پر اعتماد کمزور پڑتا ہے اور ہر فریق اپنے مفاد کے مطابق قانون کی تشریح کرنے لگتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال عالمی طاقتوں کے لیے بھی ایک کڑا امتحان ہے، اگر امریکا، ایران، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک اپنے اپنے عسکری اہداف کو حتمی ترجیح دیتے رہے تو ہر کامیابی کے بعد ایک نیا محاذ کھلنے کا امکان برقرار رہے گا۔ اس کے برعکس، اگر فریقین یہ تسلیم کر لیں کہ آبنائے ہرمز، باب المندب، شہری ہوائی اڈوں اور تجارتی جہازوں کا تحفظ مشترکہ مفاد ہے تو اختلافات کے باوجود محدود سمجھوتوں کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ بحری آمدورفت کی حفاظت، انسانی امداد کی فراہمی، شہری آبادی کے تحفظ اور جنگ بندی کی نگرانی کے لیے مشترکہ کوششوں کو ترجیح دے۔ اس مقصد کے لیے ایسے سفارتی رابطوں کی ضرورت ہے جو کسی فریق کی غیر مشروط فتح کے بجائے تمام متعلقہ ریاستوں کے جائز تحفظات اور خطے کے طویل مدتی استحکام کو سامنے رکھیں۔پاکستان کے لیے بھی اس صورتِ حال کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ خطے میں جنگ کا پھیلاؤ توانائی کی درآمدات، تجارتی روابط، مہنگائی اور قومی سلامتی پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس لیے پاکستان کا مفاد محض کسی ایک فریق کی حمایت یا مخالفت کے اظہار میں نہیں، بلکہ کشیدگی کم کرنے، رابطوں کو برقرار رکھنے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں ہے۔ سفارتی کوششوں کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ضروری ہوگا کہ پاکستان اپنے علاقائی روابط اور بین الاقوامی تعلقات کو ذمے داری سے بروئے کار لائے، جبکہ تمام متعلقہ فریقوں کو یہ باور کرائے کہ مسلسل جنگ کسی کے لیے محفوظ مستقبل کی ضمانت نہیں۔ جنگ بندی کے لیے مؤثر ثالثی اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب وہ محض خیرسگالی کے بیانات سے آگے بڑھ کر قابلِ تصدیق اقدامات، واضح ذمے داریوں اور پائیدار سیاسی حل کی طرف لے جائے۔ بالآخر مشرقِ وسطیٰ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس کی بندرگاہیں، ہوائی اڈے اور سمندری راستے عالمی تجارت کے پل بنیں گے یا ایک ایسی جنگ کے محاذ جس کی آگ سرحدوں سے نکل کر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ ریاض کے ہوائی اڈے سے آبنائے ہرمز تک پھیلا ہوا بحران خبردار کر رہا ہے کہ عسکری برتری کا حصول اگر سیاسی بصیرت سے خالی ہو تو اس کی قیمت کئی نسلوں کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ایک روزہ کمی، کسی جہاز کے تباہ ہونے یا کسی میزائل حملے کے بعد ہونے والی جوابی کارروائی سے زیادہ اہم یہ ہے کہ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے سنجیدہ اور قابلِ اعتماد راستہ اختیار کیا جائے۔ طاقت کا حقیقی امتحان صرف دشمن کو نقصان پہنچانے میں نہیں، بلکہ ایسے حالات پیدا کرنے میں ہے جن میں مزید خون بہانے کی ضرورت باقی نہ رہے۔ اگر عالمی قیادتیں اس حقیقت کو تسلیم کر لیں تو سفارت کاری محض جنگ کے درمیان وقفہ نہیں، بلکہ امن کی طرف واپسی کا راستہ بن سکتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل